دھرتی کا سپُوت ہراوت کپوت کو الماس بوبی بنا چکا

  • خلق خدا کے منہ سے آخری لقمہ تک چھین لینے والوں کا یوم حساب آن پہنچا۔
  • انسانوں کی کھال میں چھپے درندوں پر وقت کی لعنت ثبت ہو چکی۔
  • سارے چور اچکے بنگے چبے، ڈب کھڑبے اور ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے عوامی
    غیظ وغضب سے بچ نہ سکیں گے۔
  • ان کے سارے دعوے وعدے، دھمکیاں دھماکے، بڑھکیں اور گیدر بھبھکیاں ٹیں ٹیں فش!
  • ہر محاذ پر مات اور شرمناک شکست۔ اپوزیشن کا نصیبہ بن گئی۔

شکستہ پائی، دل گرفتگی اور کم ہمتی۔
غلط راستے پر چلنے والوں کا یہی انجام!
شیطنت صفتی سے آلودہ منزل دور بلکہ مسدود اور معدوم نہ ہو تو کیا ہو
خود تیس تیس برس تک جمہوریت اور انسانی حقوق کے پردے میں چھپ کر خلق خدا کے منہ سے آخری لقمہ تک چھین لیا پر اگر کوئی رجل رشید اور بطل جلیل ان کی حرام پائیوں کی راہ میں سنگ گراں بن کر کھڑا ہو گیا تو انہوں نے پٹ سیاپوں سے کہرام کھڑا کر دیا۔ اپنی ہا ہا کار سے آسمان سرپر اٹھا لیا۔
ایسے ہی وہ انسانوں کی کھال اوڑھنے والے درندے ہوتے ہیں جن پر وقت ہمیشہ کی لعنت ثبت کر دیتا ہے۔
پاکستان کی انتشار زدہ”متحدہ“ اپوزیشن ہی وقت کی اس لعنت کی سزاوار ہے۔
سارے چور اچکے، بنگے چبے، ڈب کھڑبے اور ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے اپنے تمام تر دعووں اور وعدوں دھمکیوں اور دھماکوں ، بڑھکوں اور گیدڑ بھبھکیوں کے باوجود اس مرد درویش کا بال بیکا تک نہ کر سکے جسے اک عالم عمران خان کے نام سے جانتی ہے۔ عمران خان دھرتی کا وہ سپورت جو اپوزیشن کے ہر اوت اور کپوت کو سیاسی اعتبار سے ”الماس بوبی“ بنا چکا ہے
کیا کیا جتن نہیں کئے گئے عوام کے اس ہیرو کو نیچا دکھانے کے لئے ۔ ذرا یاد کیجئے پچھلے صرف ایک مہینے کے چند ایک واقعات جب سار کرم خوردہ اپوزیشن بزعم خوپش اس کے پیش کردہ پہلے سالانہ بجٹ کو منظور نہ ہونے کی قسمیں اٹھا چکی تھی۔اپنے اس مذموم مقصد کو پالینے کےلئے بھان متی کے اس کنبے نے کیا کیا پاپڑ نہ بیلے تھے، ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیا گیا۔ پارلیمانی طرز حکومت کے ایک بہت بڑے طیب یعنی نمبر گیم کو اپنے حق اور عمران خان کے خلاف کرنے کے لئے ”گھوڑوں کی منڈی“ لگانے کی بھی بہت کوششیں ہوئیں۔ دو ایک چھوٹی جماعتوں پر بہت باریک کام بھی ہوا۔ کچھ شواہد بھی ان کی قدرے کامیابی کی چغلی کھانے لگے تھے۔ مگر دوسروں کا برا چاہنے والا اس حقیقت ثابتہ سے یکسر بے خبر ہی رہا کہ مارنے والے سے بچانے والا زیادہ کار ساز اور مددگار ہوتا ہے۔ عمران خان کو پارلیمانی عددی قوت سے محروم کر دینے والوں کو خبر ہی نہ ہوئی کہ ان کی تو اپنی صفوں میںبغاوت پھیل چکی ہے۔ سو جس روز فیصلے کی گھڑی سر پر آن کھڑی ہوئی۔ بجٹ منظوری کا مرحلہ سامنے آیا ۔ تب اپوزیشن پر یہ عقدہ کھلا کہ اس کے تو اپنے نمبر کم ہو چکے ہیں اور یوں عمران حکومت مخالفین کی تمام تر منفی کوششوں کے باوجود قوم کو اپنا پہلا بجٹ دینے میں کامیاب ہوگئی۔ ساری اپوزیشن شکستہ پائی، دل گرفتگی اور سرمساری کے باعث ایک دوسرے کی بغلیں جھانکنے پر مجبور ہوگئی۔
حالات کا جبر بھان متی کے اس ٹولے کو ابھی کچھ اور کچوکے لگانا والا تھا۔ اس کا تعلق اے پی سی سے تھا۔ یہ نام نہاد آل پاکستان کانفرنس میں شریک ہونے والی پارٹیوں کی تعداد دو چنگچی رکشوں میں سما جانے والی تھی۔
