بات انڈیا لابی کی سانپ کو ڈنک مارنے کا موقع دینے کا فائدہ ؟ 28-05-2015

ایک عرصے سے پاکستان میں ” انڈیا لابی “ بڑے موثر انداز میں صرف موجود ہی نہیں کام بھی کررہی ہے۔ کم ازکم میں پوری طرح اس ” لابی “ کے وجود اور طریقہ کار سے پوری طرح آگاہ ہوں۔ میرے ذہن میں صرف ” سیفما“ کا نام نہیں آتا۔ انڈیا لابی کے پاس ملک میں بہت سارے پلیٹ فارم موجود ہیں۔ اس ضمن میں میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اداروں سے زیادہ اہمیت افراد کی ہے۔ لوگ سیفما کے بارے میں شاید زیادہ نہ جانتے ہوں لیکن امتیاز عالم کے بارے میں ضرور جانتے ہوں گے۔ اسی طرح یہ ضرور جانتے ہوں گے کہ عاصمہ جہانگیر کون ہیں اور کیا کررہی ہیں لیکن اس پلیٹ فارم کے بارے میں لوگوں کی آگہی شاید زیادہ نہ ہو جس پر وہ مورچہ بند ہیں۔

اس ضمن میں اور بھی بہت سارے نام میرے ذہن میں آتے ہیں ۔ اے این پی کے ہر بڑے لیڈر کا نام جب میرے ذہن میں آتا ہے تو مجھے انڈیا لابی کے وجود کا بڑی شدت سے احساس ہوتا ہے۔ گزشتہ برس وطنِ عزیز کو پتہ چلا کہ ملک کا ایک بڑا میڈیا ہاﺅس وہ تمام خدمات انجام دے رہا ہے جس کا خدشہ ” انڈیا لابی “ سے محسوس کیا جاسکتا ہے۔
انڈیا لابی کی ترکیب میرے ذہن میں جان میئر شیمرا ور سیٹفن والٹ کی مشہور تصنیف ” دی اسرائیل لابی اینڈ یو ایس فارن پالیسی “ پڑھ کر آئی تھی۔ دونوں فاضل مصفین نے حقائق پر سے پردہ اٹھاتے ہوئے دنیا کو بتایا کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی میں اسرائیل لابی کے اثر و رسوخ اور اس کی منشاءکو نظر انداز کرنے کا مطلب کسی بھی صدر کے لئے اپنی قبر کھودنا ہوتا ہے۔
ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں کام کرنے والی ” انڈیا لابی “ ابھی اس مقام پر نہیں پہنچی کہ ہماری بنیادی پالیسیوں کا رخ موڑ سکے لیکن میاں نوازشریف نے ” انڈیا لابی “ کو جس انداز میں اپنی بالواسطہ حمایت سے نوازا ہے وہ کسی سے بھی ڈھکا چھپا نہیں۔ نجم سیٹھی کون ہیں ؟
یہ کوئی سربستہ راز نہیں۔۔۔
مجھے ڈاکٹر معید پیرزادہ سے گلہ ہے کہ وہ پاکستان دشمن لابی کو غیر ضروری طور پر پاکستان کے مفادات کے خلاف بات کرنے کا موقع فراہم کرتے رہتے ہیں۔ وہ خود بڑا صاف ذہن رکھتے ہیں۔ لیکن سانپ کو ڈنک مارنے کا موقع دینے کا فائدہ؟

Scroll To Top