کرپٹ افراد کا احتساب نہ کرنا ملک سے غداری ہوگی، عمران خان

  • کرپٹ افراد میرے منہ سے 3 الفاظ سننا چاہتے ہیں این۔ آر۔ او،پرویز مشرف کی طرح اگر میں نے نوازشریف اور آصف زرداری کو این آر او دے دیا تو قوم مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی
  • کرپٹ عناصر کو کٹہرے میں نہیں لائیں گے تو کرپشن ختم نہیں ہوگی ، مولانافضل الرحمان ملکی سیاست کے 12ویں کھلاڑی ہیں،بزنس کمیونٹی سے مل کر ملک کو اوپر لے کر جائیں گے، وزیر اعظم کی میڈیا سے گفتگو

کراچی(این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ کرپٹ افراد کو این آر او دینا ملک سے غداری کے مترادف ہے،پرویز مشرف کی طرح اگر میں نے نوازشریف اور آصف زرداری کو این آر او دے دیا تو قوم مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی، مولانافضل الرحمان ملکی سیاست کے 12ویں کھلاڑی ہیں، جن ممالک میں غربت زیادہ ہے وہاں بھی زرداری اور نوازشریف جیسے بیٹھے ہیں،سندھ میں گورنر راج لگانے کی کسی نے بات نہیں کی ، اور نہ ایسا ہوگا، آصف زرداری نے بطور صدر دبئی کے 40 دورے کیے، وہ کیا کرنے جاتے تھے؟ نوازشریف نے لندن کے 20 نجی دورے کیے کیوں کہ ان کے محلات باہر ہیں، کرپٹ عناصر کو کٹہرے میں نہیں لائیں گے تو کرپشن ختم نہیں ہوگی اور جس سطح کی ملک میں کرپشن ہے اس سے پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا، بزنس کمیونٹی سے مل کر ملک کو اوپر لے کر جائیں گے، ایک سال میں جتنا ٹیکس اکٹھا ہوا، اس کا آدھا قرضوں کے سود پر ادا کیا،ایک اندازے کے مطابق 10 سے 12 ارب کی منی لانڈرنگ کی جاتی ہے، ملکی معیشت اب پرانے طریقہ کار کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی، غیرضروری درآمدات کم کر رہے ہیں، حکومت کی 30 فیصد ایکسپورٹ بڑھ گئی ہیں، ماضی کی حکومتوں نے مارکیٹ کو اپنے ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا لیکن اب معیشت اور مارکیٹ میں استحکام آئے گا۔بدھ کوگورنرہاﺅس کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور بینکاروں کے وفود سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ مجھے کہا جا رہا ہے کہ ملک لوٹنے والوں کو چھوڑ کر آگے بڑھوں، یہ لوگ پہلے دن سے بلیک میل کر رہے ہیں، کرپٹ افراد میرے منہ سے 3 الفاظ سننا چاہتے ہیں این۔ آر۔ او، لیکن اگر میں نے پرویز مشرف کی طرح نوازشریف اور آصف زرداری کو این آر او دیا تو قوم مجھے کبھی بھی معاف نہیں کرے گی، لوگ جانتے ہیں میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے اس لئے لوگ میرے ساتھ کھڑے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ یہ چاہتے ہیں جتنی جلدی ہوحکومت گر جائے، پہلے دن سے یہ حکومت گرانے کا راگ الاپ رہے ہیں، انہوں نے پہلے دن مجھے تقریر نہیں کرنے دی اور ان لوگوں نے ایک دن بھی مجھے حکومت نہیں چلانے دی، یہ لوگ جمہوریت نہیں لوٹا ہوا مال بچانے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں، اب بھی اس لئے سب اکٹھے ہیں کیوں کہ یہ سب ڈرے ہوئے انہیں پتہ ہے ہمیں بیرون ملک سے انفارمیشن آ رہی ہے، ہم نے ابھی تک ان کے خلاف ایک کیس نہیں بنایا، یہ ایک دوسرے کے بنائے گئے مقدمات بھگت رہے ہیں، نیب کے اندر جو کیسز دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف بنائے ہوئے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ ملکی معیشت اب پرانے طریقہ کار کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی، ہم غیرضروری درآمدات کم کر رہے ہیں، حکومت کی 30 فیصد ایکسپورٹ بڑھ گئی ہیں، ماضی کی حکومتوں نے مارکیٹ کو اپنے ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا لیکن اب معیشت اور مارکیٹ میں استحکام آئے گا۔