اس نظام کو دفن کون کرے گا ؟ یہ کالم اس سے پہلے 28اپریل 2012ءکو بھی شائع ہوا تھا

قوموں کی تاریخ میں کچھ لمحات ایسے بھی آیا کرتے ہیں جب وقت چلتے چلتے اچانک رک جاتا ہے اور پھر اپنارُخ موڑکر اپنا سفر دوبارہ شروع کردیتا ہے۔
26اپریل کی صبح کو ہم نے ٹی وی سکرین پر جو مناظر دیکھے وہ کسی بھی لحاظ سے ایک آزاد ذمہ دار اور باشعور قوم کے لئے باعث ِ فخر نہیں تھے۔ سید یوسف رضا گیلانی عدالت کا فیصلہ سننے کے لئے کچھ اس آن بان شان اور اہتمام کے ساتھ سپریم کورٹ کی طرف گئے اور کچھ اس اعتماد اور تفاخر کے ساتھ عمارت میں داخل ہوئے جیسے وہ توہینِ عدالت کا ارتکاب کرنے والے ملزم نہیں تھے ` ایک جابر اور استعماری نظام کے خلاف جدوجہد کرنے والی کسی ایسی قومی تحریک کے ہیرو تھے جس نے حق و انصاف اور ملی غیرت کا پرچم بلند رکھنے کا تہیہ کر رکھا ہو۔
میں سمجھتا ہوں کہ جس لمحے فاضل عدالت نے اپنا فیصلہ سنانا شروع کیا اس سے پہلے کے پچیس تیس منٹ کچھ ایسے تھے کہ یوں لگا جیسے ایک طرف تو قوم کی ایک بہت ہی غالب اکثریت عدالت کے فیصلے میں اپنی قومی امنگوں کی تکمیل دیکھنے کی ` بے چینی کے ساتھ منتظر ہے ` اور دوسری طرف اسی قوم کا ایک گروہ تاریخ کے صفحات پر یہ تاثر رقم کرنے پر تُلا ہوا ہو کہ سید یوسف رضا گیلانی جس عدالت کے سامنے پیش ہورہے ہیں اس سے انہیں انصاف ملنے کی امید اس لئے نہیں کہ وہ اسی عدالتی نظام کی توسیع ہے جس نے پاکستان پیپلزپارٹی کے پہلے وزیراعظم کو تختہ دار پر بھیجا تھا۔
میرا مقصد یہاں نہ تو اس عدالتی فیصلے کے کسی بھی پہلو پر تبصرہ کرنا ہے جو 26اپریل 2012ءکو صبح ساڑھے نو بج کر تیس سیکنڈ پر ایک سات رکنی بنچ کی طرف سے جسٹس ناصر الملک نے سنایا اور جس کی رو سے پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی توہینِ عدالت اور عدلیہ کی تضحیک کرنے کے مرتکب قرار پائے اور جس کے تحت انہیں ” تابرخاست عدالت “ سزاکا سامنا کرنا پڑا ` اور نہ ہی میں ان مناظر کو تفصیل کے ساتھ زیرِ بحث لاﺅں گا جن کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ سید یوسف رضا گیلانی کی صورت میں قوم کو ایک اور ” غازی علم الدین شہید “ مل گیا ہے۔ میرا مقصد یہاں صرف اس امر کی نشاندہی کرناہے کہ جب جسٹس ناصر الملک ملک کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو آئین کی دفعہ 63جی (1)کے تحت توہین و تضحیک ِعدالت کے جرم میں سزا سنا رہے تھے ` تو وقت واقعی ایک لمحے کے لئے رک گیا تھا۔ اور اس ایک لمحے کے وقفے میں وقت نے واقعی اپنا رُخ بھی موڑ لیا تھا۔ مجھے یہ یقین ہے کہ یہ صرف میرا ہی تاثر نہیں ` وطن ِ عزیز کے ہر اس ذی نفس کا تاثر بھی ہوگا جو پاکستان کو اپنا آئندہ کا سفر کسی نئی جہت میں اور کسی نئی راہ پر جاری رکھتا دیکھنا چاہتا ہے۔
1956ءمیں ایسا ہی ایک لمحہ فرانس کی تاریخ میںبھی آیا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب فرانس کی چوتھی ری پبلک کے آخری وزیراعظم گائی مولے نے استعفیٰ دیا تھا اور فرانسیسی دانشوروں اور اکابرین کے ایک گروہ نے فرانس کے ایک جنگی ہیرو جنرل )ر(چارلس ڈیگال سے ملاقات کی تھی جس کا مقصد انہیں یعنی جنرل ڈیگال کو اس بات پر آمادہ کرنا تھا کہ فرانس کے دیمک زدہ سیاسی نظام کے علاج کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔
جنرل ڈیگال نے جواب دیا تھا۔ ” اس سیاسی نظام کو علاج کی نہیں کفن دفن کی ضرورت ہے۔ اگر ہم فرانس کو ان عظمتوں سے ہمکنار کرانا چاہتے ہیں جن کا وہ مستحق ہے تو ہمیں اسے اس بیمار دیمک زدہ پارلیمانی نظامِ حکومت کی جگہ ایک ایسا فعال اور قوت بخش نظام دینا پڑے گا جو عوام کی خواہشات کا ترجمان ہونے کے ساتھ ساتھ تعمیر و ترقی کے مسلّمہ تقاضوں پر بھی پورا اترتا ہو۔ اب ضرورت نئی حکومت اور نئے وزیراعظم کی نہیں ` نئے نظام اور نئی ری پبلک کی ہے۔“
