عذاب خداوندی زیادہ دور نہیں کیا سُور۔۔۔ سُور کا گوشت کھاتے ہیں ؟ 15-05-2015

میاں نوازشریف نے عمران خان کا مزاج درست کرنے کے لئے جو ” گالی گلوچ فورس “ میدان میں اتاری ہوئی ہے اس کا کوئی نقصان پی ٹی آئی اور اس کے چیئرمین کو ہوتا ہے یا نہیں ` خود اُن کا اپنا سیاسی قد کاٹھ اور امیج بری طرح مسخ بلکہ تباہ ہورہا ہے۔
میاں صاحب پر عمران خان نے اب تک جتنے بھی الزامات لگائے ہیں ان کا تعلق سیاست اور طرز حکمرانی سے ہے۔ بنیادی دو الزامات کا تعلق دھاندلی اور کرپشن سے ہے۔ یہ درست ہے کہ جب تک جرم ثابت نہ ہوجائے اسے الزام کے دائرے میں ہی رہنا چاہئے لیکن یہ بھی درست ہے کہ پہلے جرم ہوتا ہے پھر الزام لگتا ہے اور اس کے بعد مجرم کا تعین ہوتا ہے۔
کیا جرم نہیں ہوا ؟ کیا دھاندلی نہیں ہوئی ؟ اگر ہوئی ہے تو کس نے کی ؟ دھاندلی کا فائدہ کس کو پہنچا ؟ نقصان کسے ہوا ؟
دوسرا الزام کرپشن کا ہے ؟
کیا کرپشن نہیںہوئی ؟ کیا میاں نوازشریف ایک ایساغیر جانبدار کمیشن بٹھانے کے لئے تیار ہیں جو تحقیقات کرکے قوم کو بتائے کہ کون تیس برس پہلے کتنا امیر تھا اور آج کتنا ہے ` کون بیس برس پہلے کتنا امیر تھا اور آج کتنا ہے۔ اور کون دس برس پہلے کتنا امیر تھا اور آج کتنا ہے۔
میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ بڑے سے بڑا الزام بھی شائستہ الفاظ اور لب و لہجے میں لگایا جانا چاہئے۔ لیکن جو الزام سیاست اور حکمرانی کے حوالے سے لگے اس کا جواب بھی سیاست اور حکمرانی کے حوالے سے ہی دیا جانا چاہئے۔
گالی گلوچ میں سیتا وائٹ `طاہرہ سید اور کم بار کر وغیرہ وغیرہ کو گھسیٹنا انتہائی مکروہ ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔میاں صاحب کے ” بھانجہ وزیر “ نے فرمایا ہے کہ ایک مردِ مومن کی حیثیت سے وہ عمران خان جیسے شخص کے ساتھ ہاتھ ملانا بھی حرام سمجھتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا ہے کہ میاں صاحب کو مجبوراً کبھی کبھی ہاتھ ملانا پڑتا ہے لیکن پھر وہ اپنے ہاتھ دھویا کرتے ہیں۔
اِن وزیر صاحب کو معلوم ہوگا کہ پاکستان میں کتنے شریف آدمی خود اس سے ہاتھ ملانا پسند کریں گے۔ وہ ایک ایسی کابینہ کے رکن ہیں جس کا ایک سینئر وزیر ُسور کا گوشت تک کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتا۔ بلکہ یہ کہتا ہے کہ قوم کو حرام و حلال کی فرسودہ روایات سے نکل کر نئے دور کے تقاضوں کو سینے سے لگانا چاہئے۔
میں یہ نہیں جانتا کہ ُسور بھی سُور کا گوشت کھاتے ہیں یا نہیں۔ مگر یہ ضرور جانتا ہوں کہ عذاب خداوندی زیادہ دور نہیں۔

Scroll To Top