مریم نواز نے جو کچھ کہا اسے کہانی سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاسکتی

  • اگر مبینہ وڈیو کی قانوی حیثیت ہوتی تو خواجہ حارث جیسے وکیل ” تاریخی موقعہ “پر ساتھ ہوتے 
  • بظاہر شریف خاندان کو انصاف کی وہی صورت پسند ہے جو ان کے حق میں اور مخالفین کے خلاف آئے عدالتوں سے ریلیف حاصل کرنے کا مطالبہ کرنے والی مریم جان لیںمعاملہ ان کے خلاف بھی جاسکتا ہے

مریم نواز کی پریس کانفرنس ایک بار پھر ثابت کرگی کہ سالوں گزرنے کے بعد بھی شریف خاندان کرپشن کے مقدمات کا قانونی میدان میں سامنے کرنے کی بجائے سیاسی انداز میں لڑنے کی پالیسی پر کاربند ہے ، احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی لیگی کارکن ناصر بٹ کے ساتھ مبینہ وڈیو کو جس انداز میںپیش کیا گیا وہ قانونی سے کہیں زیادہ سیاسی اور جذباتی پہلو لیے ہوئے تھی ۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مریم نواز جو کچھ بیان کرتی رہیں بظاہر اسے ایک کہانی سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاسکتی ، پریس کانفرنس کے دوران سابق وزیر اعظم کی صاحبزادی یہ دھکمی دیتے ہوئے بھی نظر آئیں کہ اگر کسی نہ کوئی شرارت کی تو ان کے پاس اس سے بھی زیادہ ثبوت موجود ہیں جن میں لوگوں کے نام بھی ہیں “
میڈیا ٹاک میں شبہازشریف سمیت مسلم لیگ ن کی نمایاں شخصیات مریم نواز کے ساتھ براجمان تھیں مگر سابق وزیر اعظم کی صاحبزادی کی گفتگو میں چند سیاسی اور قانونی پہلو نمایاں رہے ، مثلا کہا جارہا کہ اگر مبینہ وڈیو کی قانوی حثیثت ہوتی تو خواجہ حارث جیسے وکیل بھی اس” تاریخی موقعہ “پر ساتھ ہوتے ، پھر یہ بھی سچ ہے کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے ایک کیس میں نوازشریف کو بری جبکہ دوسرے میں سزا سنائی ۔ مسلم لیگ ن کم وبیش 35سال سے سیاست میںہے، کیا پی ایم ایل این کے کرتا دھرتا بتائیں گے کہ انھیں عدالتوں سے جو ریلیف بھی ملتا رہا وہ حقیقی معنوں میں آئین اور قانون کے مطابق تھا ، جسٹس قیوم کے ساتھ شبہازشریف کی ٹیلی فونک گفتگو کسے یاد نہیں۔ کہا جاسکتا کہ شریف خاندان کو انصاف کی وہی صورت پسند ہے جو ان کے حق میں اور مخالفین کے خلاف آئے۔
بظاہر مریم نواز کی پریس کانفرنس براہ راست عدلیہ پر حملہ ہے یعنی سابق وزیر اعظم کی صاحبزادی ایک بار پھر پوری قوت سے اہم اداروں پر حملہ آور ہوئیں،مبینہ وڈیو کی دہائی د ے کر عدالتوں سے ریلیف حاصل کرنے کا مطالبہ کرنے والی مریم صفدر کو اندازہ ہونا چاہے کہ معاملہ ان کے خلاف بھی جاسکتا ہے ، قابل غور یہ ہے کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نہ صرف حیات ہیں بلکہ عہدے پر بھی موجود ہیں ، اگر کل وہ مبینہ وڈیو کی تردید کرتے ہوئے خود میدان میں آجائیں تومریم نواز ایک اور مقدمہ میں الجھ سکتی ہیں، آسان الفاظ میں یوں کہ خود کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے کوشاں سابق وزیر اعظم کی صاحبزادی کی مشکلات میںاضافہ خارج ازمکان نہیں،
