جھوٹ کا منہ کالا سچ کا بول بالا

  • پاکستان میں سسلین مافیاز، الکپون کے مغوی انڈوں ، بچوں اور گوٹبلز کے پیروکاروں کی کوئی کمی نہیں، جونہی ملک میں اصلاح احوال کی کوئی پیش رفت ہوتی ہے یہ زخمی لومڑوں اور آوارہ خرام گیدڑوں کی مانند ہڑبونگ مچانا شروع کر دیتے ہیں۔ زر کے پجاری زرداری اور نام کے شریفوں نے بھی یہی وطیرہ اپنا رکھا ہے۔ ان کے پٹ سیاپا بریگیڈ دن رات اپنی بے گناہی اور معصومیت کے ڈھنڈورے پیٹ رہے ہیں مگر عوام اپنے سال ہا سال کے تلخ تجربوں کی روشنی میں ان کے ہر ڈھکوسلے اور حربے کو مسترد کر چکے ہیں


پٹ سیاپا ، سینہ کوبی اور ہا ہا کار
پر کیوَ
مطالبہ میڈیا کو آزاد کرو!
لوگ پوچھتے ہیں کس میڈیا کی آزادی کی بات کرتے ہیں، وہ میڈیا جو ایک سزا یافتہ مجرمہ کی ڈیڑھ گھنٹہ طویل پریس کانفرنس کی لائیو کوریج کرتا ہے۔
حقیقت اور پروپیگنڈے کا یہی وہ فرق ہے جس نے پاکستان کے عام لوگوں کو جھوت اور سچ، دوست اور دشمن اور اچھے اور برے کی شناخت اور پرکھ کا شعوردینا شروع کر دیا ہے۔
اور فروغ شعور کے اسی پراسیس میں لوگ نعرے اور جذبے، حقیقت اور نا حقیقت کے درمیان خط امتیاز کھینچنے کے قابل ہوتے جا رہے ہیں۔ انہیں معلوم ہو رہ اہے کہ پچھلے50سال سے روٹی کپڑا مکان کا نعرہ مارنے والوں کی حقیقت کیا ہے اور وہ جو آج مہنگائی کے خلاف نعرے لگا کر انہیں ورغلا رہے ہیں انہوں نے اپنے اپنے دور اقتدار میں عوام کو کس کس ہتھکنڈے سے نہیں لوٹا،اور یہ جو آج مہنگائی اور بے روزگاری کے مسائل نظر آرہے ہیں ان کی سب سے زیادہ ذمہ دارہ تو انہی کالے چوروں پر عائد ہوئی ہے جنہوں نے اپنے اپنے دورِ حکمرانی میں ملکی معیشت کو اس بری طرح لوٹا ہے اور اسے غیر ملکی قرضوں کے شکنجے میں اس بری طرح پھنسا دیا ہے کہ منڈی بازار میں رسد و طلب کا توازن بگاڑ دیا گیا ہے جس سے مصنوعی مہنگائی کا ماحول بنا کر آپ لوگوں کو عمران کے خلاف ورغلایا جا رہا ہے۔ سسلین مافیاز ہوں یا الکپون کے مغوی جتھے ان کا دنیا بھر میں معمول ہے کہ یہ اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لئے ہمیشہ کسی نہ کسی قربانی کے بکرے کی ٹوہ میں رہتے ہیں اسی طرح یہ اپنے جرائم سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے مختلف نظریاتی اصطلاحوں کا سہارا لیتے ہیں۔ اور پھر سادہ لوح لوگوں کے سامنے ان اصطلاحوں کی من پسند تشریح کر کے انہیں اپنے جتھے کی طاقت بنانے کے جتن کرتے ہیں۔ اس کی ایک بد ترین مثالی، بلاوجہ بھٹو بنے بلاول کی ہے۔ جو اندرون سندھ کے بعض حلقوں میں غریب و سادہ طبع ہاریوں کو18ویں ترمیم، گورنر راج، صوبائی خود مختاری جیسے نان ایشوز کا ذکر کرتے ہوئے ڈراتا۔ جب غریب ہاری پوچھتے کہ بابا بتاو¿ تم جس 18ویں ترمیم، گونر راج او ر صوبائی خودمختاری کی بات کرتے ہو تو اس کا مطلب کیا ہے۔ تب بلاول کے سکرپٹ رائٹر اس کے منہ سے ایسے الفاظ اگلواتے کہ بابا18ویں ترمیم وغیرہ واپس لے لی گئی تو عمران خان آپ کے بچوں کے منہ سے روٹی کا نوالہ تک چھین لے جائے گا۔
