They Never Come Back (چیمپئن واپس نہیں آیا کرتے) 21-05-2015

جناب آصف علی زرداری نے پشاور میں پی پی پی کے بلدیاتی کنونشن سے خطا ب کرتے ہوئے عمران خان کو نقلی پختون اور اپنے آپ کو اصلی قراردیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ” بھٹو شہید “ کی جماعت کو دوبارہ اوجِ ثریا تک پہنچا کر دم لیں گے۔ انہوں نے تمام مخالف قوتوں کوہوشیار و خبردار بھی کیا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری پارٹی کی تقدیر جگانے کے لئے جلد واپس آرہے ہیں۔ میرا خیال تھا کہ اس کے بعد وہ کہیں گے کہ ” اب عمران خان کو سرزمین پاکستان پر کہیں پناہ نہیں ملے گی۔“ 

ایک بات تو زرداری صاحب کو یہ معلوم ہونی چاہئے کہ قومی لیڈر پختون ` سندھی ` پنجابی یا بلوچ نہیں ہوا کرتا۔ اس کے پاس سندھ کارڈ قسم کا کوئی کارڈ نہیں ہوا کرتا۔ جہاں تک عمران خان کی پختونیت کا تعلق ہے ان کی پارٹی نے انتخابات ضرور خیبر پختونخوا میں جیتے ہیں لیکن وہ نیازی ہونے کے باوجود بنیادی طور پر لاہوری ہیں۔زرداری صاحب اکثر قربانیوں کا ذکر کیا کرتے ہیں۔ انہوں نے جو قربانیاں دی ہیں اُن کا صلہ بھی حاصل کیاہے۔ اس وقت وہ ملک کے چند امیر ترین اصحاب میں ایک ہوں گے۔ میاں نوازشریف کی دولت کا اندازہ لگانا اس لئے آسان ہوتا ہے کہ وہ نظر آرہی ہوتی ہے۔ زرداری صاحب کتنے امیر ہیں اس کا صحیح علم اس لئے نہیں ہوسکتا کہ ان کی دولت کا بیشتر حصہ نظروں سے اوجھل ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا کہ بھٹو خاندان کی تمام تر شہادتوں کا پھل زرداری صاحب نے ہی کھایا ہے۔ بلکہ اب تو ان کی ہمشیرہ بھی پھل کھانے میں شامل ہوچکی ہیں۔
زرداری صاحب کو بڑا منجھا ہوا سیاست دان کہا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے وہ ضرور منجھے ہوئے ہیں کہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے جب چاہیں جسے چاہیں گلے لگا سکتے ہیں۔ لیکن ان کی اکثر حکمت عملیاں غلط ثابت ہوئی ہیں۔ ایک طرف انہوں نے میاں نوازشریف کے ساتھ مک مکاﺅ کر رکھا تھا ۔ دوسری طرف انہوں نے یہ امید باندھ لی کہ عمران خان کی مقبولیت نون لیگ کا ووٹ بنک تقسیم کرے گی جس کا فائدہ پی پی پی کوپہنچے گا۔ پھر ہوا یہ کہ پی پی پی مقابلے کی دوڑ سے ہی نکل گئی۔ اگر تحریک انصاف کو بعض حلقوں سے ہرانے کا بندوبست نہ کیا جاتا تو سید خورشید شاہ اپوزیشن لیڈر بنے نظر نہ آتے۔
بہرحال سیاسی جماعتوں کے بارے میں بھی وہی مشہور مقولہ صادق آتا ہے کہ They never come back—یہ مقولہ باکسنگ کی ہیوی ویٹ چیمپئن شپ کے بارے میں رائج تھا۔ جب بھی کوئی ہیوی ویٹ چیپمئن ہارتا تھا تو کہا جاتا تھا کہ وہ ہمیشہ کے لئے ہار گیا۔ اس مقولے کو 1959ءمیں فلائڈپیٹرسن نے غلط ثابت کیا جب انہوں نے انگمر جوہانسن کے ساتھ دوسرا مقابلہ جیت لیا ۔ پہلے مقابلے میں جوہانسن نے پیٹرسن کو ناک آﺅٹ کرکے ان سے ہیوی ویٹ چیمپئن شپ کا اعزاز چھین لیا تھا۔
پی پی پی کی واپسی کی صورت اس لئے نظر نہیں آتی کہ اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو اپنی قبر سے اٹھ کر پہلے اپنی پارٹی کو اپنے شوہر کے شکنجے سے چھڑائیں اور پھر کھوئی ہوئی ساکھ اور مقبولیت کی بحالی کیلئے میدان میں اتریں۔
یہ بات بلاول بھٹو زرداری کے بس کی نہیں۔۔۔

Scroll To Top