کیا ہم نے 1973ءکے آئین کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا راستہ اختیار نہیں کیاہے ؟

کون نہیں جانتا کہ ابلیس ایک ایسا جن تھا جو قادرِ مطلق کی پرستش میں کسی بھی فرشتے سے پیچھے نہیں تھا۔ اسے تکّبر لے ڈوبا۔ تکّبر نے اسے آدم ؑ کو سجدہ کرنے سے روکا اور اللہ تعالیٰ نے اِس نافرمانی کی سزا اسے یہ دی کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے واصل بہ جہّنم ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ رحیم و کریم اور غفور و رحمان ہے لیکن جرمِ تکّبر اور جرمِ نافرمانی اسے کسی بھی صورت میں قبول نہیں۔
ہم نے پاکستان بنایا تو قرار دادِ مقاصد کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر عہد کیا کہ یہاں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت قائم کریں گے اور ان تمام قوانین کا نفاذ کریں گے جن کا تعین اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں بڑے واضح الفاظ میں کردیا ہے۔
کتنی دہائیاں گزر گئیں جب ہم نے یہ عہد کیا تھا؟ کیا ہم نے اس عہد کی تکمیل کے لئے کوئی بھی قدم اٹھایا۔؟ کیا اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق قوانین نافذ ہوئے۔؟ کیا1973ءکا آئین اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق بنایا؟
پھر چند ” گروہی سرداروں“ کی مشترکہ منشاءکا مظہر تھا؟
جس consensusیا ” اتفاق ِ رائے “ کے حق میں قصیدے لکھے اور پڑھے جاتے ہیں اگر اس پر عملدرآمد ہوتا تو آنحضرت ﷺ کو مکہ سے ہجرت نہ کرنی پڑتی۔آپﷺ کے رب اور سردارانِ مکہ کے خداﺅں کے درمیان کوئی consensusممکن نہیں تھا۔
آج جب وزیراعظم عمران خان پاکستان کو ریاست ِ مدینہ کا ” ظہورِ ثانی “ بنانا چاہتے ہیں تو خود بخود یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہم نے ملک میں وہ حکومتی نظام نافذ کرلیا ہے جو ریاستِ مدینہ میں نافذ تھا اور جس کے بغیر ” حاکمیتِ الٰہی“ ممکن ہی نہیں۔؟
کیا ہم اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے مرتکب نہیں ہوئے۔؟ اور کیا یہ ارتکابِ نافرمانی ایک ” عملِ مسلسل“ نہیں۔؟
مجھے وزیراعظم عمران خان کے ” عزمِ عالیشان“ کی صداقت پر ذرا برابر بھی شک نہیں مگر یہ سوال ا±ن سے ضرور پوچھوں گا کہ بنیادیں کفر کی ہوں تو اس پر ریاستِ مدینہ کی عمارت کیسے کھڑی ہوگی ؟
کیا حضرت عمرفاروق ؓ کو کسی شہبازشریف، کسی خواجہ آصف یا کسی بلاول بھٹو کے اختلاف کا سامنا تھا ؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ خدا کی حا کمیت میں خدا کی جماعت یا ” حزب اللہ “ کے علاوہ اور کسی جماعت کی گنجائش نہیں۔ دوسری ہر جماعت کو قرآن میں فرقہ ، فتنہ اور شر قرار دیا گیا ہے۔۔۔
جمہوریت ” حزب اللہ “ کے اندر تھی۔
امیر،حکمران یا خلیفہ کا انتخاب جمہوری اصولوں کے مطابق ہوتا تھا لیکن اس کے بعد اختلاف رائے ہوتا تھا۔ بغاوت نہیں ہوتی تھی۔
آج کے دور میں اسلام کا سیاسی نظام چین میں نافذ ہے۔ امریکہ بڑی حد تک اس نظام کے قریب قریب ہے۔
مگر جو نظام ہم نے 1973ءکے آئین کے ذریعے اختیار کیا وہ نِرا شر ` اور نِرا فتنہ ہے۔ اِس نظام میں ریاست ِ مدینہ قائم ہوگی ؟
وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے آپ سے پوچھیں :
” کیا ہم خدا کے نافرمان نہیں ؟“
” کیا ہم نے اللہ تعالیٰ کو دھوکہ نہیں دیا ؟“
” کیا ہم جرمِ بغاوت کے مرتکب نہیں ہوچکے۔۔۔؟“

Scroll To Top