طاہری بات ہے اس جذباتی تشریح پر سادہ لوح سندھی یکبارگی بلاول کے حق میں نعرہ زنی میں جت جاتا۔ مگر جب کچھ راست باز لوگ ان غریب دہ سادہ ہاریوں کو اصل حقیقت بتاتے کہ ملک میں نہ تو18ویں ترمیم کی واپسی کا سوال ہے اور نہ ہی اس کی واپسی کی صورت میں کوئی تمہارے منہ کا نوالہ ہی چھین سکت اہے۔ اور یہ کہ بلاول جس طرح18ویں ترمیم کی واپسی پر پٹ سیاپا کر رہا ہے وہ سب ناٹک ہے کیونکہ عمران حکومت18ویں ترمیم کی واپسی کا تصورتک نہیں کر سکتی کیونکہ اس آئینی ترمیم کو ختم کرنے کے لئے پی ٹی آئی حکومت کے پاس پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دوتہائی اکثریت ہے ہی نہیں۔ اس ایک حقیقت سے اندازہ کر لیجئے کہ کیا پی پی پی اور کیا نون لیگ کی قیادت ہو سادہ لوح عوام کو جذباتی طور پر ایکسپلائٹ کرنے کے لئے کیا کیا شیطانی حربے استعمال نہیں کرتے۔
اپوزیشن جماعتوں کا ایک اور وطیرہ بھی سامنے آیا ہے۔ اس کا تعلق بھی 7سالہ قید کی سزاوار مجرمہ بیگم صفدر کی طرف سے پیش کردہ اس جعلی آڈیوں ویڈیو رپورٹ سے ہے جس میں جج ارشد ملک پر الزام عائد کیا گی اہے کہ انہوں نے ایون فیلڈ ریفرنس میں کسی بیرونی دباو¿ کے زیر اثر نواز شریف ، مریم صفدر اور صفدر اعوان کو مختلف نوعیت کی سزائیں سنائی تھیں۔ جج موصوف نے اس الزام کے فوراً بعد ایک پریس ریلز کے ذریعے مذکورہ الزام کی سختی سے تردید کی ۔ بلکہ الٹا نون لیگ پر الزام عائد کیا گیا کہ اس کی قیادت مختلف ذرائع سے انہیں رشوت پیش کرتی رہی ہے جسے انہوں نے ہمیشہ سختی سے مسترد کر دیا۔
جھوٹ جھوٹ اور جھوٹ
ہٹلر کے نفس ناطقہ گوٹبلز کا قول تھ اکہ ”اتنا زیادہ جھوٹ بولو کہ سچ لگنے لگے“۔
پاکستان کے یہ کرپٹ، نااہل اور عوام دشمن سیاستدان بھی آج کے گوٹبلز بنے ہوئے ہیں۔ انہوںنے زندگی کے ہر شعبے کے حوالے سے اپنے اپنے ادوار حکومت میں اسقدر جھوٹ بولے ہیں کہ ماضی قریب تک ہمارے سادہ لوح عوام ان کے جھوٹ کو سچ یقین کرتے رہے اسی لئے تو وہ جانتے بوجھتے کہ فلاح سیاستدان مسلمہ جھوٹا ہے اسے ہی اپنا لیڈر یقین کرتے رہے، یہ جانتے ہوئے کہ ایک سیاستدان کھلے بندوں رہ زن ہے اسے رہبر سمجھ کر سر آنکھوں پر بٹھاتے رہے۔ یہ یقین کرتے ہوئے کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ ، چند استثناو¿ں کے ساتھ چوروں اچکوں اور ٹھگوں کا ٹولہ ہے انہیں ہی ووت دیتے رہے۔ اور اقتدار واختیار کے ایوانوں میں بجھواتے رہے۔ مگر تابہ کے !
اللہ کریم نے سادہ لوح پاکستانیوں پر عقل و دانش اور فہم و فراست کے در کھول دیئے، انہیں دوست دشمن کی پہنچان کا شعور عطا کر دیا۔
نتیجہ۔ پچھلے سال اسی مہینے کی25تاریخ کو ہونے والے عام انتخابات میں انہوں نے تاریخ میں پہلی بار ٹھگوں کو مسترد کرتے ہوئے عمران خان کو اپنی تائید کا ووٹ دے دیا۔ اور اب عمران خان ان قاتلوں ، ڈاکوو¿ں اور اچکوں کی پیدا کردہ خرابیوں کو دور کرتے ہوئے ملکی معاشرت اور معیشت کو ایک بار پھر س اپنے پاو¿ں پر کھڑا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ قومی وسائل لوٹنے والوں سے مال مسروقہ برآمد کرنے کی کوششیں تیز تر ہیں۔
اب جھوٹوں کا منہ بالا اور سچ کا بول بالا ہو گا۔ انشاءاللہ

Scroll To Top