اپوزیشن بجٹ میں پنجہ آزمائی کرچکی، سینٹ کو مستحکم کریں گے:فردوس عاشق اعوان

  • کچھ سیاسی پنڈت سینیٹ کو اپنی خواہش کے تحت چلانے پر بضد ہیں، ، قوم کسی سیاسی ایڈونچرازم کی متحمل نہیں ہو سکتی
  • سابق حکومت میں اداروں کیساتھ کھلواڑ ہوا، حکومت صادق سنجرانی کے ساتھ کھڑی ہے،اپوزیشن سیاسی طور پر کچھ حاصل نہیں کر پائے گی، میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد (این این آئی) وزیر اعظم معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ کچھ سیاسی پنڈت سینیٹ کو اپنی خواہش کے تحت چلانے پر بضد ہیں، قوم کسی سیاسی ایڈونچرازم کی متحمل نہیں ہو سکتی، سابق حکومت میں اداروں کیساتھ کھلواڑ ہوا، حکومت صادق سنجرانی کے ساتھ کھڑی ہے،اپوزیشن سیاسی طور پر کچھ حاصل نہیں کر پائےگی، وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کی تصدیق سے اپوزیشن کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی، دورے سے پاکستانی پاسپورٹ کی عزت و توقیر بڑھے گی۔جمعرات کو یہاںسرسلطان محمد شاہ آغا خان سوئم کی 62ویں برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ سرسلطان محمد شاہ آغا خان سوئم کا تاریخ میں اہم کردار ہے۔ انہوںنے کہاکہ ایسی تقاریب سے قومی ہیروز کو تاریخ کے اوراق میں زندہ رکھا جاسکتا ہے۔انہوںنے کہاکہ ہمیں اپنے قومی ورثے اور اثاثے کی حفاظت کرنی ہے۔انہوںنے کہاکہ نوجوان نسل کو قومی ہیروز کی جدوجہد سے سبق سیکھنا چاہیے۔انہوںنے کہاکہ قومی ہیروز مشکلات کو مواقع میں تبدیل کرتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ عام سیاستدان کی سوچ اگلے الیکشن تک محدود ہوتی ہے۔ انہوںنے کہاکہ حقیقی لیڈآنے والی نسلوں کے مستقبل کیلئے سوچتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ حقیقی لیڈروں کو ووٹ بینک کی بجائے قوم کے مستقبل کی فکر ہوتی ہے۔انہوںنے کہاکہ حقیقی رہنما کو قومی فائدے کیلئےسخت فیصلے بھی کرنا پڑتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ بعض تلخ فیصلے قوموں کی تاریخ میں بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ عمران خان حقیقی لیڈر کی حیثیت سے پاکستان کے استحکام کیلئے فیصلے کررہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہمیں اپنے قومی ہیروز کو مشعل راہ بناتے ہوئے آگے بڑھنا ہوگا۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کی پائیدار ترقی کیلئے ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں۔میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ بدقسمتی سے ریاستی اداروں کو جان بوجھ کر تباہ کیا گیا،جمہوریت میں ادارے مضبوط اور افراد ان کے تابع ہوتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اقتدار کے بھوکوں نے اداروں کو کمزور کرکے انہیں اپنے تابع کیا۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے ادارہ جاتی اصلاحات کو اہم ترجیح قرار دیاانہوںنے کہاکہ آئی ایم ایف نے پیپلزپارٹی اور ن لیگ کو بری کارکردگی کا ذمہ دار قرار دیا۔انہوںنے کہاکہ آئی ایم ایف نے اس حوالے سے باقاعدہ اخباری بیان جاری کیا۔انہوںنے کہاکہ آئی ایم ایف کے مطابق سابقہ حکومتوں کی غلط پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت خراب ہوئی۔انہوںنے کہاکہ آئی ایم ایف نے عمران خان کے بیانیے کی تصدیق کی۔انہوںنے کہاکہ پارلیمنٹ کا ایوان بالا سینیٹ وفاق کی علامت ہے۔انہوںنے کہاکہ اپوزیشن نے وفاق کی علامت کو سیاسی اکھاڑا بنایا ہوا ہے۔انہوںنے کہاکہ اپوزیشن سینیٹ کو آزاد اور خود مختار نہیں دیکھنا چاہتی۔انہوںنے کہاکہ پہلے چیئرمین سینیٹ کو خود منتخب کیا،اب انہی کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی۔انہوںنے کہاکہ عوام پوچھ رہی ہے کہ اپنا ہی منتخب کردہ چیئرمین سینیٹ ان کو قابل قبول کیوں نہیں؟۔انہوںنے کہاکہ ایسا نظر آتا ہے کہ شاید چیئرمین سینیٹ نے ”ظل سبحانی“ کی خواہشات کو تسلیم نہیں کیا۔انہوںنے کہاکہ حکومت وفاق اور ریاست کے ادارے کیساتھ کھڑی نظر آئیگی،ہم اپنے آئینی اداروں کو مضبوط اور خود مختار بنائیں گے۔انہوںنے کہاکہ اپوزیشن کبھی ریاستی اداروں اور کبھی عدالتوں پر لشکر کشی کرتی ہے۔انہوںنے کہاکہ سیاست کے بعض بارہویں کھلاڑی پارلیمنٹ کو اپنی مرضی کے تابع کرنا چاہتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ سے پاکستانی پاسپورٹ کی عزت و توقیر بڑھے گی۔انہوںنے کہاکہ وائٹ ہاو¿س کے خیر مقدمی بیان سے سیاسی پنڈتوں کی قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں۔ انہوںنے کہاکہ امریکی حکومت کی دورے کی تصدیق سے اپوزیشن کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی۔انہوںنے کہاکہ پہلی بار پاکستانی وزیراعظم کاامن پسند ملک کے سربراہ کے طور پر خیر مقدم کیا جارہا ہے۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ عمران خان کی قیادت میں پاکستان خطے اور عالمی برادری میں اہمیت اختیار کرگیا ہے ۔انہوںنے کہاکہ سیاست کے بارہویں کھلاڑی باہر بیٹھ کر پارلیمنٹ کو ڈکٹیٹ کرنا چاہتے ہیں،ان کی لشکر کشی کا اگلا ہدف سینیٹ ہے لیکن سیاسی طور پر انہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔انہوںنے کہاکہ عام سیاستدان کی سوچ اگلے الیکشن تک محدود ہوتی ہے لیکن حقیقی لیڈر آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے سوچتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ حقیقی لیڈروں کو ووٹ بینک کے بجائے قوم کے مستقبل کی فکر ہوتی ہے۔انہوںنے کہاکہ اپوزیشن نے چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروائی ہے،عوام سوال کر رہے ہیں کہ صادق سنجرانی نے ان کی شان میں کون سی گستاخی کر دی ہے؟ کیا چیئرمین سینیٹ نے آئین کی خلاف ورزی کی؟انہوں نے کہا کہ سیاسی ایڈونچرازم کی قوم متحمل نہیں ہو سکتی۔ انہوںنے کہاکہ حالات اس قسم کی پنجہ آزمائی کی اجازت نہیں دیتے۔ انہوںنے کہاکہ ہم ادارے کے تقدس کو بچانے کے لیے سینیٹ کو مستحکم کریں گے۔انہوںنے کہاکہ اپوزیشن سیاسی طور پر کچھ حاصل نہیں کر پائےگی۔

Scroll To Top