عمران خان کو کچھ نیا کرنا ہوگا 23-05-2015

ملتان کے صوبائی حلقہ 196میں مسلم لیگ (ن)کی کامیابی بڑے اچنبھے کی بات نہیں۔ کوئی بھی ضمنی انتخاب کوئی برسراقتدار حکومت صرف اس صورت میں ہارتی ہے جب وہ فیصلہ کر لے کہ انتخابی عمل ہر لحاظ سے شفاف غیر جانبدار اور مداخلت سے پاک رکھاجائے گا۔ یا جب وہ انتہائی نااہل اور اپنے اختیارات کو استعمال کرنے کے فن سے بالکل نابلد ہو۔ مسلم لیگ نون میں ایسی کوئی خصوصیت نہیں۔ انتخاب ہر قیمت پر جیتنے کا اسے بڑا وسیع تجربہ ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کا ” مسلسل جاری سقوط“ بھی اچنبھے کی بات نہیں۔ پی پی پی کے امیدوار اپنی انتخابی مہم میں اس قدر محتاط رہے کہ زرداری صاحب کی تصویر اپنے کسی اشتہار یا پوسٹر میں آنے نہیں دی۔ پھر بھی اسے بڑی بری ہار کا سامنا کرنا پڑا۔اور اچنبھے کی بات پی ٹی آئی کا ہارنا بھی نہیں۔ برسراقتدار پارٹی کے امیدوار کو ہرانے کے لئے مقبولیت کی معراج پر ہونا ضروری ہے۔ اور یہ وقت پی ٹی آئی کے مقبولیت کی معراج پر ہونے کا نہیں۔
پھربھی یہ حقیقت پوری طرح واضح ہوتی جارہی ہے کہ ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف ہی ہے۔
اگر کوئی جماعت برسراقتدار جماعت کے لئے بڑا خطرہ بننے کی اہلیت رکھتی ہے تو وہ عمران خان کی جماعت ہی ہے۔
لیکن اس کے لئے عمران خان کو کچھ نیا کرنا ہوگا۔گزشتہ دنوں انہوں نے ایک انٹرویو میں کہاکہ ہر ناکامی کو ایک بڑی کامیابی کا پیش خیمہ بنایا جاسکتا ہے۔ اور تحریک انصاف اپنی ناکامیوں سے سبق حاصل کرنے میں بخل سے کام نہیں لے گی۔
پی ٹی آئی کو جس اصل مسئلے کا سامنا ہے اس کی نشاندہی بھی کپتان نے کردی ہے۔ جب بھی کوئی جماعت تیزی سے ابھرتی اور پھیلتی ہے تو اس کے کے اندر اختیار اور عہدوں کی کشمکش شروع ہوئے بغیر نہیں رہتی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کشمکش کو سُلا دینے کا کوئی آ ہنی بندوبست کیا جائے۔

Scroll To Top