کاخِ امرا کے درو دیوار ہلا دو ! 26-05-2015


پاکستان ایک ایسے مستقبل کی تلاش میں ہے جس میں ترقی کا مطلب ایسے منصوبے نہ ہوں جن میں زیادہ سے زیادہ ٹھیکے دیئے جانے مقصود ہوں اور جن کی بدولت کروڑ پتی ارب پتی بن جائیں اور ارب پتی کروڑ پتی۔
اس قسم کی ترقی کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ سرمائے کی گردش سے بہت سارے لوگوں کوفائدہ پہنچتا ہے۔ کام کے مواقع بھی بڑھتے ہیں اور معیشت کا پہیہ بھی گھومتا رہتا ہے۔ اس پورے عمل کو “Trickle down effect” کا نام دیا جاتا ہے۔
جس ملک میں سرمائے کی بہتات ہو یا وسائل مقامی طور پر دستیاب ہوں وہاں تو آپ سڑکوں ` پُلوں فلائی اوورز ` انڈیا پاسز میٹرو بس سروسز اور موٹر ویز وغیرہ پر سرمایہ کاری کرنے میں حق بجانب ہوں گے لیکن جس ملک کی معیشت بھاری قرضوں کی امید پر چل رہی ہو کیا اس کے عوام ایسے ریفریجریٹرز یا ایئر کنڈیشنرز کے متحمل ہوسکتے ہیں جنہیں چلانے کے لئے اول تو بجلی موجود ہی نہ ہو اور اگر ہو بھی تو اس کا بل ادا کرنے کی سکت موجود نہ ہو ؟
تعلیم اور صحت ۔۔۔ یہ دو شعبے ایسے ہیں جن کا براہ راست تعلق عام لوگوں سے ہے۔ ہماری آبادی اب واضح طور پر دو قسم کے لوگوں میں منقسم ہوچکی ہے۔ عام لوگ اور خاص لوگ ۔ خاص لوگوں کی پہچان کے لئے آپ رائے ونڈ جائیں اور وہاں کا ” مملکت نما“ رہائشی محل دیکھیں یا پھر قریب ہی بحریہ ٹاﺅن جاکر وہ قلعہ دیکھیں جس کو بلاول ہاﺅس کا نام دیا گیا ہے۔ یہ تو ” ہائی پروفائل “ خاص لوگ ہیں ` ہزاروں کی تعداد میں ایسے خاص لوگ بھی ہیں جن کے لئے پینے کا پانی بیرون ملک سے آتا ہے۔ اس طبقے کے بچے تعلیم ایسے اداروں سے حاصل کرتے ہیں جن کی فیسیں ایک عام شخص کی تنخواہ سے کہیں زیادہ ہوتی ہیں۔ اب عام آدمی کے لئے اپنے بچوں کو تعلیم دلوانا کوہ ہمالیہ کی چوٹی سر کرنے سے کم نہیں۔ صحت کے شعبے میں حال اس سے بھی برُا ہے۔ خاص آدمی کو نزلہ بھی ہو تو بھاگ کر لندن پہنچ جاتا ہے۔ عام آدمی کے گردے بھی فیل ہورہے ہوںتو وہ کسی ہسپتال کا رخ کرنے کے بارے میںنہیں سوچ سکتا۔ اور اب تو پانی بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتا چلا جارہا ہے۔ خاص آدمیوں کو پتہ چل گیا ہے کہ پانی کی فراہمی کو بھی منفعت بخش تجارت کی شکل دی جاسکتی ہے۔ اب وہ وقت زیادہ دور نظر نہیں آتا جب عام آدمی صرف زندہ رہنے کے لئے اپنی آمدنی کا بیشتر حصہ پانی کے حصول کے لئے خرچ کرنے پر مجبور ہوں گے۔
کیا عام آدمی کو اپنا پاکستان تلاش کرنے کے لئے سر پر کفن باندھ کر سڑکوں پر آنا ہوگا۔ عام آدمی کا پاکستان وہ ہوگا جہاں امارت موروثی نہیں ہوگی اور غربت موروثی نہیں ہوگی` جہاں صحت کی سہولتیں موروثی نہیں ہوں گی اور بیماری میں مرجانے کی تقدیر موروثی نہیں ہوگی` جہاں تعلیم حاصل کرنے کا حق موروثی نہیں ہوگا اور جہالت کے اندھیرے موروثی نہیں ہوں گے۔
اگر بات سمجھ میں نہیں آئی تو علامہ اقبال ؒ کا یہ مصرعہ یاد کریں۔
کاخ امراءکے درودیوار ہلا دو

Scroll To Top