پچھلی قوموں کی تباہی کا سبب امیر کے لئے الگ، غریب کے لئے الگ قانون کفر کے ساتھ تو معاشرے زندہ رہ سکتے ہیںمگر ظلم کے ساتھ نہیں

  • قانون اور عدل و انصاف کے شعبوں کے حوالے سے نون لیگ کا کردار ہمیشہ سے ہی محل نظر رہا ہے۔ ماضی میں سپریم کورٹ پر حملے سے لے کر پچھلے سال نواز شریف کے عوامی اجتمامات سے خطاب تک حالات و واقعات کا ایک تسلسل ہے جس سے ایک اہم سیاسی جماعت کے وابستگان کی جانب سے عدلیہ کے حوالے سے ایک قابل اعتراض استہزائیہ رویہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ اور اب تازہ ترین واردات احتساب عدالت کے معزز جج ارشد ملک صاحب کے حوالے سے ایک جعلی آڈیو ویڈیو فلم کی صورت میں سامنے آئی ہے، جس کی اصابت پر ہر طرف سے انگلیاں اٹھتی نظر آتی ہیں

میرے آقاﷺکا ارشاد گرامی ہے
وہ قومیں تباہ ہوئیں جنہوں نے امیر کے لئے الگ اور غریب کے لئے الگ قانون بنا رکھے تھے۔
قانون کے حوالے سے آبادی کی یہ تقسیم دراصل ظلم کے معنی میں آتی ہے
اور اس ضمن میں حضرت علیؓ کا قول زریں ہے۔
کفر کے معاشرے تو زندہ رہ سکتے ہیں مگر ظلم والے معاشرے نہیں
افسوس ظلم والے معاشرے میں ہی رہ رہے ہیں۔
زرداری، نام کے شریف اور ان کی ایک عورت بیگم صفدر اسی ظالمانہ نظام کی ایک علامت ہے
ایک لاڈلی ضدی اور خود سر نانی اماں
پچھلے روز ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح اپنی ہی جماعت پر خود کش حملہ کر بیٹھی۔ چالاکی اس سات سال کی قید کی سزاوار مجرمہ نے یہ کہ عارضی ضمانت پر ہوتے ہوئے بھی اپنے نا اہل اور مجرم باپ نواز شریف کے ساتھ مل کر کوٹ لکھپت جیل کی فائیوسٹار کو ٹھڑی میں ہمارے قانونی ڈھانچے کے خلاف ایک سازش تیار کی جوہر لحاظ سے غیر اخلاقی اور غیر قانونی ہے۔ اور پھر اس سازش کے تحت ایک جعلی ویڈیو کے ذریعے نہ صرف احتساب عدالت کے محترم جج ارشد ملک صاحب کے خلاف ہرزہ سرائی کی مرتکب ہوئی بلکہ ان پر یہ الزام بھی داغ دیا کہ انہوں نے العزیز یہ کیس میں نواز شریف کو دس سال قید اور جرمانے کی سزا کی بیرونی دباو¿ کے تحت سنااٹھی۔
ایسی بیہودہ دشنام طرازی کرتے ہوئے بیگم صفدر بھول گئی کہ اس کی جماعت تو خود عدلیہ کی بے حرمتی اور توہین میں پیش پیش رہی ہے۔ وہ بھول گئی کہ 30نومبر1997کو نواز شریف کی موجودگی میں نون لیگ کے غنڈوں نے ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ پر حملہ کر دیا تھا اور عزت مآب چیف جسٹس کمرہ عدالت چھوڑ کر اپنے چیمبر میں واپس چلے گئے تھے۔
اسی دوران نواز شریف کے ایماپر سابق جج رفیق تارڑ اپنے مشہور ”بریف کیس مشن“ پر کوئٹہ گئے تھے اس کے بعد سب تاریخ ہے۔
پر افوس بیگم صفدر کو تاریخ یعنی DATEسے تو دلچسپی رہی ہے مگر تاریخ بھی ہسٹری سے کوئی رشتہ و تعلق نہیں ہے۔
اسی طرح نون لیگ کی سرشت ہی مال و زر کے بدلے لوگوں کی وفاداریاں خریدنے سے عبارت چلی آرہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ باضمیر افراد کی تعداد بھی اس سماج میں موجود ہے جو اس خریدو فروخت کا حصہ بننے کی بجائے اپنے ضمیر کی آواز اور قانون کی درست تشریح کے تابع رکھتے ہیں، نواز شریف کو کرپشن کے الزام میں دس سالہ قید کی سزا سنانے اور ایک دوسرے مقدمے میں ناکافی شہادتوں کے باعث رہا کرنے والے جج جناب ارشد ملک انہی با ضمیر جج صاحبان کی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔
