حملہ آور جان لیں کہ اس شہر کے سارے باسی سونہیں رہے۔۔۔

اب اس شہر کے سارے لوگ سو نہیں رہے۔ ۔۔بہت سار ے جاگ بھی رہے ہیں۔۔۔ انہیں علم ہے کہ شہر پر حملے کی تیاریاں ہورہی ہیں اور وہ اس حملے کا دنداں شکن جواب دینے کے لئے تیار ہیں۔

مجھے اپنا بچپن یاد آرہا ہے۔۔ ۔ یہ 1946ءکے آخری ایام کی بات ہوگی۔۔۔ ہمارا قصبہ نما گاﺅں ساگر پورہ بٹالہ شہر کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔ اس گاﺅں کی گلیاں بھی پکی تھیں اور مکان بھی پکے تھے۔۔۔ خصوصیت اس گاﺅں کی یہ تھی کہ اس میں ایک بھی غیر مسلم گھر نہیں تھا۔۔۔
وہ زمانہ زبردست کشیدگی کا تھا۔۔۔ ہندوسیاست دانوں نے ماسٹر تارا سنگھ کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا جو سکھوں کے نیتا بن چکے تھے۔۔۔ سکھوں اور مسلمانوں کے درمیان زبردست کشیدگی تھی۔۔۔ سکھ جتھے مسلمانوں پرحملہ کرنے کے موقع کی تلاش میں رہتے تھے۔۔۔ ایسے میں یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ ایک حملہ ساگرپورہ پر بھی ہوگا۔۔۔ ساگرپورہ کے باسیوں نے پہرے کے لئے کچھ ٹیمیں تشکیل دیں۔۔۔ ایک رات یہ خبر آئی کہ آج حملہ ضرور ہوگا۔۔۔ اس حملے کا مقابلہ کرنے کے لئے تقریباً ہر گھر کی چھت پر اینٹیں پہنچا دی گئیں۔۔۔ اینٹوں سے مسلح ` حملہ آوروں کا انتظار کرنے اور انہیں مار بھگانے کا عزم رکھنے والوں میں میں بھی تھا۔۔۔ میری عمر تب سات سال ہوگی۔۔۔ تحریک پاکستان کا جذبہ کیا تھا کہ جس نے ایک سات سالہ بچے کو بھی سپاہی بنادیا تھا!
تو بات میں اِس شہر کی کررہا تھا جس کے بہت سارے باسی حملہ آوروں کو دنداں شکن جواب دینے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔۔۔ المیہ یہ ہے کہ حملہ آور بھی ہمارے اپنے ہیں۔۔۔ ان کے بارے میں ہی سورہ بقرہ میں یہ آیات اتری تھیں۔۔۔
” بے شک وہ جن کی قسمت میں کفر ہے انہیں برابر ہے ` چاہے تم انہیں ڈراﺅ یا نہ ڈراﺅ ۔۔۔ وہ ایمان لانے والے نہیں۔۔۔“
” اللہ نے اُن کے دلوں پر اور کانوں پر مہر کردی۔۔۔ اور ان کی آنکھوں پر گھٹا ٹوپ ہے۔۔۔ اور ان کے لئے بڑا عذاب۔۔۔“

Scroll To Top