فیصل آبادی رانا کا ”کارنامہ“ دولت کے ہر انبار کے پیچھے ایک جرم رینگتا ہے

ہمارے ہاں بھی سسلین مافیاز اور الکپون کی مغوی اولاد بکثرت موجود ہے
ہر مجرم جمہوریت اور انسانی حقوق کی آڑ میں ٹھگی اور نوسر بازی جاری رکھتا ہے۔
نون غنوں اور جیالوں کی قیادتوں پر کرپشن کے سارے مقدمات پیپلز پارٹی اور نواز لیگ نے اپنے اپنے دور حکومت میں ایک دوسرے کے خلاف قائم کئے تھے۔ عمران خان کا ان سے کوئی لینا دینا نہیں۔
رانا ثناءکل تک مریم اور اس کی والدہ محترمہ کے خلاف جو مغلظات اگلتا رہا تھا عمران دشمنی میں جاتی عمرہ والے اب کچھ بھول گئے ہیں
عوام دونوں سابقہ حکمران جماعتوں کے حقیقی استحصالی کردار کو پہنچان چکے ہیں۔

طبقہ بدمعاشیہ اور دہشتگرد تنظیموں کی سرشت سے ناواقف لوگ ہی ”حاجی “ثنا اللہ کی منشیات سے برات کے فتوے صادر فرما رہے ہیں۔
ایک عجب ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے۔ نونیوں کا پٹ سیاپا بریگیڈ اور بیگم صفدر کے سوشل میڈیا جتھے اور لفافیے منشی مینم۔۔ سب اپنی اپنی جگہ رانا ثناءاللہ کی پارسائی چورن بیچنے میں جتے ہوئے ہیں۔
آہ! سیاست کے سینے میں دل اور احساس اداروں کے خلاف یک زبان ہو جائیں۔ اب بے بی بلاول کو کون بتائے گا کہ یہی رانا ثنا اس کی والدہ بابت کیا کیا غلیظ تبسرے چھوڑتا رہا ہے اور تو اور جب وہ پیپز پارٹی کا جیالا تھا تو مریم اور اس کی والدہ محترم کے متعلق کیسی کیسی گفتنی ناگفتنی غلیظ زبان اور تشبیہات استعمال کرتا رہا تھا۔ اب مگر حب علی کی بجائے بغص معاویہ کا معاملہ پیش ہے تو سارے جغادری لٹیرے خود مختار ریاستی احتسابی اداروں اور ان کے وابستگان اور بطور خاص عمران حکومت، جس کا رانا ثنا اللہ یا نواز و شہباز اور زرداری گینگ کے خلاف ہونے والی احتسابی کارروائیوں سے کچھ لینا دینا نہیں کے خلاف صف آرہا ہو گئے ہیں۔ ان کی اس عیاری مکاری اور چالاکی کی اصل حقیقت اب عوام پر پوری طرح کھل چکی ہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ فی الوقت نیب یا دوسرے احتسابی اداروں میں زرداری گینگ یا نام کے شرفا کے خلاف زیر سماعت ہیں یا جن میں ان میں سے بعض کو لمبی سزائیں بھی ہو چکی ہیں وہ سارے مقدمات خود انہی دونوں پارٹیوں نے اپنے اپنے دور حکومت میں ایک دوسرے کے خلاف قائم کئے تھے۔ اور یہ کہ ان کا عمران حکومت سے کچھ لینا دینا نہیں۔
پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے اسی دوہرے معیار اور دوغلے پن نے عوام کے سامنے ان پارٹیوں کی اصل اوقات کھول کر رکھ دی ہے اور وہ جان چکے ہیں کہ یہ جماعتیں اور بطور خاص ان کی قیادتیں ہی ہیں جنہوں نے پچھلے تیس سال میں عوامی خزانے کو جی بھر کر لوٹا، ملک کو پہاڑ جیسے غیر ملکی قرضوں کے شکنجے میں جکڑا یہاں تک کہ جب عوامی ووٹوں نے انہیں مسترد کرتے ہوئے گھر کی راہ دکھا دی تو اب کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق انہوں نے اپنی شکست اور ہزیمت قبول کرنے کی بجائے الٹا عمران حکومت پر انتقامی کارروائی کا تبسرہ چھوڑنا شروع کر دیا۔ مگر ان کا یہ بیانیہ بری طرح ناکام ہو گیا اور اسی ناکامی کا ادراک کرتے ہوئے وہ پچھلے ایک سو دنوں سے ماری گئی بڑھکوں کے حوالے سے نہ تو کوئی کامیاب اے پی سی ہی منعقد کر سکے، نہ ہی عمران حکومت گرانے کے ایجنڈے پر رتی بھر عمل ہی ہو سکا۔
