یہیں پہ روز حساب ہوگا ڈوبتے ٹائی ٹینک سے چھلانگیں لگانے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے

احتسابی شکنجہ تنگ ہوتے ہی پی پی پی اور نون لیگ کی صفوں میں ہیجان، خلجان اور ہذیان کی وبا پھوٹ پڑی ہے
سینٹ چیئرمین کو ہٹانے کی حکمت عملی پٹ گئی، ملا ڈیزل فساد کی جڑ بن گیا۔
طبقہ بدمعاشیہ کی اپنی سرشت کیا کم تھی کہ جیمز بانڈ بننے کا شوق بھی پال لیا۔
تین سابق وزیر اعظم ایک نانی اماں اور تیسرا خواجہ (سرا) عنقریب جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوں گے
نون غنے اور جیالے اپنی اپنی اٹھائی گیری کے لئے سر بھٹوہونے لگے


ہراک اولی الامر کو صدا دو
کہ اپنی فرد عمل سنبھالے
اٹھے گا جب جمِ سرفروشاں
پڑیں گے دارورسن کے لالے
کوئی نہ ہوگا کہ جو بچا لے
جزا سزا سب یہیں پہ ہوگی
یہیں عذاب و ثواب ہوگا
یہیں سے اٹھے گا شورو محشر
یہیں پہ روز حساب ہوگا۔
بس یہی وہ مقام و مرحلہ روز حساب ہے جس کا انہیں وہم وگماں تک نہ تھا، کہ وہ جو اٹھتے بیٹھتے گردنوں میں سریے کس کر کہا کرتے تھے” کہ ہم ہیں حکمران خاندان کے لوگ“ اور نونی نانی اماں تو میڈیا کے روبرو برملا اس تکبر کا اظہار کرتی رہتی تھی اور آل زرداری تو اپنی نانی اماں نصرت بھٹو کا یہ ”قول زریں“ دن رات اٹتی اور اگلتی رہتی تھی کہ ” بھٹو حکمرانی کے لئے پیدا ہوتے ہیں(BHUTTOS ARE BORN TO RULB)
مگر یہ تکبر کے مارے اقتدار کے بھوکے خاندان بھول گئے کہ ات خداد دا ویر وہوتا ہے۔ ایک دن ایسا بھی آتا ہے جب ظلم اور لوٹ کھسوٹ کی ہیڈیا بیچ چوراہے پھوٹ جاتی ہے ، اور یہ کہ تاریخ بھی اپنے دامن میں ایک جبر رکھا کرتی ہے اور تاریخ کا جبر ایک ایسا شکنجہ ہوتا ہے جس کی گرفت سے کوئی چوراچکا نوسر باز نکل نہیں سکتا۔ اگر میں کہوں کہ اللہ کا قانون مکافات عمل بھی اس کا روشن حصہ ہے تو کچھ غلط نہ ہوگا تو یوں جانئے کہ تاریخ کا جبر اور اللہ سوہنے کا قانون مکافات عمل کا جھکڑ چل چکا ہے اور ہر وہ شیطانی کردار جس نے اس ملک کے وسینکوں کے خواب کرچی کرچی کئے جس نے یہاں بسنے والوں کی آرزوو¿ں کو چکنا چور کیا اور جس نے ان کی اولادوں کے مونہہ سے روٹی کا آخری لقمہ تک چھین لیا۔۔۔ اب اپنی فرد عمل سنبھال لے اور عدل و انصاف کے ترازو کے روبرو آکھڑا ہوا کہ آج ہرکس و ناکس کا یوم حساب ہے، وہ یوم حساب کہ جس کا وعدہ تھا اور وہ یوم حساب کہ جس کا وعدہ تھا اور وہ یوم حساب کہ جس کے دامن سے اسی دھرتی پر جزا و سزا ہونی طے ہو چکی ہے۔
پر کیا کیجئے وہ کہ جن کے مونہوں کو حرام خون کی لت پڑ چکی ہے وہ اس تبدیلی کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں وہ آج بھی خواب و خیال کی ست رنگی مگر جعلی فینسٹی ہیں سانس لے رہے ہیں۔ کیا پیپلز پارٹی اور کیا نون لیگ ہر دو جماعتیں اور ان کے ایوان بھونچال کی لپیٹ میں ہیں۔
گلام بھاگتے پھرتے ہیں۔ مشعلیں لے کر
محل پہ ٹوٹنے والا ہو آسماں جیسے
جب ٹائی ٹینک ڈوبتا ہے تو سارے رشتے بھی ٹوٹ جاتے ہیں۔ تب بس ایک ہی رشتہ باقی رہ جاتا ہے اپنے بچاو¿ کار موت کے منہ سے بھاگ جانا گا۔
آج پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر پیپز پارٹی اور نون لیگ بھی ایک ڈوبتے ہوئے ٹائی ٹینک کی تصویر بنی ہوتی ہیں۔
