عبرتناک سزا کا مستحق وہ شخص بھی ہے جس کی عنایت سے یہ وحشی ایس ایچ او بنا ! 27-05-2015

مجھے یقین ہے کہ ڈسکہ کے ایس ایچ او نے بدقسمت وکیل پر گولی اِس سوچ کے تحت چلائی ہوگی کہ حکومت پنجاب اس قسم کے واقعات کو پولیس مقابلوں کے کھاتے میں ڈال دیا کرتی ہے ۔ کچھ روز مرنے والے یا مرنے والوں کے غم میں شور و غوغا ہوگا۔۔۔ مظاہرے بھی ہوں گے۔۔۔ پھر معاملہ ٹھنڈا پڑ جائے گا۔۔۔ اور متذکرہ ایس ایچ او اس قسم کا ہی دوسرا کوئی کارنامہ کسی اور تھانے کے انچارج کے طور پر انجام دینے کے لئے اپنی وردی میں قائم و دائم رہیں گے۔
مگر ردعمل موصوف کے بدترین اندازوں سے کہیں زیادہ شدید اور خوفناک ہوا ہے۔ اب تو یہ سوال بھی اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ کیا حکومت پنجاب کے اکابرین کو یہ اختیار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا ہوا ہے کہ وہ ” مجرمانہ ریکارڈ اور شہرت“ رکھنے والے اصحاب کو جب چاہیں قانون کا رکھوالا بناکر کسی با اختیار کرسی پر بٹھا دیں۔۔۔
اگر متعدد ٹی وی پروگراموں میں سامنے آنے والا یہ الزام حقیقت ہے کہ اس وحشیانہ قتل میں ملوث ایس ایچ او ایک ہسٹری شیٹر رہ چکا ہے اور ماضی میں اس پر مقدمات بھی قائم ہوئے ہیں ` تو پھر ڈسکہ کا شرمناک واقعہ یہ سوال بھی اٹھا دیتا ہے کہ ” کیوں نہ اس اعلیٰ اور با اختیار شخص کا باقاعدہ ٹرائل کیاجائے جس نے ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں قانون کی بندوق تھمائی جو بذات خود جرائم پیشہ رہ چکا ہے۔۔۔؟“
وزیراعلیٰ صاحب نے چند گھنٹوں کی سوچ بچار کے بعد اعلان کردیا کہ باقاعدہ جوڈیشل انکوائری ہوگی اور جے آئی ٹی بھی بنے گی تاکہ مجرموں کو قرار واقعی سزا مل سکے۔
اول تو ماڈل ٹاﺅن کے کیس نے جوڈیشل انکوائری اور جے آئی ٹی جیسی ترکیبوں کو مضحکہ خیز بناکر رکھ دیا ہے۔ لیکن ایک ایسی واردات جس میں قاتل کا بھی سب کو علم ہے اور مقتول بھی موجود ہے جوڈیشل انکوائری اور جے آئی ٹی وغیرہ کی کیا ضرورت ہے۔؟
خود رانا ثنا ءاللہ خان ٹی وی کیمروں کے سامنے کہہ چکے ہیں کہ قاتل وہ ایس ایچ او ہے جس نے اپنے ایک اہلکار سے بندوق لے کر مقتول کو بھون ڈالا۔ کیا اس کے بعد کسی انکوائری اور جے آئی ٹی کی گنجائش رہ جاتی ہے ؟ سوائے اس کے کہ کچھ وقت کے بعد مجرم کو ملزم قرار دے کر بری کردیا جائے۔۔۔!
اگر کوئی جوڈیشل انکوائری کرنا اور جے آئی ٹی بنانا ضروری ہے تو اس کا مقصد یہ ہونا چاہئے کہ اس بااختیار شخص کا سراغ لگایا جائے جس نے ایسے خوفناک مجرم کو قانون کا رکھوالا بنا دیا۔۔۔۔

Scroll To Top