یوں جنرل (ر)چارلس ڈیگال کی سربراہی میں فرانس کی ففتھ یعنی پانچویں ری پبلک نے جنم لیا جو آج بھی قائم ہے اور جس کے چھٹے صدر کے انتخاب کا پہلا مرحلہ گزشتہ دنوں مکمل ہوا اور دوسرا مرحلہ 6مئی 2012ءکو طے پائے گا۔ سات مئی 2012ءکی صبح کو جب فرانس بیدار ہوگا تو اسے معلوم ہوگا کہ آنے والے برسوں میں اس کی تقدیر کے فیصلے کرنے والے شخص کا نام سرکوزی ہے یا ہالنڈے۔
ایک فعال اور صحت مند سیاسی نظام وہی ہوتا ہے جو سیاسی جوڑ توڑ کا محتاج ہونے کی بجائے عوامی امنگوں کا نقیب اور مظہر ہو۔
ملکوں اور قوموں کو ترقی کے لئے قیادت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اور بہترین قیادت وہی ہوتی ہے جس کا انتخاب براہ راست عوام نے کیا ہو اور جو عوام کی عطا کردہ طاقت کو نتائج آفرین اور مضبوط فیصلوں کے روپ میں ڈھالنے کا مکمل اختیار رکھتی ہو۔ یہ درست ہے کہ یہ اختیار ایک مقرر کردہ مدت کے لئے ہوتا ہے۔ اور اس مدت کے خاتمے پر قیادت کو پھر عوام سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ اور یہ بھی درست ہے کہ جمہوریت میں ایک ادارہ پارلیمنٹ کے نام سے بھی ہوتا ہے جس کے بغیر کوئی سیاسی نظام نہیں چل سکتا۔ مگر جو بات بنیادی اہمیت کی حامل ہے وہ یہ ہے کہ جب کوئی لیڈر عوام کی اکثریت کا اعتماد حاصل کرکے ملک و قوم کے بارے میں تمام ضروری فیصلے کرنے کا اختیار حاصل کرلیتا ہے تو وہ ” جو ڑ توڑ “ کے کسی عمل کا محتاج نہیں رہتا۔ اور جہاں تک پارلیمنٹ کا تعلق ہے اس کا کام صرف قوانین بنانا ` قوانین پر نظرثانی کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ملک کی انتظامیہ یا قیادت آئینی حدود سے تجاوز نہیں کررہی۔ اس کام میں بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ آخری اور حتمی اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہوتا ہے۔ اس ضمن میں مثال ہم امریکہ کی سپریم کورٹ کی دے سکتے ہیں جس کا ہر فیصلہ خود بخود آئین کا درجہ اختیار کرلیتا ہے۔
فرانس نے تو 1956ءمیں اُس بوسیدہ سیاسی نظام کو دفن کردیا تھا جو اس کے تباہ کن بحرانوں اور عدم استحکام کا سبب تھا ۔ پاکستان اپنے بوسیدہ سیاسی نظام کو کب دفن کرے گا۔؟
کہا جاتا ہے کہ سید یوسف رضا گیلانی کا انتخاب عوام نے کیا۔ اس تاثر کو بعیداز حقیقت ثابت کرنے کے لئے صرف اس بات کی طرف توجہ مبذول کرانا کافی ہوگا کہ گزشتہ انتخابات 18فروری2008ءکو ہوئے تھے۔ انتخابات کے بعدکئی دنوں تک نہ تو سید یوسف رضا گیلانی کو یہ معلوم تھا کہ وہ کون سی ذمہ داریاں سنبھالنے والے ہیں `اور نہ ہی قوم یہ جانتی تھی کہ اس کی تقدیر کے فیصلے کرنے کا اختیار کس کے ہاتھوں میں جانے والا ہے۔
کیا یہ حقیقت نہیں کہ مارچ 2008ءمیں پاکستان کے نئے چیف ایگزیکٹو کا تقرر عوام نے نہیں جناب آصف علی زرداری نے محض اپنی صوابدید پر کیا تھا۔؟
اور کیا یہ بھی حقیقت نہیں کہ خود زرداری صاحب کاا نتخاب (بطور صدر)عوام نے نہیں کیا تھا بلکہ اس جوڑ توڑ کا نتیجہ تھا جس سے عوام کی خواہشات کا کوئی تعلق نہیں تھا۔؟
بات صدارتی نظام یا پارلیمانی نظام کی نہیں۔ بات قیادت کے انتخاب میںعوام کی براہ راست شرکت کی ہے۔
جو نظام اس بنیادی جمہوری اصول کی نفی کرتا ہو ` اسے جمہوری کہنا جمہوریت کی توہین ہے۔
ہمارے جو لیڈر بھی قوم کی قیادت کا اختیار اپنے ہاتھ میں لینے کے خواہشمند ہیں انہیں خود چاہئے کہ جس نظام میں چیف ایگزیکٹو کے انتخاب کا حق عوام کو حاصل نہیں اور جس نظام میں چیف ایگزیکٹو کا تقرر فردِ واحد کرتا ہو ` اس نظام کو دفن کردینے کی تحریک خود شروع کریں۔
ورنہ ایک اور سید یوسف رضا گیلانی پاکستان اور اس کے عوام کو ویسی قیادت نہیں دے پائے گا جیسی قیادت قوموں کو شاہراہ ِترقی پر گامزن کیا کرتی ہے۔
میں اختتام پر یہاں ڈیگال کا ہی ایک جملہ درج کروں گا۔
” ایک وقت میں قوم کو ایک ہی لیڈر کی ضرورت ہوتی ہے ۔ شرط صرف یہ ہے کہ اس لیڈر کا انتخاب خود قوم کرے۔“

Scroll To Top