دوسری طرف تماشہ دیکھئے کہ ملا ڈیزل کی ال والا سیاسی بروکر اسلام آباد لاک ڈاو¿ن یعنی منجمد اور بند کرنے کی دھمکی دیتا نہ تھکتا تھا وہ بھی تھک ہا ر کر کسی مجرے میں دب کر بیٹھ گیا ہے، باقی رہا اس کا ملین مارچ کا پٹ سیاپا تو اس ضمن میں اس کے اپنے ہی سیاسی حلیفوں نے اس پر اس کی اصل اوقات ظاہر کر دی کہ ملین مارچ کا مطلب دس لاکھ افراد پر مشتمل جلوس یا احتجاجی مظاہر ہوا کرتا ہے اس سے پہلے کسی نے ”علموں بس کری او یار“ ملا ڈیزل کی یہ غلط فہمی دور کر دی تھی کہ مدرسوں کے بچوں کو چند چنگچی رکشوں میں لاد کر اسلام آباد کے انٹر پوائنٹس پر بینر دے کر کھڑے کر دینے کا نام ملین مارچ وغیرہ نہیں کہلایا جاسکتا۔ اگر ملا جی نے ایسا کیا تو اس سے وہ اپنے دعوو¿ں کے کھوکھلے پن کے حوالے سے ایکسپوز ہو جائیں گے۔ اور دوسری اہم بات یہ کہ عوام ایسے کسی مطالبے یا احتجاجی جلوس کا ساتھ دینے کو ہرگز تیار نہیں ہیں۔
(باقی صفحہ7 بقیہ نمبر28)
زرداری گینگ، نون غنوں اور ملا فضلو سمیت ان کے تمام گماشتوں کو اسی تلخ حقیقت نے عوام سے منہ چھپانے پر مجبور کر دیا ہے۔ سو عوام کو سٹرکوں پر لا کر عمران حکومت کا دھڑن تختہ کر دینے کا خواب تو سراب بن کر رہ گیا ہے۔ اور انتشارو زدہ ”متحدہ“ اپوزیشن نے اپنے پٹ سیاپے کے لئے خود کو پارلیمنٹ کی محفوظ چار دیواری تک محدود کر لیا ہے۔ یا پھر وہ اپنے لفافیے منشیوں منیموں کے ذریے میڈیا پر معاملات کو سکینڈ لاٹز حالت میں پیش کر کے تماشاہ گردی کی فضا پیدا کرنے کو ہی اپنی حتمی کامیابی کا ذرعیہ سمجھنے لگے ہیں۔ رانا ثنا اللہ کی اینٹی نارکاٹکس فورس کے ہاتھوں منشیات کی سمگلنگ کے جرم پر اسے رنگے ہاتھوں دبوچ لینا ہمارے قومی اداروں کی غیر معمولی چوکسی اور احساس ذمہ داری کی مظہر ہے مگر اپوزیشن ہے کہ وہ اصل حقائق کو جان بوجھ کر مسخ کرتے ہوئے اس سارے معاملے کو عمران حکومت کے کھاتے میں ڈالنے کے جتن کر رہی ہے۔
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ رانا ثنااللہ عرصہ دراز سے مبینہ طور پر دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ رابطے میں چلا آرہا ہے۔ ماڈل ٹاو¿ن قتل کیس ہو یا دہشتگرد تنظیموں کا اندرونی میکانزم، اس میں حصول مقصد کے لئے مالی و سائل جمع کرنے کی غرض سے ہر قسم کے جرم کو بھی جائز خیال کیا جاتا ہے ۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ جس چیلے رانا ثنا اللہ کے گورد زر زمین کے حصول کے لئے ملکی خزانے کو چاٹ کر کنگال کرنے میں یدطوٹی کا درجہ رکھتے ہیں اس چیلے یعنی رانا ثنا اللہ کے لئے تین چار کروڑ روپے کی ہیروئن اپنی گاڑی میں رکھ لینے میں کوئی قباحت نہیں سمجھی گئی۔ آخر ایان علی بھی تو یہی کام کرتی تھی۔وہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر رنگے ہاتھوں پکڑ لی گئی پانچ لاکھ ڈالر سمگل کرتے ہوئے اور شواہد کے مطابق وہ اس سے پہلے ایسے ہی پچاس سے زیادہ پھیرے لگا چکی تھی۔ رانا ثنا اللہ کے جرائم کی تفصیل تو نواز شریف کا ہم زلف فیصل آباد کا شیر علی اور اس کا بیٹا عابد شیر علی ایک عرصے سے بتا رہے ہیں مگر حیرت ہے کہ ابھی تک متعلقہ اداروں نے اس پر کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا۔
اور اب تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اے این ایف نے رانا ثنا کی فراہم کردہ معلومات کی روشنی میں فیصل آباد کے ایک ڈی ایس پی خالد ملک سمیت رانا ثنا کے بعض شرکائے جرم افراد کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔جبکہ سابق ایس ایس پی رائے ضمیر الحق کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
فرانسیسی ناول نگار بالٹراک نے لکھا تھا”دولت کے ہر انبار کے پیچھے جرم چھپا ہوتا ہے۔“ اور پھر ماریو لوزو نے اپنے عظیم ناول گاڈ فادر میں اسی حق کو زیادہ وضاحت سے بیان کیا۔ سسلین مافیاز اور الکپون ہوں یا زرداری ،نام کے شریف برادران یا ان کا چیلہ رانا ثنا سب اسی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔

Scroll To Top