آگے بڑھنے سے پہلے ذرا اے پی سی کے پس منظر پر طائرانہ نظر ڈال لیتے ہیں۔ عام انتخابات میں ساری شکست خوردہ یا حکومتی مسند سے محرومی کی شکار پارٹیاں اور اربوں کھربوں کی کرپشن میںملوث انکی قیادتیں اور بطور خاص احتسابی اداروں اور عدالتی کارروائیوں کے نتیجے میںجیلوں میں قید انکے قائدین ایک عرصے سے عمران حکومت کو گھر بھجوادینے کے ایجنڈے پر کام کرتی چلی آرہی تھیں مگر اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیوں یعنی نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی اپنی اپنی رابطہ مہم کے دوران ان پر یہ حقیقت واضح ہو چکی تھی کہ عوام ان کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے موجود ہ معاشی بحران، مہنگائی اور بے روزگاری کو ان پارٹیوں یعنی پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی سال ہا سال کی لوٹ کھسوٹ کا نتیجہ یقین کرنے لگے ہیں اور اس حوالے سے وہ عمران خان کے بیانیے سے زیادہ جڑے نظر آتے ہیں۔
ان حالات میں دونوں بڑی پارٹیوں کو اے پی سی کی ناکامی کا اندازہ ہی نہیں یقین ہو چکا تھا مگر چونکہ عوام میں اے پی سی کا اعلان کیا جاچکا تھا سو اپنی ساکھ بچانے کے لئے انہوںنے یقینی طور پر ناکام ہو جانے والی اے پی سی کا سہرا ملا ڈیزل کے سر باندھ دیا۔ ملا ڈیزل کے لئے یہ ”اعزاز“ ہی کافی تھا کہ وہ ملک بھر کی پارٹیوں کی اے پی سی کا سربراہ بنا دیا گیا تھا۔
اور پھر وہی ہوا جو ہونا طے تھا۔چائے کی پیالی میں ”انقلاب“ کا ابال آیا، کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے اور تشتن ،گفتن، باخاستن۔۔ سارے دعوے وعدے اور نعرے ٹیں ٹیں فش ۔ عمران خان برابر بر سراقتدار جبکہ انکے حریف جیلوں میں یا وہاں جانے کو تیار۔۔ اسے ہی کہا جاتا ہے قدرت کی لاٹھی بے آواز۔
جو دوسروں کے لئے گڑھے کھودتا ہے وہی گڑھے پھر جبڑے کھوسے دبوچ لیا کرتے ہیں۔
آہ ہماری انتشار زدہ ”متحدہ“ اپوزیشن
شکستہ پائی، دل گرفتگی اور کم ہمتی
کہاں گئے ملا ڈیزل دولت ہکا پجاری زردری اور وہ نواز نا شریف جس نے اپنے وسیع و عریض محلات میں اتنی کثیر اور خطیر دولت جمع کر لی کہ عزت رکھنے کے لئے کوئی جگہ ہی نہ بچی۔
اب تو عالم یہ ہے کہ شکست کے زخموں کو چاٹنے والی پارٹیاں اور ان کی رہنما ہستیاں عمران حکومت کو گرانے کے سوال پر منہ چھپاتی پھرتی ہیں۔ ایک بے بی بلاول ہے جو گاہے الماس بوبی بن کر اپنی ڈفلی بجانے کا جتن کرتا ہے اور ادھر ڈیپریشن کی شکار بیگم صفدر ہے جو جعل سازی میں اپنی مثال آپ ہے۔ کیلبری فونٹ اور دیگر دستاویزات میںٹمپرنگ کی سزا یافتہ مجرمہ ان دنوں عارضی ضمانت پر رہائی کے حالات کو شیطانی معاملات سے غلیظ کرتے ہوئے اپنے ہی پاو¿ں پر کلہاڑی ما ر رہی ہے۔ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے خلاف اس کے کارندوں کی بنائی گئی جعلی ویڈیو اور اسکی بنیاد پر پچھلے روز اپنی بوڑھی قیادت کے ہمراہ اس کی ڈیڑھ گھنٹے کی پریس کانفرنس اس کے لئے وبال جان اور پوری پارٹی قیادت کے لئے مشکلات کا جنجال بننے جا رہی ہے۔
زیادہ انتظار نہیںاب بیگم صفدر جیسی چالاک اور مکار لومڑی کی ضمانت کی تنسیخ ہوگی اور ایک پھر اپنے باپ کے پہلو میں اپنی قید کے باقی چھ سال کاٹے گی۔
نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی مجرم اور قید قیادتوں کے بعدن دونوں پارٹیاں تاریخ کے کوڑے دان کی خوراک بننے جا رہی ہیں۔ شکستہ پائی ۔ دل گرفتگی اور کم ہمتی!غلط راستوں پرچلنے والوں کا یہی انجام۔
اور ادھر عمران خان کرین گے عوامی بہبود کے کام، کام اور کام!!!!!

Scroll To Top