پھانسیوں کا موسم اور خدا کے باغی 14-05-2015

صولت مرزا کی کہانی ختم ہوئی ۔
کرائے کا ایک قاتل پھانسی پر چڑھ گیا۔ مگر اپنے انجام تک پہنچنے سے پہلے ان لوگوں کی نشاندہی کر گیا جنہوں نے اس کی خدمات حاصل کی تھیں ` جن کے ادا کردہ معاضے کی خاطر اور جن کی خوشنودی کے لئے اس نے جہنم کی آگ خریدی۔
کیا وہ لوگ بھی اپنے انجام کو پہنچیں گے یا ایک بار پھر یہ بات ثابت ہوگی کہ پھانسی کا پھندا موٹی گردنوں کے لئے نہیں ہوتا۔؟
صولت مرزا کی کہانی صرف ایک فرد کی کہانی نہیں ` پورے معاشرے کی کہانی ہے جس میں کچھ لوگ فیصلہ کرلیا کرتے ہیں کہ دولت و حشمت ` جاہ واقتدار اور شان و شوکت کے دروازے اُن پر اس وقت تک نہیں کھلتے جب تک وہ خدا کے خلاف علمِ بغاوت بلند نہ کردیں اور احکاماتِ خداوندی کی دھجیاں بکھیرنے کے لئے نہ نکل پڑیں۔
صرف ایک پھانسی سے یہ کہانی ختم نہیں ہوگی ہمارے معاشرے میں ہزاروں لاکھوں صولت مرزا کے سرپرست ابھی آزاد دندناتے پھر رہے ہیں۔
میں نے خدا کے باغیوں کی بات کی ہے۔
خدا کے باغی وہ بھی ہیں جو اعلانیہ طور کہتے ہیں کہ قرآن حکیم اور اس کی تعلیمات آج کے دورِ ترقی میں فرسودہ اور بے معنی ہوچکی ہیں۔ اور خدا کے باغی وہ بھی ہیں جو کلمہ تو خدا کا پڑھتے ہیں لیکن جب انہیں خدا کا پیغام سنایا جاتا ہے تو ایک کان سے سنتے ہیں اور دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں۔ حکم خداوندی ہے کہ ” سرمایہ معاشرے کے جسم میں اس طرح گردش کرنا چاہئے جس طرح خون انسان کے جسم میں گردش کرتا ہے۔ جس طرح خون جسم میں کہیں بھی جم جائے تو موت واقع ہوسکتی ہے ` اسی طرح معاشرے میں سرمایہ کہیں بھی مرتکز ہوجائے تو وہ معاشرہ مفلوج ہوجاتا ہے۔“
سرمایہ ہمارے معاشرے میں کہاں کہاں مرتکز اور منجمد ہو چکا ہے اور مسلسل ہورہا ہے اس کا اندازہ لگانے کے لئے خردِ افلاطون کی ضرورت نہیں۔
یہ سب لوگ خدا کے باغی ہیں۔
اگر چہ علامہ اقبال ؒ نے کہا تھا کہ اس دور کو اپنے ابراہیم ؑ کی تلاش ہے لیکن چونکہ خدا کا آخری بنی آچکا ہے اور اب کوئی نبی نہیں آئے گا اس لئے میں یہ کہوں گا کہ اِس ملک اور اِس معاشرے کو حجاج بن یوسف کی تلاش ہے۔
حجاج بن یوسف ہماری تاریخ کا ایک متنازعہ کردار ہے۔ مگر اس نے قانون کی حکمرانی یقینی بنانے کے لئے جو خدمات انجام دیں وہ ناقابلِ فراموش ہیں۔
یہ ملک بہت سارے موسموں کے لئے مشہور ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ان موسموں میں ایک اور موسم کا بھی اضافہ ہونا چاہئے۔
پھانسیوں کا موسم!

Scroll To Top