اکبر بگٹی ایکسپریس مال گاڑی سے ٹکراگئی ،21 افرا دجاں بحق

  • زخمیوںمیں بعض کی حالت نازک ، ہلاکتوں میں اضافے کاخدشہ،مقامی لوگوں، پاک فوج کے جوانوں ،ریسکیو 1122اور دوسری ایمبولینسز نے آپریشن میں حصہ لیا، ہسپتال میں ایمر جنسی نافذ
  • صدرعارف علوی، وزیراعظم عمران خان اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زر داری سمیت دیگر کا اظہارافسوس

رحیم یار خان/راولپنڈی (این این آئی) صادق آباد ولہارریلوے اسٹیشن کے قریب کھڑی مال گاڑی سے اکبر بگٹی ایکسپریس زور دار دھماکے سے ٹکراگئی جس کے نتیجے میں 21مسافر جاں بحق اور 80سے زائد زخمی ہوگئے ،زخمیوںمیں بعض کی حالت نازک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کاخدشہ ہے ،حادثہ اتنا خوفناک تھا دونوں ٹرینوں کی چار چاربوگیاں آپس میں پیوست ہوگئیں اور اکبر ایکسپریس کا انجن مکمل طورپر تباہ ہوگیا ، مقامی لوگوں، پاک فوج کے جوانوں ،ریسکیو 1122اور دوسری ایمبولینسز نے آپریشن میں حصہ لیا ۔ جمعرات کو لاہور سے کوئٹہ جانے والی اکبر ایکسپریس رحیم یار خان کے قریب ولہار اسٹیشن کی حدود میں کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی جس نتیجے میںموقع پر گیارہ افراد جاں بحق اور 80سے زائد زخمی ہوگئے ، حادثے میں مسافر ٹرین کا انجن مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور 3 سے 4 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں ،6 سے 7 بوگیاں شدید متاثر ہوئیں۔واقعہ کی اطلاع ملنے پر ریسکیو اداروں کے اہلکاروں نے امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا ذرائع کے مطابق ریسیکو اہلکاروں نے بوگیوں میں پھنسے افراد کو ہیوی مشینری کی مدد سے ریسیکو کیا،ڈی سی رحیم یارخان جمیل احمد جمیل اور ڈی پی او عمر سلامت رحیم یارخان امدادی کاموں کی نگرانی کررہے تھے ۔ادھر صادق آباد ہسپتال کے میڈیکل آفیسر کے مطابق 60 سے زائد زخمی ہسپتال لائے گئے ہیں دوسرے شدید زخمیوں کو شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان منتقل کردیا گیا ۔ہسپتال ذرائع کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والے مزید 10افراد دم توڑ گئے جس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد21 ہوگئی۔ہسپتال ذرائع کے مطابق ٹرین حادثہ کے زخمیوں میں 57مرد، 14خواتین اور11بچے شامل ہیں ٹرین حادثہ کے55زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا،جاںبحق مسافروں میں سے8کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ 9کی شناخت کا عمل جاری ہے ،جاں بحق مسافروں میں یاسر ولد اسلم سکنہ (فیصل آباد)عمر 30سال، ارشاد احمد ولد شفیع محمد سکنہ(میر پور ماتھیلو)عمر35سال رحیم یار خان،ضیاءاللہ سکنہ (نوشہرہ)عمر30سال، فراز عمر11سال، محمد افضل، ولد محمد یعقوب سکنہ(فیصل آباد) عمر40سال رحیم یار خان،حبیبہ دختر انتظار سکنہ (چنیوٹ) عمر45سال، رفیقاں زوجہ محمد یوسف سکنہ (چنیوٹ)عمر38سال، امتیاز ولد مختیار سکنہ(ظاہر پیر رحیم یار خان) عمر42سال شامل ہیں ۔ آخری اطلاعات تک حادثہ میں جاںبحق ہونے والے 21 افراد میں سے 20 کی نعشیں صادق آباد تحصیل ہسپتال میں موجود تھیں اور ایک نعش رحیم یارخان شیخ زید ہسپتال میں رکھی گئی تھی۔ آر پی او بہاولپور عمران محمودنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اداروں کے بروقت رسپانس کی وجہ سے کافی انسانی جانیں بچائی گئی ہیں ورنہ جس شدت کا حادثہ ہے جانی نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا جس پر وہ تمام اداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں انہوں نے حادثہ کے متاثرین، زخمیوں اور جاںبحق ہونے والے افراد سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا،پولیس کے جوانوں نے زخمیوں کی جانیں بچانے کے لیے رضا کارانہ طور پر خون کے عطیات کے لیے خود کو پیش کر دیا اور خون کے عطیات دئیے۔