ہمارے دشمن ہماری ” جمہوریت“ کی چھری سے ہی ہمیں ذبح کرنا چاہتے ہیں

مجھے حامد میر سے کوئی گلہ نہیں۔ مجھے گلہ اس نحیف اور کمزور سوچ سے ہے جو ریاست اور معاشرے کو ایسے حالات کے خلاف بند باندھنے سے روکتی ہے جو اچھے بھلے آدمیوں کو اپنے ہی گھر میں سرنگیں بچھانے پر مجبور کردیتے ہیں۔ پاکستان اور اسرائیل ایک ہی دور میں قائم ہوئے۔ دونوں کی بنیاد نظریاتی تھی۔ اسرائیل کی بنیاد یہ نظریہ تھا کہ یہودی ایک قوم ہیں اور انہیں اُس سرزمین پر اپنا وطن قائم کرنے کا حق حاصل ہے جہاں کبھی آل اسرائیل یعنی آل یعقوب ؑ حکمران تھی۔ پاکستان کی بنیاد یہ نظریہ تھا کہ مسلمان چونکہ ایک الگ قوم ہیں اس لئے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک ایسا ملک قائم کرنے کا حق حاصل ہے جسے وہ اپنا وطن کہہ سکیں۔ 

بانی ءپاکستان حضرت قائداعظم ؒ نے اسی نظریے کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے تمام تر ” جمہوری “ تشخص کے باوجود صوبہ سرحد کی منتخب حکومت کو صرف اس لئے برطرف کردیا کہ اس کے اکابرین مسلمانوں کو ایک الگ قوم نہیں مانتے تھے اور قومیت کی بنیاد زبان و نسل کو قرار دیتے تھے۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ قائداعظم ؒ کی زندگی کا چراغ بہت جلد بجھ گیا اور ان کے جانشین بھول گئے کہ پاکستان کیوں قائم ہوا تھا۔
دوسری طرف اسرائیل نے روز اول سے ہی اپنی بنیادی اساس کے مخالفوں کے خلاف ” صفر برداشت “ کی پالیسی اختیار کی اور صیہونیت کے لئے خطرہ بننے والی تمام ممکنہ قوتوں کا ممکن حد تک قلع قمع کیا۔
اپنی تمام تر ” جمہوری پہچان“ کے باوجود اسرائیل ایک صیہونی ریاست ہے اور وہاں کوئی شخص سوچ بھی نہیں سکتا کہ اپنا جمہوری حق استعمال اختیار کرتے ہوئے نازی ازم اور ہٹلر کے بارے میں کسی ایسی رائے کا اظہار کرے جو ” سرکاری رائے “ سے متصادم ہو۔ وہاںانحراف کی سزا موت ہے۔
یہاں ہمارے پاکستان میں انحراف کرنے والے ” دادطلب“ نگاہوں سے قوم کو دیکھتے ہیں۔میں اگر یہ کہوں تو غلط نہیں ہوگا کہ ہماری ریاست نے اپنی اساس کے دشمنوں کے بارے میں شرمناک حد تک بے حسی کی حکمت عملی اختیار کررکھی ہے۔
پاک فوج ریاستِ پاکستان کا وہ ستون ہے جو کمزور پڑ گیا یاکھوکھلا ہوگیا تو اس ریاست کو قائم رکھنا ناممکن ہوجائے گا۔ میں پاک فوج پر گولہ باری کرنے والے سیاست دانوں ` صحافیوں اور دانشوروں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ” جس جمہوریت کے ساتھ عشق کا وہ دعویٰ کرتے ہیں کیا وہ جمہوریت ترقی کے میدان میں ” جست در جست“ آگے بڑھنے والے چین میں کہیں نظر آتی ہے ۔۔۔؟“
ہمارا دشمن بھارت ہماری جمہوریت کی چھری سے ہی ہمیں ذبح کرنا چاہتا ہے۔ وطن ِ عزیز میں تمام تر ” فوج دشمن“ قوتوں کو بھارت کی پشت پناہی اور سرپرستی حاصل ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ بلاول بھٹو اور مریم نواز وغیرہ کے ساتھ ساتھ حامد میر جیسے دانشور بھی متذکرہ قوتوں کے حلیف بن گئے ہیں۔
کیا ضروری ہے کہ ہم اس بدقسمتی کو پاکستان کا مقدر بنالیں۔۔۔؟

Scroll To Top