نام کے شریفوں کا نیا تماشا الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ایک ہی سکے کے دو رخ بیگم صفدر اور جعل سازی

  • چالاک و مکار لومڑی کی یرغمالی بنی نونی پارٹی 
  • قابل ِ رحم ہیں وہ ”بزرگ قائدین“ جو زرخیز غلاموں کی سی بے بسی کے ساتھ ایک ناہنجاز نانی اماں سے اپنی بھد اڑواتے رہے۔
  • پمرا اور میڈیا نے عدلیہ دشمنی پر مبنی پریس کانفرنس کی لائیو کوریج کیون کی اس پر گرفت لازمی ہے۔
  • بیگم صفدر ، شہباز ، خاقان اور خواجہ آصف سمیت سٹیج پر براجمان ساری جنج قانون کی نظر میں شریک جرم قرار پائے گی
  • جج ارشد ملک نے تمام الزامات کی تردید کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کا امکان

کالم کا آغاز ”کتاب چہرہ“ فیس بک پر میری دو پوسٹس کے ساتھ
چالاک ومکار لومڑی کی یرغمالی بنی نونی پارٹی!
ابے ”ٹھاکر“ اب تو تو گئیوکام سے۔
قابل ِ رحم ہیں میرے ممدوح وہ ”بزرگ قائدین“ جو زرخیز غلاموں کی بے بسی کے ساتھ چالاک لومڑی کے یرغمالی بنے اپنی بھد اڑواتے رہے۔
میں ہی نہیں سارا جگ انگشت بدندان ہے کہ ایک جماعت سال ہا سال کے تلخ و شیریں اور کھٹے مٹھے تجربات کے باوجود راہ راست پر آنے کے لئے کچھ نہ سیکھ سکی۔ اور اس جماعت کی گھریلو قیادت کو یہ غیر تبدل حقیقت سمجھ نہ آسکی کہ وہ غریب قوم کا مستقبل لوٹ کر اربوں کھربوں سے اپنی جو اوجڑیاں اور تجوریاں بھرتے چلے جا رہے ہیں۔ وہ قبر میں اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتے بلکہ الٹا یہ حرام مال ان کے لئے دوزخ کی آگ کا ایندھن بنتا چلا جا رہا ہے۔
قارئین محترم اب تک یقینا اس خبر سے آگاہ ہو چکے ہوں گے جس کے مطابق بیگم صفدر نے اپنے چاچے شہباز، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف اور دیگر کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس ایسی آڈیو ویڈیو فلم دکھائی، جس میں احتساب عدالت کے جج صاحب جناب ارشد ملک مبینہ طور پر یہ اعتراف کرتے سنائی دیتے ہیں کہ انہوں نے العزیز یہ کیس میں بیرونی دباو¿ کے تحت نواز شریف کو 10سال قید کی سزا سنائی۔
بیگم صفدر کے بیان کے مطابق مذکورہ متنازعہ فلم ناصر بٹ نامی نواز شریف کے ایک پرستا نے ایک دوسرے ساتھی کی مدد سے تیار کی اور اس کا محل وقوع جج ارشد ملک صاحب کا گھر ہے۔ ناصر بٹ نون لیگ برطانیہ کا نائٹ صدر اور راولپنڈی کا رہائشی جس نے شہر میں کچھ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار کر برطانیہ میں سیاسی پناہ لے لی تھی۔ اور اب اس کی نام کے شریفوں سے قربت کا یہ عالم ہے کہ وہ ان لوگوں کے دورہ برطانیہ میں ہمہ وقت ان کی خدمت میں رہتا ہے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جج ارشد ملک صاحب کے خلاف اس نوعیت کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ اس موقع پر کیوں منظر عام پرلائی گئی۔ اس کام کے لئے بالکل مناسب اور حسب حال ٹائمنگ تو مقدمے کی سماعت کا موقع تھی تاکہ اس کی بنیاد پر نواز شریف وغیرہ کو کئی ریلیف ملنے کی سبیل پیدا ہو سکی ۔
ایک ماہر قانون دوست نے بتایا کہ اس ویڈیو کی ٹائمنگ پر بہترین تبصرہ یہی ہو سکتا ہے کہ لڑائی کے خاتمے کے بعد جو کھونسہ یاد آجائے اسے اپنے ہی منہ پر دے مارنا چاہئے۔ ان کی دوسری رائے تھی کہ ایسی ویڈیو کا اصل مقام میڈیا نہیں عدالت ہے۔ نون لیگی قیادت نے میڈیا پر تماشہ لگا کر ۔۔۔ بد نیتی کا مظاہرہ کیا ہے۔
نونیوں کی بدنیتی کیا ہے۔ اور وقت کے اس مرحلے پر ایسی متنازعہ ویڈیو منظر عام پر لانے کا مقصد کیا ہو سکت اہے۔