نون لیگ او ر نواز شریف کے بعد اس کی لاڈلی بیٹی بیگم صفدر کی سرشت ہی جرائم پروری سے عبارت چلی آ رہی ہے۔ جس کی تفصیل کے لئے ایک دفتر درکار ہے۔ فی الوقت میں خود کو بیگم صفدر کے جرائم اور جعل سازی تک محدود رکھتا ہوں۔ مثلاً پچھلے سال تک سپریم کورٹ میں زیر سماعت رہنے والے پانامہ کیس (باقی صفحہ7 بقیہ نمبر26
کے دوران ایک مرحلے پر موصوفہ کی ایک خوفناک جعل سازی پکڑی گئی تھی جو کیلبری فونٹ کے حوالے سے تھی اور اس کا تعلق ایک ایسی دستاویز سے تھا جسے کئی سال پہلے کی تاریخ میں ظاہر کیا گیا تھا ۔ جبکہ زیر حوالہ فونٹ متعلقہ کمپنی نے اس کے کئی سال بعد مارکیٹ میں متعارف کرایا تھا۔
اسی طرح وقت کے ایک دوسرے دورانیے میں اینکر پرسن ثنا بھٹہ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں بیگم صفدر اعوان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی بیرون ملک تو کجا ملک کے اندر بھی کوئی جائیداد نہیں۔ اس نے شدید حیرت اور احتجاجی لیجے میں مزید کہا کہ وہ نہیں جانتیں کہ لوگ کہاں کہاں سے ان کی جائیداد تلاش کر لاتے ہیں۔
اور پھر ایک عالم نے دیکھا کہ بیگم صفدر نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی اربوں روپے کی جائیداد کی بینی فشری اونر ہیں۔ اور وہ اربوں روپے مالیت کے سونے نقدی اور شیئرز کی مالک بتائی جاتی ہیں۔
جاتی عمرہ کے اندرونی حالات سے باخبر ذرائع سمجھتے ہیں کہ پچھلے سال ستمبر میں ضمانت پر رہائی کے بعد سے چند ہفتے پہلے تک بیگم صفدر کی پراسرار خاموشی کی دیگر وجودہ کے ساتھ ایک بڑا سبب یہ بھی برے حال تک پہنچانے کی ذمہ دار سمجھتی تھی جس کے سبب سے وہ شدید اعصابی دباو¿، تناو¿ اور کچھاو¿ کے ساتھ ڈپریشن جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوگئی تھی۔جسے بعد میں مگر اس کے باپ نے اپنے شفیقانہ رویے سے دور کرنے کے بعت جتن کئے۔
اسی دوران ملکی سطح پر پردے کے پیچھے جیسی ڈپلو میسی کے ذریعے کچھ لو کچھ دور دو کے حوالے سے مذاکرات کا سلسلہ جارہا ظاہری بات ہے اس دوران ماحول کو ٹھنڈا رکھنے کی غرض سے نواز شریف اور بیگم صفدر نے پر اسرار چپ سادھے رکھی۔ ذرائع کے مطابق معاملہ7.6ارب ڈالر کی واپسی کا تھا مگر جس کے لئے نواز شریف کی اولاد ”چمڑی جائے دمڑی نہ جائے“ کے مصداق مال مسروقہ میں سے ایک دھیلا واپس کرنے پر آمادہ نہ تھی اس ضمن میں چندہ ماہ پہلے شوباز نا شریف اپنے بھتیجوں حسن اور حسین کو یہی نکتہ سمجھانے گیا تھا کہ نیب کے قوانین کے مطابق پلی بارگینگ کی سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئی نیب کو جرمانہ ادا کردیں اور پھر عمر بھر سکھ چین سے دنیا کے کسی بھی صحت افزا مقام پر جا کر آباد ہو جائیں۔
یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ شوباز نا شریف کو دو ماہ بعد بے نیل وحرام یورپ سے واپس آنا پڑا۔
اسی دوران قطری شہزادے کے دورہ پاکستان میں اس ملک کی طرف سے دی جانے والی بظاہر سرمایہ کاری کی ایک خطیر رقم کو نام کے شریف خاندان کی طرف سے لوٹ کھسوٹ کے پیسے کی بالواسطہ واپسی ہی سمجھا گیا ۔ مگر ازاں بعد یہ خوش گمانی پانی کا بلبلہ ثابت ہوئی۔
اسی دوران شریف خاندان ایک بار پھر چمڑی کی بجائے دمڑی سجانے کی لعنت میں مبتلا ہو گیا اور ساتھ ہی اس نے مزاحمت کا سابقہ بیانیہ اپنا لیا۔ بیگم صفدر اعوان کی جج ارشد ملک کے خلاف سنگین الزامات پر مبنی جعلی ویڈیو اسی سلسلے کی کڑی تھی اور اس سے اگلے روز منڈی بہاو¿ الدیشن میں جلسہ عام کی تکرار اس کی توسیع شدہ کڑی۔
قانونی ماہرین مگر سمجھتے ہیں کہ بیگم صفدر نے اپنے باپ کو تو ڈبویا ہی تھا اب تازہ تریں خود کشی حملے کے ذریعے پارٹی کو بھی لے ڈوبی ہے۔۔

Scroll To Top