کرپٹ عناصر سے نمٹنے کےلئے آپریشنل میتھڈالوجی کامیاب رہی ہے، چیئرمین نیب

  • کرپٹ عناصر سے نمٹنے کے لیے قومی احتساب بیورو کی حکمت عملی شاندار ہے، گزشتہ برسوں کی نسبت کرپشن کی دوگنی شکایات موصول ہو رہی ہیں
  • افسران بدعنوانی کے خاتمے کو اپنا قومی فرض سمجھتے ہوئے قانون کے مطابق بلاامتیاز ’سب کے احتساب‘ کی پالیسی پر عمل کرنے کےلئے اپنی کوششیں تیزکریں

اسلام آباد(آن لائن )قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا ہے کہ بدعنوان عناصر سے قانون کے مطابق نمٹنے کے لئے نیب کی آپریشنل میتھڈالوجی کامیاب رہی ہے، نیب کو گزشتہ سال کے مقابلے میں 2019ءمیں دگنی شکایات موصول ہوئی ہیں جو کہ نیب کی کارکردگی پر عوام کے اعتماد کا مظہر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیب ہیڈ کوارٹرز میں آپریشنل میتھڈالوجی کے جائزہ سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نیب حقیقی شکایات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، جو درخواستیں بدعنوانی کے خلاف ٹھوس شواہد اور دستاویزات کی بنیاد پر دائر کی جاتی ہیں، نیب کے آپریشنل میتھڈالوجی کے مطابق درخواست وصول کرنے کے بعد شکایت کی جانچ پڑتال کا عمل شروع کیا جاتا ہے، شکایت کے مندرجات میں کچھ حقیقت سامنے آنے کے بعد شکایت کنندہ کو بلایا جاتا ہے اور وہ اس تناظر میں اپنا بیان حلفی جمع کراتا ہے۔ نیب کے آپریشنل میتھڈالوجی کے تحت شکایت کی جانچ پڑتال کے اس طریقہ کار سے کسی کو نقصان پہنچانے اور غیر سنجیدہ شکایت کو ابتدائی سطح پر نمٹانے میں مدد ملتی ہے، اگر یہ حقیقت ثابت ہو جاتی ہے تو اس سے جس پر الزام لگایا جاتا ہے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ تمام شکایت کنندگان سے بیان حلفی لیا جاتا ہے کہ ان کی شکایت غیر سنجیدہ نہیں ہے۔ 2 ماہ کی شکایت کی جانچ پڑتال کے عمل کے بعد بعض ٹھوس شواہد کی بنیاد پر اس معاملہ کی مزید تحقیقات کیلئے انکوائری کی منظوری دی جاتی ہے۔ انکوائری کے عمل کے دوران شکایت کنندہ اور ملزمان کو دستیاب شواہد اور مبینہ الزامات کے تناظر میں بیانات دینے کیلئے بلایا جاتا ہے تاہم ملزم کو یہ بھرپور موقع دیا جاتا ہے کہ وہ اپنا دفاع کرے اور اس حوالہ سے دستاویزات فراہم کرے اور اس کے بعد دستاویزی شواہد کا اس پر لگے بدعنوانی کے الزامات کے تناظر میں جائزہ لیا جاتا ہے، انکوائری کا عمل چار ماہ میں مکمل ہوتا ہے، اگر انکوائری کے بعد اس مقدمہ میں مزید ناقابل تردید شواہد حاصل ہوتے ہیں تو اس کیس کو انوسٹی گیشن میں تبدیل کر دیا جاتا ہے جو کہ چار ماہ میں مکمل کی جاتی ہے۔ انوسٹی گیشن کے دوران شکایت اور ٹھوس شواہد کی مزید جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ نیب کے آپریشن اور پراسیکیوشن ڈویژن اس پر مزید جامع غور کرتے ہیں۔ اس کے بعد اختیارات کے ناجائز استعمال، بدعنوانی، اس سے قومی خزانہ کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ، اس کی وجوہات سے متعلق ملزم کے کردار کا تعین کیا جاتا ہے اور اسے پری ایگزیکٹو بورڈ میں پیش کیا جاتا ہے۔ پری ایگزیکٹو بورڈ اجلاس نیب کا اعلیٰ اختیاراتی مشاورتی فورم ہے جس میں انکوائری اور انوسٹی گیشن رپورٹس اور دستاویزات کی مزید جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ ٹھوس اور بلاتردید شواہد کی بنیاد پر انوسٹی گیشن کے بعد حتمی بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے کیلئے اسے منظوری کیلئے نیب کے ایگزیکٹو بورڈ میں پیش کیا جاتا ہے۔ چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی صدارت میں نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں تمام متعلقہ ڈائریکٹر جنرلز، ڈائریکٹر جنرل آپریشن، پراسیکیوٹر جنرل (پی جی اے)، اے پی جی ایز اور نیب کے سینئر افسران اجتماعی دانش کی بنیاد پر مقدمات پر تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد منظوری دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کے لئے شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائری، انویسٹی گیشن اور بدعنوانی کے ریفرنس متعلقہ نیب عدالتوں میں دائر کرنے کے لئے دس ماہ کا عرصہ مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہ اکہ نیب نے سینئر سپروائزری افسران کی اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھانے کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نظام وضع کیا ہے اس سے نہ صرف نیب کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے بلکہ کوئی بھی فرد نیب کی تحقیقات پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہاکہ نیب نے ڈیجیٹل فرانزک سوالیہ دستاویزات اور فنگر پرنٹس کے تجزیئے کے لئے جدید فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب افسران بدعنوانی کے خاتمے کو اپنا قومی فرض سمجھتے ہوئے قانون کے مطابق بلاامتیاز ’سب کے احتساب‘ کی پالیسی پر عمل کرنے کے لئے اپنی کوششیں دگنا کریں۔ #/s#

Scroll To Top