میرا سادہ سا جواب ہے۔ مظلومیت! نونی قیادت ہر قسم کی قانونی اور عدالتی جنگ ہار چکا ہے اب وہ سمجھتی ہو گی کہ اس کے پاس ایک ہی آپشن بچی ہے اور وہ میڈیا جو معاملات کو سنسنی خیز انداز میں اچھالنے کا عادی ہے اور یوں میڈیا کی اچھل کود کے ذریعے نونی قیادت اپنے ووٹروں سپورٹروں کو متاثر کرنے کی کوشش میں ”کامیاب “ ہو سکتی ہے۔ گویا اس میڈیا کے ذریعے نونی خاندان کسی قانونی فائدے کی بجائے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔
اس خانوادے کی دوسری کوشش ہر دوسرے ہم عصر مافیا کی طرح یہ ہے کہ انہیں مختلف معاشی اور فوجداری جرائم کی پاداش میں جس عدالت سے سزا ملی ہے اسے بدنام کر دیا جائے۔ اس عدالت کے جج کو متنازعہ کردار کا مالک بنا کر عوامی نظرون میں اسے منفی کردار بنا دیا جائے تا کہ کل کلاں اگر عدالتی سسٹم پر کوئی ضرور دباو¿ ڈالنے کی ضرورت ہو تو عوام مظلوم نواز شریف کی حمائت میں گھروں سے نکل کر سٹرکوں پر احتجاجی لاوے کی صورت پھیل جائیں۔ وغیر وغیرہ ۔
اس شیطانی حرکت کا ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اپنے ہاں کے جیسے تیسے نظام ”عدل“ کو مزید مشکوک بناتے ہوئے اور خود پر مظلوم ہونے کا ٹھپہ لگا کر احتسابی اداروں اور حکومت پر دباو¿ ڈالا جا سکے کہ وہ بالترتیب اس خانوادے کو کچھ ریلیف دے دیں اور حکومت یہ کرے کہ قومی سطح پر کرپشن فری کلچر کی تحریک سے اسقدر ہاتھ کھینچ لے کہ نونی خانودہ احتسابی شکنجے سے آزاد ہو کر بیرون ملک چلا جائے۔
بہت اچھا ہو اکہ آج اتوار کی تعطیل کے باوجود جج ارشد ملک اپنے آفس پہنچے اور ایک پریس کانفرنس کے ذریعے بیگم صفدر اور دائیں بائیں بیٹھی نونی قیادت کے تمام الزامات کی تردید کردی۔ اور کہا کہ شریف فیملی نے دوران سماعت مقدمہ انہیں رشوت دینے کے بہت جتن کئے مگر میں نے مسلسل انکار کیاجس پر مجھے مختلف دھمکیوں کا سامنا رہا، اس کی تازہ ترین مثال تازہ ترین جعلی ویڈیو ہے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق جج ارشد ملک اس معاملے کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے بھی لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یہاں بہت سارے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
ضمانت پر عارضی رہائی پانے والے سات سالہ قید کی سزاوار مجرم بیگم صفدر اعوان نے ضمانتی لوازمات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسی عدالت کو جھوٹے الزامات کو بل ڈوز کرنے کی حرکت کیوں کی؟ یاد رہے اس کے اس جرم کی پاداش میں اس کی ضمانت منسوخ ہو سکتی ہے اور پھر اسے اگلے چھ برس تک اپنے باپ کے پہلو میں جیل کاٹنی ہوگی۔
حالات و واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ مذکورہ ویڈیو کو منظرِ عام پر لانے کی سازش کا ماسٹر مائند کوٹ لکھپت جیل میں بند نواز شریف ہے اسی نے شہباز شریف کی پسند کے خلاف اسے مجبور کیا کہ اگلے روز ہونے والی پریس کانفرنس میں دوسری قیادت کے ساتھ مریم کے ساتھ بیٹھے۔ تاہم اک دنیا نے دیکھا کہ شہباز شریف سمیت دیگر ساری نونی قیادت پوری پریس کانفرنس میں زرخیز غلاموں کی طرح ڈری سہمی اور لاتعلقی کی کیفیت کے ساتھ بیٹھی رہی تھی۔
تاہم کل کلاں اگر اس عدلیہ دشمن ویڈیوں اور پریس کانفرنس کے جرم میں کوئی قانونی گرفت ہوتی ہے تو اس میں بیگم صفدر سمیت شہباز ، خواجہ آصف اور شاہد خاقان سمیت سٹیج پر موجود ساری جنج پس زندان ہوگی۔
ایک اہم سوال پمرا میڈیا نے عدلیہ دشمنی پر مبنی اس پریس کانفرنس کی لائیوریج کیوں کی؟ اس پر بھی فوری ایکشن لیا جانا ضروری ہے۔(جاری ہے)

Scroll To Top