” میرا دل نہیں مانتا کہ کوئی مسلمان حاکم اسقدر امیر ہوسکتا ہے!“

میں نے کئی مرتبہ پہلے بھی حضرت عمر فاروق ؓ اور حضرت عمر و العاص ؓ کے درمیان خط و کتابت کا ذکر کیا ہے جو اس تناظر ہوئی تھی کہ امیر المومنین ؓ کو یہ شکایات موصول ہوئی تھیں کہ مصر اور فلسطین کے فاتح اور گورنر حضرت عمر والعاص ؓ نے سادگی ترک کرکے قیصر و کسریٰ کے انداز کی زندگی اختیار کرلی ہے اور ان کی دولت میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

جواب طلبی اور باز پرس پر حضرت عمر العاص ؓ نے دلائل کے ساتھ امیر المومنینؓ کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ۔ بڑی حد تک کامیاب بھی رہے لیکن آخر میں حضرت عمرفاروق ؓ نے لکھا۔
” عاص کے بیٹے۔۔۔ میرے دل میں تمہارے لئے بڑی عزت ہے۔ تمہاری وضاحت بڑی مدلّل ہے۔ تمہارے دلائل میں وزن بھی بہت ہے۔ مگر کیا کروں کہ دل نہیں مانتا کہ کوئی مسلمان حاکم اس قدر امیر ہوسکتا ہے۔ تمہارے حق میں بہتر یہی ہوگا کہ تمہاری ضرورتوں سے زیادہ جتنا بھی مال تمہارے پاس ہے وہ بیت المال میں جمع کرادو تاکہ ان لوگوں کی ضروریات پوری کی جاسکیں جو تم سے کم خوش نصیب ہیں۔تم میرے اس مشورے کو انتباہ بھی سمجھو اگر تم نے میری ہدایت پر عمل نہ کیا تو تمہیں پابہ ءزنجیر مدینہ لایاجائے گا۔“
یہاں اس بات کی نشاندہی ضروری ہے کہ حضرت عمروالعاص ؓ بھی حضرت خالد بن ولید ؓ کی طرح ایک عظیم سالار اور ایک جلیل القدر صحابی تھے۔
بدقسمتی سے یہ معاملہ ادھورا یوں رہ گیا کہ چند روز ہی بعد حضرت عمر فاروق ؓ نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔۔۔
میں نے اس خط و کتابت کا ذکر اس ہڑتال کے تناظر میں کیا ہے جو ہماری غریب تاجر برادری نے کی اور اس ہڑتال کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ ٹیکس ادا کرنا غریب صارفین کا فرض ہے۔”غریب“ تاجروں پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔۔۔

Scroll To Top