مریم نواز کی پریس کانفرنس کے دوران سابق وزیر اعلی پنجاب جس طرح پہلو بدلتے رہے اسے بھی خاص طور پر نوٹ کیا گیا، بادی النظر میں تاثر مل رہا تھا کہ وہ بھتیجی کے اس اقدام کی زمہ داری لینے کو تیار نہیں، مسلم لیگ ن میںتجربہ کار سیاست دانوں کی کمی نہیں حیرت ہے کہ آخر پریس کانفرنس کے نتائج مریم نواز کو کیونکر باور نہیںکروائے گے۔
شریف خاندان وفاق اور پنجاب میں اقتدار سے محروم ہونے پر مایوسی کا شکار ہے ، میاں نوازشریف جیل میں ہیں جبکہ حمزہ شہباز بھی قید وبند کی کفیت سے دوچار ہیں۔ طویل عرصہ تک حکمرانی کا مزہ چکھنے والوں کے لیے مشکل ہورہا کہ وہ اپنے کاروباری اور سیاسی مفادات کی قربانی دیں۔کہتے ہیں کہ سیاست میں وقت کے انتخاب کی اہمیت مسلمہ ہے، سیاست ٹائمنگ کا کھیل ہے ، کون سے قدم کب اور کیسے اٹھانا ہے اس سے کسی طور پر صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔ سیاسی عمل میں جلد بازی یا پھر عجلت میں کیے گے فیصلے مذید مشکلات سے دوچار کرسکتے ہیں، مریم نواز تاحال سیاسی پختگی کا مظاہرہ کرنے میںکامیاب نہیں ہورہی، پانامہ لیکس ہی نہیں شریف خاندان کی کرپشن اور بدعنوانی بھی ان کی نظر سے اوجھل ہے ، سابق وزیر اعظم کی صاحبزادی عدلیہ سمیت دیگر اداروں کی غیر جانبداری کو جس طرح بار بار چیلنج کر رہیں وہ یقینا ملک وملت پر منفی اثرات مرتب کررہا ۔ کون نہیں جانتا کہ ملک ایک نہیں کئی بحرانوں سے دوچارہے ، آج آئی ایم ایف سے قرض لے کر ملکی معیشت کو سہارا دیا جارہا، علاقائی اور عالمی سطح پر جس تیزی سے تبدیلیاں رونما ہورہیں وہ بذات خود اندرونی سیاسی استحکام کی متقاضی ہیں۔ مسلم لیگ ن کے سنجیدہ حلقوں کو سمجھنا چاہے کہ معاملہ محض عمران خان حکومت کا نہیں بلکہ چیلنج ان کروڈوں پاکستانیوں کے مسقبل کا ہے جو نسل درنسل مسائل کا شکار ہیں۔ فیض احمد فیض نے کہا تھا
ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
ورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت لادوا نہ تھے
ایک تبصرہ یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم کی صاحبزادی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف ایسی اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کے لیے کوشاں ہیں جو کسی اور سیاسی جماعت کے حصہ میں نہ آئے۔ بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز میں ہونے والی روابط کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دونوں کے والد بدعنوانی کے مقدمات میں حراست میں ہیں ،دونوں پر ہی اربوں نہیں کھربوں روپے لوٹنے کے الزامات ہیں۔ یہی سبب ہے کہ مذکورہ سیاست دان حکومت کو دباو میں لانے کی پالیسی پر کاربند ہیں ۔ بعض حلقوں کا دعوی ہے کہ عمران خان حکومت کالے دھن رکھنے والوں کے خلاف جوں جوں گھیرا تنگ کرے گی اپوزیشن جماعتیں زیادہ قوت سے متحرک ہوسکتی ہیں ، نہیں بھولنا چاہے کہ وطن عزیز میں سیاست کے کاروبار ہونے کے اثرات بدستور دیکھے اور محسوس کیے جاسکتے ہیں۔

Scroll To Top