ساری یا کم و بیش اہم کرپٹ قیادت اور اس کے گماشتے قانون اور احتساب کے شکنجے میں آچکے ہیں۔ کچھ کو لمبی سزائیں ہو چکی ہیں اور کوئی اپنی فرد عمل سنبھالے اپنے عذاب و ثواب کا منظر ہے۔
اس کیفیت نے دونوں پارٹیوں کی بچھی کچھی قیادتوں کو ہیجان، خلجان اور ہذیان کی کیفیت سے دو چار کر رکھا ہے۔ ایسی کیفیت میں کئے جانے والے بچاو¿ کے فیصلے درحقیقت پھنساو¿ کے فیصلے بن کر رہ جاتے ہیں۔اس کی بد ترین مثال چند روز پہلے ایک پریس کانفرنس میں بیگم صفدر کی طرف سے پیش کردہ’جیمز بانڈ“ سیریز کی ایک آڈیو ویڈیو فلم ہے جسے خفیہ طور پر تیار کر کے ایون فیلڈ ریفرنس میں چوروں کے ٹبر یعنی نواز نا شریف ، بگیم صفدر اور گھر جوائی صفدر اعوان کو قید اور جرمانے کی سزائیں سنانے والے جج ارشد ملک کی کردار کشی کی گئی تھی۔ ڈیڑھ گھنٹے طویل اس پریس کانفرنس میں نانی اماں بیگم صفدر نے اپنی چرب زبانی کے ساتھ اس قدر جھوٹ بولے کہ اس کا سارا ناٹک ہی اس کے گلے پڑ گیا۔ پریس کانفرنس میں اس کے دائیں بائیں بیٹھے اس کے چاچے نانے اپنی بدن بولی کے ذریعے یہ اعلان کر رہے تھے کہ وہ نانی اماں کی رام کہانی سے متفن نہیں ہیں۔ یہ عدم اتفاق اور انتشار دو روز بعد پھرسامنے آگیا جب نانی اماں پارٹی ڈسپلن کو توڑتے ہوئے اپنے چیلوں چانٹون کے ہمراہ منڈی بہاو¿ الدین میں ایک جلسی سے خطاب کرنے چلی گئی۔ اس کے اس سفر میں اس کا گھر داماد خاوند اس کے ساتھ ضرور تھا مگر پارٹی قائدین میں سے کسی نے اس کی رفاقت کا تکلف نہ اٹھایا تھا۔
اسی طرح پچھلے روز حافظ آباد میںنام نہاد ورکرز کنوینشن میں احسن اقبال ، اور خاقان عباسی تو موجود تھے مگر نانی اماں یا شہباز شریف وغیرہ میں سے کوئی موجود نہ تھا۔
ایسا ہی اندرون اختلاف طوفان بن کر پی پی پی کی صفون کو الٹ پلٹ رہا ہے۔ سینٹ کے چیئرمین کو ان کے منصب سے ہٹانے کے لئے پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی قیادتوں اور دیگر سینئر حضرات کے مابین شدید اختلافات پیدا ہو چکے ہیں۔ پچھلے روز پارلیمنٹ کی راہداریوں میں شیریں رحمن اور رحمن ملک کے مابین اس سوال پر کھلے عام بہت تو تکار ہوتی۔ اسی طرح ملا ڈیزل اور پی پی پی و نون لیگ کے مابین نئے چیئرمین کے نام پر اختلاف پیدا ہو چکے ہیںجمعیت اس منصب کے لئے اپنا امیدوار ملا غفور حیدری کو نامزد کرنا چاہتی ہے جبکہ دونوں بڑی پارٹیوں کو یہ صورت حال قبول نہیں۔
اب ایک طرف ڈوبتے ہوئے ٹائی ٹینک کے مسافروں کے مابین اپنے اپنے مفاد کی لڑائی تیزی پکڑ رہی ہے تو دوسری طرف پی پی پی اور نون لیگ کی بچی کچھی قیادت کے سر پر بھی احتساب کی تلوار لٹک رہی ہے۔ شاہد خاقان عباسی، یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف ، تینوں سابق وزرائے اعظم کے لئے جیل کی کال کوٹھریاں تیار کرائی جا چکی ہیں۔ اسی طرح تیسرے خواجہ (سرا) خواجہ آصف کو بھی پابہ رکاب ہی جانیئے۔
نیب کی عدالت نے کیلبری فونٹ کی جعلی سازی میں بیگم صفدراعوان کو 19جولائی کو طلب کر رکھا ہے۔ اسی طرھ زیر گردش خبر کے مطابق اس نانی کو جج ارشد ملک کے خلاف جعلی ویڈیو کے سلسلے میں بھی جلد ہی کسی عدالت میں طلب کر لیا جائے گا۔ قانونی ماہرین کے خیال میں اس کسی کے باعث بیگم صفدر اعوان کی ضمانت بھی منسوخ ہو سکتی ہے۔
سو میرے پیارے قارئین کرام یہ ہے موجودہ سیاسی منظر نامہ جہاں چور اچکا اپنی فردم عمل کے ساتھ عذاب و ثواب دینے والی عدالت کے روبرو آچکا ہے۔۔۔۔

Scroll To Top