ویڈیو کی گتھی سلجھانے کے لئے شرلاک ہومز میدانِ تفتیش میں۔۔۔

میں نے ایڈگرایلن پو کی ایک شارٹ سٹوری پڑھی تھی جس کا مرکزی خیال یہ تھا کہ اگرچہ تھیوری میں ایک پرفیکٹ کرائم یعنی ” مکمل جرم“ کی منصوبہ بندی کی جاسکتی ہے لیکن چونکہ اس منصوبہ بندی پر عمل درآمد ایک بشر یعنی خطا کے پتلے نے کرنا ہے اس لئے وہ مکمل جرم کہیں نہ کہیں ” قدموں کے نشان“ چھوڑ جاتا ہے جو سراغ رساں کی نظروں سے چھپے نہیں رہتے۔ اس کہانی کا مرکزی کردار جیل میں مُڑ کر اپنے جرم کا جائزہ لیتاہے تو خود اسے بھی قدموں کے متذکرہ نشان نظر آجاتے ہیں۔۔۔
مریم صفدر نے کیلیبری فونٹ والے جرم سے کچھ سیکھا ہوتا تو حالیہ جرم کی منصوبہ بندی ذرا سوچ سمجھ کر کرتیں۔ لیکن لگتا ہے کہ اِس جرم کی منصوبہ بندی بہت سارے دماغوں نے مل کر کی ہے جس کی وجہ سے جھول رہ گئے ہیں۔ ایک بات جو مریم صفدر اور ان کے ” شرکائے جرم“ نے نظرانداز کی وہ یہ تھی کہ سراغ رساں ہمیشہ پہلے یہ دیکھتا ہے کہ اس جرم کا بنیادی ہدف یا مقصد کیا ہے۔ اگر اس جرم کی تفتیش شرلاک ہومز کررہا ہوتا تو ڈاکٹر واٹسن سے پوچھتا۔
” سیدھا سا کیس ہے واٹسن۔ جو بھی مجرم ہے اس کا مقصد اُس پورے ٹرائل کو متنازعہ بنانا ہے جس کے نتیجے میں نوازشریف کوسزا ہوئی ہے۔ اور اس جرم کی منصوبہ بندی تبھی کرلی گئی تھی جب ٹرائل آخری مراحل میں تھا۔۔۔“
” وہ کیسے ؟ “ ڈاکٹر واٹسن معصومیت سے پوچھتے۔۔۔اور شرلاک ہومز جواب دیتے۔۔۔
” مریم صفدر نے بھی مانا ہے اور جج ارشد ملک نے اپنے وضاحتی بیان میں بھی تسلیم کیا ہے کہ ناصر بٹ نامی شخص کی جج صاحب سے کافی پرانی جان پہچا ن تھی ۔ چونکہ یہ بات سامنے آچکی ہے کہ ناصر بٹ ایک مفرور ملزم یا مجرم تھاجو لندن جاکر میاں صاحب کا دست راست بن گیا ۔اس لئے جب ٹرائل آخری مراحل میں تھا تو میاں صاحب نے جج بشیر کے خلاف شور مچانا شروع کردیا اور کہا کہ اس جج سے انہیں انصاف کی امید نہیں۔ چنانچہ میاں صاحب کی خواہش کے عین مطابق جج ارشد ملک نے ٹرائل کا چارج سنبھال لیا جس سے میاں صاحب کی امید بندھی کہ اب وہ اپنی پسند اور مرضی کا انصاف حاصل کرلیں گے جیسا اور جس انداز میں جسٹس )ر(قیوم سے حاصل کیا گیا تھا۔ جرم کی منصوبہ بندی کا آغاز اُسی زمانے میں ہو گیا تھا ۔ میاں صاحب جان گئے ہوں گے کہ جج ارشد ملک دباﺅ یا لالچ میں آکر ویسا انصاف دینے کے لئے تیار نہیں جیسا میاں صاحب چاہ رہے تھے۔ چنانچہ جج موصوف کی ناصر بٹ کے ساتھ مختلف ملاقاتوں کی ویڈیو ریکارڈنگ اور آڈیو ریکارڈنگ کی گئی۔ تاکہ بوقت ضرورت ایک جامع ویڈیو تیار کی جاسکے جو پورے ٹرائل کو متنازعہ بنا دے۔ مجھے یقین ہے کہ جج ارشد ملک بلیک میل کئے گئے ہوںگے۔ اُن کاقصور واضح طور پر یہ ہے کہ انہوں نے ناصر بٹ جیسے شخص کے ساتھ میل جول جاری رکھا ۔ آئیڈیل بات یہ ہوتی کہ وہ یہ جانتے ہوئے کہ اس خطرناک شخص کے گہرے تعلقات شریف فیملی سے ہیں ¾ اپنے گھرکے دروازے اُن پر بند کردیتے اور بند رکھتے۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ شاید اس لئے کہ انہوں نے اپنے ضمیر کو یہ کہہ کر مطمئن کرلیا ہوگا کہ میں فیصلہ دباﺅ اور لالچ میں آئے بغیر کروں گا۔ بہرحال یہ بات طے ہے کہ مریم بی بی نے یہ ٹرمپ کارڈ اپنے آخری ہتھیار کے طور پر سنبھالے رکھا۔ اب انہوں نے استعمال کرلیا ہے یہ سوچ کر کہ ٹرائل متنازعہ ہوجائے گا اور دوبارہ ٹرائل کے لئے شور مچانا ممکن ہوجائے گا۔“
ڈاکٹر واٹسن یہاں کہتے ۔ ” لیکن ہومز ۔۔۔کیا یہ ممکن ہے ؟ اتنا سارا پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہے۔ اب واقعات کو اور تاریخ کو ” رول بیک “ کیسے کیا جاسکتا ہے ؟“
ہومز کہتے۔۔۔
” مریم بی بی کو آخری امید یہی نظر آئی ہوگی کہ جج ارشد ملک کے کردار کو بہت زیادہ متنازعہ بنا دیا جائے ۔ لیکن یہ امکان نظر انداز کرکے انہوں نے غلطی کی کہ جج ارشد ملک چُپ نہیں رہیں گے اور اپنے کردار کا دفاع بھرپور انداز میں کریں گے ۔ مریم بی بی یہ بھی بھول گئیں کہ ہماری حسّاس ایجنسیاں غافل نہیں ہوتیں۔ جب ویڈیو کو فرانزک ٹیسٹ کے مرحلے سے گزارا جائے گا تومریم بی بی خود پھنس جائیں گی۔“
” گویا آپ کی تفتیش مکمل ہوگئی ہومز؟“ ڈاکٹر واٹسن کہتے۔۔۔
شرلاک ہومز جواب دیتے۔ ” میں مریم بی بی کے اس بیان کے بارے میں سوچ رہا ہوں کہ میں آخری حد تک جاﺅں گی۔ وہ آخری حد کیا ہوسکتی ہے پیارے واٹسن؟ کہیں مریم بی بی کا ارادہ واقعی اپنے باپ کو مرسی بنا کر خود بے نظیر بھٹو بننے کا تو نہیں ۔۔۔؟ میرے خیال میں حکومت کو چاہئے کہ نوازشریف کو مریم بی بی کی پہنچ سے دور رکھے۔۔۔ وہ واقعی اپنا راستہ صاف کرنے کے لئے کچھ بھی کرسکتی ہیں۔۔“

Scroll To Top