خان اسفند یار ولی سود سمیت حساب کس سے لیں گے ؟ 02-06-2015

ہمارا میڈیا جب چاہے جس کو چاہے اٹھاکر آسمان پر بٹھا دیتا ہے۔ اور جب چاہے جس کو چاہے گھسیٹ کر اپنے قدموں کے نیچے لے لیتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کل میڈیا میں اکثریت ایسے اینکر پرسنز تجزیہ کاروں اور نیوز کاسٹرز کی ہے جو عمران خان اور تحریک انصاف کو ” پنچنگ بیگ“ کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ نیوز کاسٹرز کا پسندیدہ جملہ یہ بن کر رہ گیا ہے کہ ”تبدیلی آگئی ہے“۔
یہ جملہ کے پی کے کے بلدیاتی انتخابات کے دوران خبروں اور تبصروں میں بڑی کثرت کے ساتھ استعمال ہوا ہے جب بھی کسی نیوز کا سٹر کو یا تجزیہ کار کو کوئی منفی بات کرنی ہوتی ہے یا زہراگلنا ہوتا ہے تو وہ بڑی طنز و حقارت کے ساتھ معصومیت سے کہہ دیتا (یا کہہ دیتی)ہے کہ ” تبدیلی آگئی ہے“۔میں اسے مسلم لیگ (ن)کی میڈیا مینجمنٹ کی کامیابی کہوں گا۔ گزشتہ برس نومبر کے مہینے تک میڈیا کا لب و لہجہ کافی حد تک معتدل اور objectiveتھا۔ اس کے بعد میاں نوازشریف اینڈ کمپنی کی شفقتوں نے اپنا کمال دکھایا۔ میڈیا مالکان بھی ”رام “ ہوئے اور سرکردہ تجزیہ کار بھی رام کئے گئے۔ میاں صاحب میڈیا کے لوگوں کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ اس کا اندازہ اُن کے دائیں بائیں بیٹھے لوگوں سے لگایا جاسکتا ہے ۔ کچھ ایسے بھی ہیں جو ان کا دستر خوان آباد کرتے ہیں۔ یہاں مجھے احمد فرازکا ایک پرانا شعر یاد آتا ہے ۔ یہ شعر مجھے یونیورسٹی کے زمانے میں بڑا پسند تھا۔
”جھکنے والوں نے رفعتیں پالیں “
ہم خودی کو بلند کرتے رہے “
جُھکنے والوں نے گزشتہ چند ماہ میں بڑی رفعتیں پائی ہیں۔ کہیں کسی صحافی کا پلازہ تعمیر ہورہا ہے اور کہیں پیٹرول پمپس کی تعداد بڑی رہی ہے۔چینل مالکان کو بھی اپنی طاقت کا اندازہ ہوگیا ہے۔ وہ ایک طرف ہارون رشید کو بٹھا دیتے ہیں اور دوسر ی طرف حبیب اکرم کو۔
اے آر وائی بھی اب پیچھے نہیں رہا۔ کبھی کبھی مجھے یوں لگتاہے کہ ارشد شریف کی چمڑی کے نیچے سے جناب پرویز رشید بول رہے ہوں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ سارے کاسارا گلستان اجڑ گیا ہے۔ اب بھی کاشف عباسی `ڈاکٹر معید پیرزادہ ` رﺅف کلاسرا ` عامر متین اور ڈاکٹر دانش جیسے لوگ موجود ہیں۔ شاید انہیں احساس ہے کہ حکومت کے قصیدے پڑھنے کے لئے پی ٹی وی کا فی ہے۔
بہرحال یہ بڑی لمبی بحث ہے۔ میں یہاں بات کے پی کے کے بلدیاتی انتخابات تک محدود رکھنا چاہتا ہوں۔
کوئی شک نہیں کہ ان انتخابات میں بہت بڑے پیمانے پر بدنظمی دیکھنے میں آئی۔ اس کی بڑی وجہ ایک یہ بھی ہے کہ الیکشن کمیشن کو اپنی ذمہ داریوں کے حجم کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔ اور شاید چالیس ہزار سے زیادہ نمائندوں کے انتخاب کا عمل صوبائی حکومت کی گرفت میں بھی آنے والا نہیں تھا۔ یہ جنگ گلی گلی اور محلے محلے میں لڑی گئی۔ اور ایک ایسے معاشرے میں لڑی گئی جس میں بندوق مرد کا زیور شمار ہوتی ہے۔ جو کچھ بھی دیکھنے میں آیا پختون کلچر اور مزاج کا آئینہ دارہے۔ پنجاب کے بعض علاقوں میں بھی ایسا ہی کلچر اور مزاج پایا جاتا ہے۔ یہ قبائلی اور جاگیر دارانہ نظام کی خرابی ہے جس پرقابو پانے کے لئے بہت بڑے فکری انقلاب کی ضرورت ہے۔
ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرلینی چاہئے کہ ایسے فکری انقلاب کے لئے عمران خان کے پاس کوئی تنظیم نہیں۔ پاکستان میں واحد منظم جماعت پاکستان آرمی ہے۔ میری اس بات پر جمہوریت پسند چونکیں گے اور تلملائیں گے۔ مگر یہ وہ سچ ہے جسے ہضم کئے بغیر ہم پاکستان میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکیں گے۔آخر میں میاں افتخار حسین کی بات کروں گا۔ اُن کی گرفتاری کا افسوس خود عمران خان کو بھی ہوا ۔ لیکن کیا وزراءیا سابق وزراءکے لئے استثنیٰ کا الگ قانون ایک ایسے ملک کو زیب دیتا ہے جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا؟۔ یہ ایک بے گناہ کے قتل کا معاملہ ہے۔ اگر میاں افتخار حسین بے گناہ ہیں تو چھوٹ جائیں گے۔ فی الحال جو حقیقت سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ سرحدی گاندھی کے چیلوں نے ایسی گولیاں چلائیں جن کی زد میں آکر ایک معصوم نوجوان اپنی جان کھو بیٹھا۔
جہاں تک علی امین گنڈا پور کا معاملہ ہے ` اس پر قتل کا مقدمہ نہیں ۔ بہرحال قانون کو اُن کے خلاف بھی حرکت میں آناچاہئے۔
آخر میں اسفند یار ولی خان کی اس دھمکی کا ذکرکروں گا جس میں کہا گیا ہے کہ ” ہم سود سمیت حساب لیں گے ۔“
خان صاحب آپ کی جماعت ابھی تک1947ءسے پہلے کے زمانے میں رہ رہی ہے۔

Scroll To Top