ایڈیشنل جنرل مینیجر ریلوے زبیر شفیع کے مطابق اکبر ایکسپریس کے ڈرائیور عبدالخالق اور اسسٹنٹ ڈرائیور ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔زبیر شفیع نے بتایا کہ اکبر ایکسپریس کی 10 میں سے 4 بوگیاں پٹری سے اتری ہیں، حادثے کے بعد اپ ٹریک پر ٹرینوں کی آمدو رفت روک دی گئی تھی تاہم ساڑھے 8 بجے اسے بحال کردیا گیا ۔ادھر عینی شاہدین کے مطابق مسافروں نے بتایاکہ حادثہ صبح 4 بجے کے قریب پیش آیا ، ٹرین میں سوار بیشتر مسافر سو رہے تھے، گاڑی کو حادثہ کانٹا تبدیل نہ کرنے کی صورت میں پیش آیا ہے اسٹیشن والے اپنی ڈیوٹی نہیں کر رہے تھے ورنہ جانی نقصان نہیں ہوتا۔عینی شاہدین نے بتایا کہ ہمیں اپنی مدد آپ ہی بوگیوں سے نکلنا پڑا، حادثہ پیش آنے کے کافی دیر بعد ریسکیو ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی تھی۔حکام نے بتایاکہ مسافروں کے بارے میںمعلومات کےلئے لواحقین کنٹرول روم قائم068.9230109اور موبائل نمبر03009402579پر رابطہ کریں ۔ ڈی پی او عمر سلامت کی جانب سے زخمیوں کی جانیں بچانے کےلئے عوام الناس سے خون عطیات دینے کی اپیل کی گئی ۔ڈی پی او رحیم یار خان عمر سلامت کے مطابق ابتدائی معلومات کے مطابق ٹرینوں کے درمیان افسوسناک حادثہ سگنل بروقت تبدیل نہ کرنے کے باعث پیش آیا، مسافر ٹرین کے لوپ لائن پر آنے کی وجہ بظاہر نظر نہیں آرہی، ضلعی پولیس محکمہ ریلوے کے ساتھ مل کر حادثہ کے محرکات جاننے کے لئے تفتیش کر رہی ہے، اس کے علاوہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بھی تشکیل دی جا رہی ہے، جلد حادثے کے محرکات بارے حقائق سے آگاہ کیا جائے گا۔دوسری جانب وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے ٹرین حادثے اور قیمتی جانوں کی ہلاکتوں پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حادثہ بظاہر انسانی غفلت کا نتیجہ لگتا ہے۔ اعلیٰ ترین سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ میڈیا پر چلنے والے حادثے کے مناظر کافی دل خراش ہیں، دل بہت افسردہ ہے۔ شیخ رشید احمد نے کہاکہ آٹھ سے نو مسافروں کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔ انہوںنے کہاکہ جی ایم ریلوے اور متعلقہ حکام کو حادثے کی جگہ روانہ کر دیا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ریلیف اور ریسکیو کا کام ضلعی انتظامیہ کی مدد سے جاری ہے۔ انہوںنے کہاکہ حادثے کا جائزہ لے رہا ہوں؛ ریلوے حکام کو ریلیف اور ریسکیو تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔ دوسری جانب صدر مملکت عارف علوی، وزیراعظم عمران خان اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زر داری نے رحیم یار خان ٹرین حادثے پر اظہار افسوس کیا۔صدر مملکت عارف علوی نے اکبر ایکسپریس ٹرین حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا، صدر نے جاں بحق افراد کے بلند درجات اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کےلئے بھی دعا کی۔وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹوئٹر بیان میں ٹرین حادثے پر افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔وزیراعظم نے زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی اور ریلوے حکام کو حکم دیا کہ کئی دہائیوں سے پرانے ریلوے انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے اور حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کےلئے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرینوں کے پے درپے حادثات انتہائی تشویشناک ہیں۔انہوںنے کہاکہ ناقص منصوبہ بندی اور کمزور ریلوے ٹریک حادثات کا باعث بن رہے ہیں، حادثے کے ذمہ داران کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالی مرحومین کو اپنے جوار رحمت میں جگہ اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

Scroll To Top