اخوان المسلمین کی سوچ کے پیچھے جو خواب ہے وہ دنیا کے ہر سچے مسلمان کا خواب ہے 19-05-2015

مجھے خوشی ہوئی ہے اس بات پر کہ عمران خان نے مصر کے سابق صدر محمد مرسی کو سزائے موت دیئے جانے کے فیصلے پر تنقیدی بیان جاری کیا ہے۔ میرے خیال میں اس قسم کا بیان ہماری حکومت کی طرف سے بھی جاری ہونا چاہئے تھا۔ یہاں یہ دلیل بے وزن ہے کہ ہمیں کسی ملک اور بالخصوص اپنے برادر اسلامی ملک کے اندرونی معاملات پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہئے۔ اسلام مصر میں قائم ” سیکولر فوجی حکومت “ کا اندرونی معاملہ نہیں ۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ اخوان المسلمین نے گزشتہ عام انتخابات واضح اکثریت سے جیتے تھے اور صدارتی مقابلے میں بھی محمد مرسی کو فیصلہ کن کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ اور کون نہیں جانتا کہ امریکہ نے اپنے اتحادی ملک سعودی عرب کی حمایت سے صدر مرسی کی حکومت کو عدم استحکام کا شکار بنانے اور بالآخر فوجی بغاوت کے ذریعے اس کا تختہ الٹوانے کی کامیاب سازش کی ؟ کون نہیں جانتا کہ مصر میں اخوان المسلمین کی حکومت کے قیام نے اسرائیلی لیڈروں کی نیندیں حرام کردی تھیں؟
جن لوگوں نے جدید مشرق وسطیٰ کی تاریخ پڑھی ہے وہ جانتے ہوں گے کہ ایک طرف اسرائیل کو عالم وجود میں لانے اور دوسرے طرف اخوان المسلمین قائم کرنے کے فیصلے ایک ہی وقت میں ہوئے تھے۔ اسرائیل قائم کرنے کا منصوبہ 1927ءمیں تیار ہوا تھا اور اخوا ن المسلمین کی بنیاد حسن النبی ٰ نے 1928میں رکھی تھی۔
آج بھی یہ دونوں حقیقتیں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔ امریکہ نے اخوان المسلمین کے اثرو رسوخ کو پھیلنے سے روکنے کے لئے بادشاہتوں اور شخصی آمریتوں کو مضبوط تر کرنے اور انہیں اپنا حلیف بنانے کی حکمت عملی پر بڑی کامیابی سے عمل کیا ہے۔ ایک عرصے تک اخوان المسلمین اپنے آبائی وطن مصر میں جبرو استبداد کا مقابلہ کرتی رہی۔ پھر بالآخر اسے اپنی مقبولیت ثابت کرنے کا موقع 2011ءاور 2012ءمیں ملا۔
مشرق وسطیٰ کی مطلق العنان حکومتوں کو اخوا ن المسلمین کا وجود کا نٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ کیوں کہ یہ اسلام کے سیاسی احیاءکی ایک عالمگیر تحریک ہے اور اس کی کامیابی کا مطلب بادشاہتوں اور شخصی حکومتوں کا خاتمہ ہوگا۔ جہاں تک مغرب کابالعموم اور امریکہ کا بالخصوص تعلق ہے وہاں کی بین الاقوامی پالیسیوں کا یک نکاتی ایجنڈا یہ ہے کہ اسلام کے سیاسی احیاءکو روکنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں اور کسی بھی حربے کے استعمال سے گریز نہ کیا جائے۔
یہی وجہ ہے کہ مغرب نے دہشت گردی کو ” داڑھی دار اسلام “ سے منسلک کرکے ایک انتہا پسند اور انسانیت دشمن قوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس ضمن میں سازشوں کا اتنا وسیع جال بچھایا گیا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
اخوان المسلمین کو مغرب ایک حقیقی خطرہ سمجھتا ہے کیوں کہ اس تحریک نے اسلام کو ایک فعال ترقی پسند اور ” جدیدیت دوست “ قوت کے طور پر پیش کیا ہے۔
میں نہیں سمجھتا کہ محمد مرسی کو پھانسی دینے سے اخوان المسلمین کا ” خطرہ “ مغرب کے سروں سے ہٹ جائے گا۔ 2011ءسے پہلے تو محمد مرسی کو کوئی شخص جانتا بھی نہیں تھا۔
تحریکیں افراد کی مرہون منت نہیں ہوا کرتیں ۔ اخوان المسلمین کی سوچ کے پیچھے جو خواب ہے وہ دنیا کے ہر سچے مسلمان کا خواب ہے۔

Scroll To Top