ملکی حالات کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ پورے سارے سال میں جو ٹیکس اکٹھا ہوا اس میں آدھا پاکستان کا ٹیکس قرضوں کا سود دینے میں چلا گیا، قرضوں کی وجہ سے ملک مشکل حالات میں ہے، ہماری کوشش ہے کہ اخراجات کم اور آمدن میں اضافہ ہو، پاک فوج نے پہلی بار اپنے اخراجات کم کی، تاجروں کی مدد کے بغیر ہم قرضوں سے جان نہیں چھڑوا سکتے، بزنس کمیونٹی سے مل کرمشکل حالات سے باہرنکلنا ہے۔وزیر اعطم نے کہا کہ جب تک ملک اپنے آپ کو تبدیل نہیں کرتا، ہم مزید قرضوں میں ڈوبتے چلے جائیں گے، دنیا میں صنعتیں بڑھ رہی ہیں یہاں پیچھے جارہی ہیں، صنعت کاروں سے ملاقات کا مقصد تھا کہ انڈسٹریلائزیشن کو آگے بڑھایا جائے، سرمایہ کاری کے لئے مختلف ممالک سے ایم او یو کئے ہیں.انھوں نے کہا کہ ماہانہ خسارہ 2 ارب ڈالر سے کم ہوکر ایک ارب ڈالر پر آگیا ہے، امریکا جا رہا ہوں، پاکستانی سفارتخانے میں ٹھہروں گا، حکومتی اخراجات کم کررہےہیں،خرچے کم کر رہے ہیں.وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں10سے12ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہورہی ہے، چوری،کرپشن، منی لانڈرنگ پرسزا نہیں دیں گے، تو ملک کا کوئی مستقبل نہیں،چین نے پانچ سال میں ہزاروں لوگوں کو کرپشن پر جیلوں میں ڈالا، اگر کرپٹ لوگوں کا احتساب نہیں کریں گے، تو یہ ملک کو آگے نہیں بڑھنے دیں گے، پہلے دن سے یہ لوگ بلیک میل کررہے ہیں، افراتفری مچارکھی ہے، یہ مجھ سے این آر او کے الفاظ سننا چاہتے ہیں۔ماضی میں جو این آر او دیاگیا، اس سے ملک تباہ ہوا، جوکہتے ہیں کہ حکومت گرادو وہ لوگ این آر او چاہتے ہیں، ان کی کرپشن کی وجہ سے آج مشکل حالات ہیں،عوام مشکل میں ہے، شبر زیدی اور میں نے ذمہ داری اٹھائی ہے،ایف بی آر کو ٹھیک کریں گے، ساڑھے 5 ہزار ارب روپے ٹیکس کا ہدف مل کر پورا کریں گے، ٹیکس نہ ملے اور نوٹ چھاپنے پڑے تو ملک ہائپر انفلیشن کا شکار ہوجاتا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ سندھ میں گورنر راج لگانے کی کسی نے بات نہیں کی ، اور نہ ایسا ہوگا، آصف زرداری نے بہ طور صدر دبئی کے 40 دورے کیے، وہ کیا کرنے جاتے تھے؟ نوازشریف نے لندن کے 20 نجی دورے کیے کیوں کہ ان کے محلات باہر ہیں۔ مولانافضل الرحمان ملکی سیاست کے 12ویں کھلاڑی ہیں، جن ممالک میں غربت زیادہ ہے وہاں بھی زرداری اور نوازشریف جیسے بیٹھے ہیں، حدیبیہ پیپر مل کیس میں پیسہ ہنڈی کے ذریعے باہر بھجوایاگیا پھر وہی ٹی ٹی سے واپس آیا۔انھوں نے کہا کہ دوست ممالک نے ہمیں ریکارڈ پیکج دیئے ہیں، دوست ممالک پیکج نہ دیتے تو ہمارا دیوالیہ نکل چکا ہوتا، مجھے کہاجارہاہے ملک لوٹنے والوں کو چھوڑ کر آگے بڑھو، ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ ملک کےساتھ غداری کے مترادف ہوگا۔

Scroll To Top