دہشت گرد بننے کے لئے مذہبی جنونی ہونا ضروری نہیں, لسانی نسلی اور علاقائی جنونی بھی کرائے کے سپاہی بن سکتے ہیں ! 16-05-2015

مجھے اپنی دانش کے مطابق اس بات میں ذرا بھی شک کی گنجائش نظر نہیں آتی کہ کراچی میں اسماعیلی فرقے کے پاکستانی بھائیوں کی بس پر وحشیانہ خونی حملے کے پیچھے صرف ایسی کسی طاقت کا ہاتھ ہے جو پاکستان کے معاشی مستقبل کو اپنی بندوق کے نشانے پر رکھنا چاہتی ہے۔ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے ضمن میں اب تک بڑی دلیل یہ دی جاتی رہی ہے کہ کچھ مذہبی انتہا پسند گروہ ریاست پر غلبہ پا کر حکومت اور ایٹمی اثاثوں کا کنٹرول اپنے ہاتھوں میں لینا چاہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ماضی قریب میں یہ دلیل وزن رکھتی رہی ہو لیکن دنیا کی اتنی بڑی اور طاقتور فوج کی موجودگی میں داعش یا طالبان وغیرہ کا ریاست پر غلبہ پا لینا کسی فاترالعقل شخص کی سمجھ کا حصہ تو بن سکتا ہے ¾ کوئی ذی شعور آدمی اسے قابلِ غور بھی نہیں سمجھ سکتا۔
میری سمجھ میں صرف ایک بات آتی ہے اور وہ یہ کہ طالبان اور داعش کے نام ایسے مکروہ مقاصد کے لئے استعمال کئے جارہے ہیں جن کی تکمیل کے لئے ہمارے حقیقی دشمنوں کو صرف کرائے کے سپاہیوں ¾ ہتھیاروں سرمائے ¾ ماحول اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
جب بات دشمنوں کی ہوتی ہے تو ذہن فوری طور پر بھارت کی طرف ہی جاتا ہے۔ اور درست طور پر جاتا ہے۔ بھارت کو ہی پاکستان میں ” عدم استحکام کے جزیروں “ کی ضرورت ہے تاکہ تاریخ کے کسی نہ کسی موڑ پر وہ پنڈت جواہر لعل نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کی اس پیشگوئی کو درست ثابت کرسکے کہ مذہب پاکستان کو دائمی طور پر متحد نہیں رکھ سکتا اور بالآخر متضاد شناختوں کا بم ضرور پھٹے گا اور یہ مملکت اپنی ”صلاحیتِ بقاء“کھو بیٹھے گی۔
مگر بھارت کی دشمنی پاکستان کی صرف ریاستی حیثیت سے ہے۔ اور مغرب کی کشمکش ہمارے نظریاتی وجود سے ہے۔ اگرچہ مغرب سیکولرزم کے بلند بانگ دعوے کرتا رہتا ہے اور ان دعوﺅں کی آڑ میں اس نے ہمارے ملک میں ” این جی اوز “ کا ایک جال بچھا رکھا ہے۔ لیکن یہ نام نہاد سیکولرزم صرف اسلام کی سیاسی یلغار کو روکنے والا ایک ہتھیار ہے۔
جب سوویت یونین کا شیرازہ بکھر گیا تو مغرب نے اسلام کے خلاف جنگ کرنے کے لئے اسلام کو ہی اپنا ہتھیار بنانے کا فیصلہ کیا۔
آج ہمارے لئے یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے کہ کون سی تنظیم یا شناخت درحقیقت اسلامی احیاءکی علمبردار ہے اور سطوتِ اسلام واپس لانے کے خواب کی تکمیل کے لئے جدوجہد کررہی ہے۔اور کون سی تنظیم مسلم معاشروںمیںشکست و ریخت اور تباہی و بربادی کے حالات پیدا کرنے کے لئے اسلام کے ہی نام پر میدان میں اتاری گئی ہے۔
جب میں ایم کیو ایم کے لیڈروں کے منہ سے ” طالبان طالبان طالبان “ کا ورد سنتا ہوں تو مجھے ہنسی آتی ہے۔ کیا صولت مرزا طالبان تھا؟ کیا معظم علی کی جڑیں طالبان میں ہیں ؟ کیا وہ سینکڑوں کرائے کے قاتل طالبان ہیں جو رینجرز نے پکڑ رکھے ہیں؟
دہشت گرد بننے کے لئے صرف مذہبی جنونی ہونا ضروری نہیں۔ لسانی جنونی نسلی جنونی اور علاقائی جنونی شاید زیادہ خطرناک دہشت گرد بن سکتا ہے۔
میرے نزدیک دہشت گرد کی صرف ایک پہچان ہے اور وہ یہ کہ اس نے جو ہتھیار پکڑ رکھا ہو وہ اس طاقت نے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر تھمایا ہو جسے پاکستان کا وجود عمومی طور پراور اُس کی نظریاتی شناخت خصوصی طور پر کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے۔

Scroll To Top