یہ جمہوریت اپنی موت آپ مرے گی تو پاکستان کی تقدیر پاکستانیوں کے ہاتھوں میں آئے گی 22-05-2015


گزشتہ شب مجھے عمران خان کی باتیں سننے کا اتفاق ہوا۔ وہ ڈان نیوز کی مہر عباسی کے سوالات کا جواب دے رہے تھے۔ مجھے خان صاحب کی یہ بات بڑی اچھی لگی کہ وہ تن تنہا زمینی خداﺅں کی رعونت کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ مگر میں یہ سوچے بغیر نہ رہ سکا کہ ایسی جنگ لڑنے کا کیا فائدہ جس کے نتائج وہ نہ ہوں جو آپ چاہتے ہیں ؟ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ہم ایک بار ایبٹ آباد جارہے تھے۔ وہاں کوئی جلسہ تھا۔ راستے میں خان صاحب کے ساتھ میری بڑی تندو تیز بحث ہوئی۔
میں نے کہا ۔ ” اگر یہ فاسق و فاجر نظام اپنی سے بڑی طاقت کی مداخلت کے بغیر ختم ہوگیا تو یہ تاریخ کا سب سے بڑا معجزہ ہوگا۔ اگر یہ طاقت نہتّے اور بے بس عوام کے پاس ہوتی تو اب تک فسق و فجور کا یہ نظام تاریخ کے کباڑ خانے میں پھینکا جاچکا ہوتا۔ عوام کروڑوں کی تعداد میں ہیں اور اس نظام کو چلانے والے چند سو یا ہزار سے زیادہ نہیں۔ “
” آپ کے خیال میں فوجی مداخلت کے بغیر عوام کو انصاف نہیں مل سکتا ؟“ خان صاحب نے ذرا تلخ لہجے میں کہا۔
” میںیہ نہیں کہہ رہا۔۔۔ میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ اس نظام کو ختم کرنے کے لئے اس نظام سے زیادہ طاقتور قوت چاہئے۔ عوام کے پاس صرف اتنی طاقت ہے کہ وہ ووٹ ڈال دیتے ہیں۔ ان کے ووٹ کبھی گنے جاتے ہیں یا نہیں یا فیصلہ کن ہوتے ہیں یا نہیں ` اس کی کوئی ضمانت ہماری جمہوریت میں نہیں۔ یہ جمہوریت میرے نزدیک وسائل پر قابض طبقوں کے گٹھ جوڑ کا نام ہے۔ وہ اقتدار کے لئے آپس میں تو لڑتے رہیں گے مگر عوام کو صرف ووٹ دینے کے حق تک محدود رکھیں گے۔ میں آپ کے ساتھ اِس لئے نہیں ہوں کہ آپ جمہوریت کے علمبردار ہیں۔ میں آپ کے ساتھ اس لئے ہوں کہ آپ سچے دل کے ساتھ تبدیلی چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی خواہش پوری کرے لیکن اگر جمہوریت کے ذریعے اس ملک میں کوئی تبدیلی آگئی تو یہ اکیسویں صدی کا ایک بڑا معجزہ ہوگا۔“
مجھے یاد پڑتا ہے کہ میری یہ بات عمران خان کو اچھی نہیں لگی تھی۔ مگر میں نے خلوص نیت کے ساتھ ہمیشہ یہ دعا کی ہے کہ جمہوریت کے بارے میں میرے اندیشے خدا غلط ثابت کردے۔
ہماری جمہوریت میں` اہل وسائل پروان چڑھتے ہیں۔ طالع آزماﺅں کے گروہ ابھرتے ہیں۔ علاقائیت ` نسلیت ` لسانیت اور تنگ نظری کے عفریت طاقت پکڑتے ہیں۔ ہماری جمہوریت بالآخر شاید بلوچوں ` سندھیوں` مہاجروں ` پٹھانوں اور پنجابیوں کے لئے بڑی نعمت ثابت ہو۔۔۔ مگر پاکستانیوں کو یہ جمہوریت کبھی راس نہیں آئے گی۔
یہ جمہوریت اپنی موت آپ مرے گی تو پاکستان کی تقدیر پاکستانیوں کے ہاتھوں میں آئے گی ۔

Scroll To Top