مسئلہ کشمیر دو ایٹمی ممالک کے درمیان ایسا معاملہ ہے جو خطے میں تباہی برپا کر سکتا ہے ، :ممبران پورپین پارلیمنٹ

  • د نیا میں مذاکرات کا ایک عمل شروع ہو چکا ہے تاکہ امن اور خوشحالی کا بول بالا ہو لیکن بھارت پاکستان کی امن کاشوں کو سبوتاژ کر دیتا ہے جس سے خطے میں حالات خراب اور انسانیت انصاف کے لیے تڑپ رہی ہے، سینیٹر مشاہد حسین سید
  • نیو پارلیمینٹیرین کی آمد سے مسئلہ کشمیر کو تقویت ملے گی ،اسی لیے نمائش میں دعوت دی گئی کہ وہ دیکھ سکیں کہ بھارت کس طرح کشمیریوں پر ظلم ڈھا رہا ہے،بھارت کا ظلم دنیا میں بے نقاب کرنے کےلئے ہماری جدوجہد جاری رہے گی، بیرسٹر مجیدترمبو

برسلز( مانیٹرنگ ڈیسک )مسئلہ کشمیر دو نیوکلیر پاور ممالک کے درمیان ایک ایسا ایشو ہے جس سے خطے میں تباہی برپا ہو سکتی ہے, عالمی طاقتوں کو جنوبی ایشیا میں قیام امن کے لیے مسل کشمیر کو حل کرنے میں کردار ادا کریں .ان خیالات کا اظہار ممبران یورپین پارلیمنٹ نے ای یو پارلیمنٹ میں تصاویری نمائش سے کیا جس کا اہتمام آرگناہزیشن آف کشمیر کولیشن نے بین الاقوامی تنظیم احرام اور آئی سسی ایچ آر و دیگر تنظیموں کے مشترکہ تعاون سے کیا۔مائش میں سینٹ کے فارن افیئر کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید مہمان خصوصی تھے جنھوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ د نیا میں مزاکرات کا ایک عمل شروع ہو چکا ہے تاکہ امن اور خوشحالی کا بول بالا ہو لیکن بھارت پاکستان کی امن کاشوں کو سبوتاژ کر دیتا ہے جس سے خطے میں حالات خراب اور انسانیت انصاف کے لیے تڑپ رہی ہے. انھوں نے کہا کہ پاکستان کی امن کاوشیں دنیا کے سامنے ہیں, آئندہ اکتوبر میں پاکستان کی سرزمین پر کشمیر کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں ممبران ای یو پارلیمنٹ شرکت کریں گے. پاکستان خطے میں امن کے لیے ہر قسم کا تعاون کرنے کو تیار ہے بشرطیکہ کشمیریوں کی مرضی شامل ہو .انھوں نے کہا کہ کشمیری اپنا حق آزادی مانگتے ہیں انھیں ان کا یہ حق دیا جائے. برسٹر مجید ترمبو نے کہا کہ نیو پارلیمینٹیرین کی آمد سے مسل کشمیر کو تقویت ملے گی ,آج اسی لیے انھیں نمائش میں دعوت دی گئی کہ وہ دیکھ سکیں کہ بھارت کس طرح کشمیریوں پر ظلم ڈھا رہا ہے, بھارت کا ظلم دنیا میں بے نقاب کرنے کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی .انھوں نے کہا کہ یورپین پارلیمنٹ کے ممبران نے کشمیریوں کے ساتھ ہمیشہ اپنا تعاون رکھا اور ہمیں امید ہے کہ نئے ممبران بھی اسی فکر اور سوچ کے ساتھ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں گے جس طرح دیگر ممبران نے انصاف کے حصول کے لیے ہمارے ساتھ تعاون کیا۔ ایم ای پی پروفیسر ڈاکٹر کلاس بخنر ، ایم ای پی جولی وارڈ ، ایم ای پی فل بینن و دیگر نے کہا کہ دنیا میں امن کی ہی سے خوشحالی رونما ہو سکتی ہے، مسل کشمیر ایک کور ایشو ہے اسے حل کرنا وقت کی ضرورت ہے، یورپین یونین کا مقصد امن اور سلامتی قاہم کرنا ہے ،انسانیت کی خدمت ہے، بھارت پاکستان مل بیٹھ کر مسل کشمیر کو حل کریں تاکہ خطے میں سکون ہو عوام ترقی کریں ۔ نمائش کی تقریب سے پروفیسر نذیر شال ،بیگم شمیم شال اور زبیر اعوان ایڈوکیٹ اور سردار محمود نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ کشمیر سے کھلتا ہے، بھارت انسانی حقوق کی پامالی کر کے سمجھتا ہے کہ وہ دنیا کو بے و قوم بنا سکتا ہے، آج کے جدیدیت کے دور میں بچہ بچہ بھارت کی مکاری سمجھتا ہے ،بھارت معصوم کشمیریوں پر ظلم ڈھا رہا ہے ،نوجوانوں نسل تباہ کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ برسٹر مجید ترمبو نے تصاویری نمائش کا اہتمام کر کے کشمیریوں کے ساتھ زبردست یکجہتی کا اظھار کیا ہے، برسٹر ترمبو کشمیریوں کے اصل حقیقی وکیل ہیں جو یورپین پارلیمنٹ اور دنیا کے دیگر بڑے ایوانوں میں کشمیریوں کا مقدمہ لڑ رہے ہیں جس سے بھارت چیخ رہا ہے ۔انھوں نے کہا کہ بھارت کا اس وقت تک پیچھا نہیں چھوڑیں گے جب تک مسل کشمیر حل نہیں ہو جاتا ۔نمائش کے اختتام پر برسٹر مجید ترمبو نے سینیٹر مشاہد حسین سید اور ممبران ای یو پارلیمنٹ کو تصاویری نمائش کا دورہ کروایا اور انھیں بتایا کہ کس طرح بھارت کشمیریوں پر ظلم ڈھا رہا ہے۔ تصاویر دیکھ کر نمائش میں موجود ہر فرد انتہائی غم اور افسوس کا اظھار کر رہا تھا۔ نمائیش میں سول سوسائیٹی، این جی اوز سمیت طلبا و طالبات نے بھی شرکت کی جنھوں نے نماہش پر اپنے تاثرات کا اظھار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ بھارت دنیا میں بڑی جمہوریت کا دعوع کرتا ہے لیکن انسانیت کے قتل میں بھی سب سے آگے ہیں جس ملک میں انسانیت کی پامالی ہو ،انسانی حقوق غضب کیے جا رہے ہوں اس ملک کا سوشل باہیکاٹ کیا جانا چائیے۔ تقریب میں شریک افراد نے برسٹر عبدالمجید ترمبو کی خدمات کو سراہا جنھوں نے ایک مرتبہ پھر کشمیریوں کے لیے یورپین یونین سے آواز بلند کرنے کا ارادہ کر لیا ہے، اب وہ وقت دور نہیں جب دہلی کے ایوانوں میں سکتہ طاری ہو جائے گا.

Scroll To Top