پہلی مرتبہ نہیں جب تاجر تنظمیوں نے حکومتی فیصلے تسلیم کرنے سے انکار کیا

  • بیشتر تاجر تنظمیں دہائی دے رہیں کہ حکومت آئی ایم ایف کے ایماءپر ٹیکس نیٹ ورک بڑھا رہی
  • تاجر تنظمیوں میںسے بعض ایسی بھی ہیں جو اگر مگر کےساتھ حکومتی شرائط تسلیم کرنے پر آمادہ ہیں
  • حکومت کو ٹیکس لینے کےساتھ بنیادی ضروریات زندگی بھی فراہم کرنا ہونگی جن کے بغیر گزارہ نہیں
  • بااثر لوگوں سے ٹیکس لینے کا سلسلہ شروع ہوا تو لامحالہ مڈل کلاس بھی اپنا حصہ ڈالنے پر آمادہ ہوگی

سوال یہ نہیں کہ 13جولائی کو ہونے والی تاجروں کی ہڑتال کس قدر کامیاب رہی اور کتنی ناکام بلکہ معاملہ یہ ہے کہ آخر کب تک 22 کروڈ کی آبادی میں سے محض چند لاکھ افراد ٹیکس دے کر اپنا فرض ادا کرتے رہیں گے ۔ ادھر آل پاکستان انجمن تاجران کے جنرل سیکریٹری کے بعقول تاجر تنظمیں بجٹ مسترد کرتی ہیں، وزیر اعظم عمران خان اس حوالے سے تاجروں سے مذاکرت کریں۔ “ بیشتر تاجر تنظمیں یہ دہائی بھی دے رہیں کہ دراصل حکومت آئی ایم ایف کے ایماءپر ٹیکس نیٹ ورک بڑھا رہی جو انھیں کسی صورت قبول نہیں۔ اس معاملہ کی تاریخ سے آگاہ افراد جانتے ہیں کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں جب تاجر تنظمیوں نے حکومتی اقدامات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ، حقیقت یہ ہے کہ اس سے ملتی جلتی صورت حال مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کے دور میں بھی دیکھی جاچکی جب کاروباری طبقہ اعلانیہ طور پر سرکاری احکامات کی تکمیل سے انکاری دکھائی دیا۔ مثلا جب پی پی پی دور میں زیروریٹنگ کی سہولت متعارف کروائی گی جس کے تحت مختلف مصنوعات پر سیلز ٹیکس میں چھوٹ دی گی کہ برآمدات میں اضافہ ہوسکے تو مذکورہ سکیم کے جائز استمال بارے شکوک وشبہات کا اظہار کیا گیا۔ اب وزیر اعظم عمران خان نے زیرو ریٹنگ سکیم کا خاتمہ کردیا جس پر تاجروں نے برملا اظہار ناپسندیدگی کیا ۔ حکومت کی جانب سے شناختی کارڈ کی شرط پر بعض تاجر تنظمیوں کا موقف ہے کہ اس اقدام سے بہت ساری گھریلو صنعتیں متاثر ہونگی ، ان کے بعقول جن حضرات سے ان کا لین دین ہے وہ ٹیکس نیٹ میں نہیںآنا چاہتے ، لہذا ان کے کاروبار پر منفی اثرات پڑنے کے امکانات ہیں۔ دوسری طرف چیرمین ایف بی آر شبر زیدی کا کہنا ہے کہ شناختی کارڈ کی سہولت صرف رجسرڈ سیلز ٹیکس دہندگان کے لیے ہے جن کی تعداد چالیس ہزار ہے یعنی ہر کوئی شناختی کارڈ کی شرط کا پابند نہیں ہوگا۔
بعض حلقوں کا خیال ہے کہ مذکورہ مسلہ بات چیت کے زریعہ حل ہی کیا جاسکتا ہے اس کی وجہ یہ کہ تاجر تنظمیوں میںسے بعض ایسی بھی ہیں جو اگر مگر کے ساتھ حکومتی شرائط تسلیم کرنے پر آمادہ ہیں چنانچہ ناممکن نہیں کہ فریقین بتدریج آگے بڑھیں۔ باشعور پاکستانی کے ہر کوئی تسلیم کرتا ہے کہ ٹیکس کے بغیر دنیا کی کوئی بھی معیشت اپنے پاوں پر کھڑی نہیں ہوئی۔ عصر حاضر کسی بھی ترقی یافتہ ریاست میں یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ کوئی فرد یا گروہ سرکار کی جانب سے عائد کردہ ٹیکس سے انکاری ہو۔ مگر معاملہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ حکومت کو ٹیکس لینے کے ساتھ عام شہریوں کو وہ بنیادی ضروریات زندگی بھی فراہم کرنا ہونگی جن کے بغیر گزارہ نہیں۔مثلا کون انکار کریگا کہ ارض وطن کے بیشتر شہروں میں پینے کاصاف پانی دستیاب نہیں، سرکاری ہسپتالوں کی حالت زار بھی کسی سے ڈھکی چپھی نہیں۔ یہ بھی مبالغہ آرائی نہیں کہ بیشتر سرکاری دفاتر میںرشوت ستانی عام ہے کسی جائز کام کے لیے بھی مٹھی گرم کیے بغیر گزارہ نہیں۔ سرکاری محکموں میں میرٹ کی پامالی سے بھی ہر کوئی واقف ہے ، نااہل کی ترقی یا اور اہل کی تنزلی بھی ہمارے ہاں معمول بن چکا۔ بظاہر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے لیے ٹیکس نیٹ ورک کا منصوبہ اسی وقت کامیاب ہوگا جب ابتدا طاقتور لوگوں سے کی جائے ۔ ملک کے بااثر لوگوں سے ٹیکس لینے کا سلسلہ شروع ہوا تو لامحالہ مڈل کلاس بھی اپنا حصہ ڈالنے پر آمادہ ہوگی۔
ایک خیال یہ ہے کہ کم وبیش سترسال سے جاری رجحان فوری طور پر نہیں بدل سکتا۔ پی ٹی آئی منتخب ہوکر اقتدار میں آئی ہے چنانچہ بہترین حکمت عملی یہی ہے کہ تاجر برداری ہی نہیں عام شہریوں کی بھی تربیت کی جائے ۔میڈیا کے زریعہ حکومتی زمہ دار بار بار وضاحت کریں کہ جب تک ٹیکس نہیں دیا جائیگا قومی مسائل حل نہیں ہونے والا۔ وزیر اعظم عمران خان اور ان کی ٹیم کو یقین دلانا ہوگا کہ لوگوں کے ٹیکس کا پیسہ ضائع نہیں ہوگا۔ آسان الفاظ میں یوں کہ ایک طرف ٹیکس دینے والے شہریوں کے معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے حکومت اقدمات اٹھائے گی تو دوسری جانب ان تمام طاقتور لوگوں کو نشان عبرت بنانے میں بھی دیر نہیں کی جائیگی جو قومی خزانے پر بلاواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ڈاکہ مارنے کے مرتکب ہو ئے ہیں۔
وطن عزیز میں جمہوریت ہے چنانچہ یہ امید کرنا خلاف حقیقت نہیں کہ عوام کے منتخب نمائندے عوام کو قومی زمہ داریوں کا احساس دلاتے ہوئے ان کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔ یقینا جمہوریت کچھ لو اور کچھ دو ہی نام ہے ، مطلب یہ عوام سرکاری احکامات کی بجاآوری کے لیے اپنا سر جھکا دیتے ہٰیں تو حکومت بھی شہریوں کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے کسی قسم کی کوتاہی کی مرتکب نہ ہو۔
اس پر افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا کہ اپوزیشن جماعتیں قومی مسائل پر بھی سرکار کی مشکلا ت بڑھانے میں پیش پیش ہیں۔ مگر یہ بھی کہا جارہا کہ حزب اختلاف کا کام ہی حکومت کو ٹف ٹائم دینا ہے چنانچہ وہ وہی کام کررہی جو انھیں کرنا چاہے۔ ٹیکس نیٹ ورک بڑھانے کے لیے پاکستان تحریک انصاف حکومت کے اٹھائے گے اقدمات بڑا چیلنج ہے آنے والے دنوں میںاس کا فیصلہ ہوجائیگا کہ وزیر اعظم عمران خان کس حد تک اپنے مطلوبہ اہداف کے حصول میںکامیاب یا ناکام رہتے ہیں۔

Scroll To Top