بیگم صفدر اورانکی جماعت کی تاریخ سمجھوتوں سے عبارت ہے،فردوس عاشق اعوان

  • سمجھوتے چاہے ذاتی ہوں یا سیاسی، تاریخی سمجھوتوں کا شکارخاندان کس منہ سے اصولوں کی بات کرتا ہے
  • ن لیگ سیاسی منافقت کا شکار ہے، اس کا بیانیہ پنکچر ہوچکا، ان کو بوکھلاہٹ میں کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا کہیں اور کیا نہ کہیں،معاون خصوصی برائے اطلاعات کی پریس کانفرنس

اسلام آباد (الاخبار نیوز) معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) سیاسی منافقت کا شکار ہے، اس کا بیانیہ پنکچر ہوچکا ہے، مریم صفدر نے الٹے سیدھے انٹرویوز نہ دیے ہوتے تو ابو جیل، بھائی مفرور نہ ہوتے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ن لیگ والوں کو بوکھلاہٹ میں کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا کہیں اور کیا نہ کہیں،مسلم لیگ (ن) سیاسی منافقت کا شکار ہے، ایک طرف کہتے ہیں کہ وزیراعظم کی حیثیت کیا ہے؟ دوسری طرف واویلا کررہے ہیں سب کچھ عمران خان کرارہے ہیں۔تضادات سے بھر پور دعوو¿ں والی جماعت کابیانیہ پنکچر ہو چکا ہے۔ انہوں نے مریم نواز پر تنقید کرتے کہا کہ بیگم صفدر صاحبہ اوران کی جماعت کی تاریخ سمجھوتوں سے عبارت ہے، وہ سمجھوتے چاہے ذاتی ہوں یا سیاسی، تاریخی سمجھوتوں کا شکارخاندان کس منہ سے اصولوں کی بات کرتا ہے۔مسلم لیگ ن عوام کی نہیں خواص کی جماعت رہی ہے، مزاحمت اوراصول پسندی آپ کے خمیر میں ہی نہیں،آپ حکومت میں ہوں تو لوگوں کے گلے پکڑتے ہیں، آپ اقتدار سے باہر ہوں تو پاو¿ں پڑجاتے ہیں، جمہوریت کی پیٹھ پرچھرا گھونپا گیا جب آپ کے بڑوں نے پیسے لئے، آپ کے بڑوں نے یونس حبیب سے پیسے لے کرآئی جے آئی بنائی۔ایک سوال کے جواب میں فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ سرور پیلس میں سرورکرنے والوں کے منہ سے جمہوریت کی بات مضحکہ خیز ہے، پرنس مقرّن کا لہرایا ہوا معاہدہ عوام کے ذہنوں میں تازہ ہے، آپ نے اپنے دور اقتدار میں ہر قدم پر سمجھوتے کئے، چاہے مشاہد اللہ خان کا استفعی ہو یا پرویز رشید کا۔بیگم صفدراعوان صاحبہ آپ اپنی بےگناہی کے ثبوت عدالت میں پیش کریں، کسی کو بلیک میل کرنے کی کو شش نہ کریں، آپ نے ہمیشہ صرف حسب منشا عدالتوں اور ان کے فیصلوں کا احترام کیا، آپ نے الٹے سیدھے انٹرویوز نہ دیے ہوتے تو ابوجیل، بھائی مفرور نہ ہوتے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے عوام عام انتخابات میں کرپشن کیخلاف نکلے، عوام نے عمران خان کو لٹیروں سے حساب لینے کا مینڈیٹ دیا جبکہ جمہوریت کو لہو لہان کرنے کا سہرا ہمیشہ آپ کے سر رہا، ورثے میں ملی حیثیت عوامی رنگ اور طاقت سے محروم ہوتی ہے۔بیگم صفدر صاحبہ، آپ کے نزدیک وہ آواز آزاد جو آپ کےمفاد میں ہو، ایک اخبار کا ایک صفحے پر چھپنا قارئین کے ذہن میں ابھی تک تازہ ہے، دراصل پہلی بار انہونیاں ہو رہی ہیں قانون کا یکساں اطلاق شروع ہو چکا ہے، لوٹے ہوئے مال کی واپسی کا خواب حقیقت بن رہا ہے، لوٹا ہوا مال اب واپس کرنا پڑ رہا ہے یہی تکلیف انہیں کھارہی ہے۔

Scroll To Top