کے پی کے کے اتنے سارے جغادری لیڈروں کی نیندیں کیو حرام ہورہی ہیں ؟ 03-06-2015

خیبر پختون خوا میں عمران خان کی تحریک انصاف نے بلدیاتی انتخابات میںجو برتری حاصل کی ہے اس کے ردعمل میں ان کے خلاف ” نفرت کا ایک طاقتور اتحاد“ کھڑا ہوگیا ہے۔ یہ اتحاد ایسی قوتوں کا ہے جو ماضی میں ایک دوسرے کی دشمن رہی ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ جنرل پرویز مشرف کے دور تک خیبر پختونخوا میں پاکستان پیپلزپارٹی اے این پی اور جے یو آئی ایک دوسرے کے خلاف اقتدار کی جنگ لڑتی رہیں۔ جماعت اسلامی نے 2002ءکے انتخابات میں جے یو آئی کے ساتھ مل کر ایم ایم اے کو جنم دیا تھا۔
تحریک انصاف سے پہلے خیبر پختونخوا کا سیاسی منظر نامہ دائیں بازو اور بائیں بازو میں منقسم تھا۔ اب تمام بازو عمران خان کا راستہ روکنے کے لئے متحد ہوچکے ہیں۔
مجھے اس ضمن میں روف کلاسرا کا تجزیہ بہت اچھا لگا۔ وہ اے آر وائی پر اپنے نئے پروگرام میں عامر متین کے ساتھ بحث کرتے ہوئے کہہ رہے تھے۔ ” اب اس حقیقت میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں رہی کہ سٹے ٹس کو کی تمام تر قوتوں کو کے پی کے میں اپنی موت نظر آرہی ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے کامیاب انعقاد نے سارے جغادری سیاستدانوں کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ کامیاب انعقاد میں اس لئے کہوں گا کہ تاریخ میں پہلی بار کے پی کے جیسے صوبے میں41ہزار کے لگ بھگ حلقوں میں انتخابات ہوئے ہیں اور ہر سطح پر گاﺅں گاﺅں عوام کو براہ راست سیاسی عمل میں شرکت کرنے کا موقع ملا ہے۔
قتل و غارت کے پی کے کے کلچر کا حصہ ہے۔ اور دھاندلی کا شور اٹھنا کوئی نئی بات نہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان نے حقیقی جمہوریت کے دروازے صرف کے پی کے میں نہیں کھولے بلکہ پورے ملک کے لئے کھول دیئے ہیں۔ اب زرداری صاحب اور میاں برادران کے لئے اقتدار میں عوام کی شرکت کا راستہ روکنا ناممکن ہوجائے گا۔“
روف کلاسرا نے میاں افتخار حسین کی گرفتاری پر ہونے والے شور و غوناپر تبصرہ کرتے ہوئے کہا۔
” انصاف سب کے لئے برابر ہوتا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ میاں افتخار حسین کے خلاف غلط ایف آئی آر کٹی ہو مگر اسے غلط ثابت کرنے کے لئے سیاسی بیانات کافی نہیں۔ اگر میاں افتخار حسین اس لئے چھڑالئے جاتے ہیں کہ وہ سیاسی لیڈر ہیں اور سینکڑوں دیگر سینکڑوںلوگ غلط ایف آئی آر کٹنے کی وجہ سے لمبے عرصے تک صعوبتیں برداشت کرتے رہتے ہیں تو یہ انصاف کی عصمت دری ہوگی۔ اگر میاں صاحب غلط طور پر بھی گرفتار ہوئے ہیںتو انہیں اپنی بے گناہی عدالت میں ثابت کرنی چاہئے سیاسی لیڈروں کے بیانات کے ذریعے نہیں۔“
یہاں دو اور قابل ذکر باتیں بھی ذہن میں آرہی ہیں۔ ایک تو یہ کہ تحریک انصاف کے وزیرعلی امین گنڈا پور بھی گرفتار ہو کر ہتھکڑیوں کے ساتھ عدالت میں پیش کئے گئے ہیں اور انہیں بھی ایک دن کا ریمانڈ ملا ہے۔
اور دوسری یہ کہ فائرنگ میں ہلاک ہونے والے پی ٹی آئی کے ورکر کے والد کو کیسے یقین ہو ا کہ اس کا بیٹا ایسی گولی کا نشانہ نہیں بناجو میاں افتخار حسین کے حکم سے چلائی گئی ہو۔۔۔۔

Scroll To Top