نسیجوں کی سرجری کے بعد مفلوج ہاتھ دوبارہ کام کرنے لگا

حادثے کے بعد جتنی جلدی سرجری کرائی جائے اتنا ہی زیادہ فائدہ ہوتا ہے، ماہرین۔ فوٹو: فائل

یہ کامیاب تجربہ آسٹن ہیلتھ کمپنی کی نتاشا وین زائل نے کیا ہے۔ ان کا ایک مریض اب یورپ کے سفر پر ہے اور دوسرا اپنے بچوں کو اسکول اور بازار لے جارہا ہے۔ اس طرح ایک درجن سے زائد افراد کی زندگی میں بہتری پیدا ہوئی ہے۔

اگرچہ دنیا بھر میں اس طریقہ علاج پر کام جاری تھا لیکن اس میں معمولی کامیابی مل سکی تھی۔ لیکن اب پروفیسر نتاشا اور ان کے ساتھیوں نے 16 ایسے مریضوں کا علاج کیا ہے جو حادثے کے شکار ہوئے تھے اور ان کے حرام مغز پر شدید چوٹ کے بعد ان کا ایک بازو اور ایک ٹانگ مفلوج ہوچکی تھی۔ اکثر گاڑی کے حادثات سے اپاہج ہوئے تھے اور بقیہ گرنے اور کھیل کےدوران مفلوج ہوئے تھے۔

Scroll To Top