پی ٹی آئی حکومت نے قبائلی عوام کی 70 سالہ محرومیوں کا ازالہ کر دیا، محمود خان

  • قبائلی اضلاع کا قومی دہارے میں شامل ہونا پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی اہم ترین کامیابی ہے
  • قبائلی اضلاع تک صحت سہولت پروگرام کی توسیع سے ان اضلاع میں بسنے والے عوام کو مفت صحت سہولیات فراہم ہونگی، وزیر اعلیٰ خیبرپختونوا

پشاور(الاخبار نیوز)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ قبائلی اضلاع کا قومی دہارے میں شامل ہونا تحریک انصاف کی وفاقی اور صوبائی حکومت کی اہم ترین کامیابی ہے۔ جس کی بدولت قبائلی اضلاع میں زندگی بسر کرنے والے عوام کی ستر سالہ محرومیوں کا خاتمہ ہو چکاہے۔ یہاں سے جاری ایک بیان میں محمود خان نے واضح کیا ہے کہ دس ماہ کے قلیل عرصے میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے اپنے وسائل سے قبائلی اضلاع میں اہم ترین منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ جس سے قبائلی اضلاع کے عوام کو موجودہ حکومت کی ترجیحات کا واضح اندازہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 28000خاصہ دار اور لیویز اہلکاروں کے صوبائی پولیس میں انضمام سے صوبائی حکومت نے در اصل قبائلی اضلاع کے 28000خاندانوں کو ذریعہ معاش فراہم کیا ہے۔ جبکہ قبائلی اضلاع تک صحت سہولت پروگرام کی توسیع سے ان اضلاع میں بسنے والے عوام کو مفت صحت سہولیات فراہم کی جاچکی ہےں۔ انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کو ان اضلاع کی محرومیوں کا بخوبی اندازہ ہے اور اسی وجہ سے ان اضلاع کی ترقی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے بلاسود قرضے فراہم کئے جارہے ہیں جس کی بدولت نوجوان نسل اپنے مستقبل کو خود سنوارسکے گی۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی اور تاریکی کا دور ختم ہو چکاہے او راب ہمارے سامنے ترقی کے بے پناہ مواقع میسر ہےں۔ وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ آنے والے دس سال قبائلی اضلاع کی ترقی اور خوشحالی کا دور ہو گا جس میں ترقیاتی منصوبوں پر سو ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی قبائلی عوام کی مشاورت سے کی گئی ہے اور ترقی کے اس سفر میں عوامی ترجیحات کو ہر صورت فوقیت دی جائیگی۔ محمود خان نے کہا کہ قبائلی عوام کے لئے یہ امرنہایت خوش آئندہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ قبائلی عوام کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دینے کےلئے انتخابات کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ اس طرح قبائلی عوام اپنے نمائندوں کے ذریعے اپنی ترقی اور فلاح کے فیصلوں میں براہ راست شریک ہو سکےںگے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی میں قبائلی عوام کی نمائندگی سے ایک طرف ان کے احساس محرومی کا خاتمہ ہو گا اور دوسری طرف قبائلی اضلاع کی ترقیاتی منصوبہ بندی کا عمل بھی مزید مو¿ثر اور نتیجہ خیز ہو گا کیونکہ قبائلی اضلاع کے مقامی نمائندے وہاں کے مسائل ، ضروریات اور مشکلات کے حل کے لیے خود آواز بلند کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب قبائل کی پس ماندگی ماضی کا حصہ بن جائے گی ، نئے اضلاع کی تیز تر ترقی و خوشحالی اس وقت مرکزی اور صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے ، جس پر ابھی تک سمجھوتہ کیا ہے اورنہ آئندہ سمجھوتہ کریں گے۔

Scroll To Top