اگر یہ نظام اپنی موت آپ نہ مرا تو۔۔۔؟ 24-12-2009

مجھے یقین ہے کہ جس طرح میں یہ سوچ رہا ہوں اسی طرح آپ بھی یہی سوچ رہے ہوں گے کہ آخر وہ کون سا نظام ہے جسے بچانے کے لئے پاکستان اور اس کے کروڑوں ” دم بخود“ عوام کا مستقبل داﺅ پر لگایا جارہا ہے۔
اس نظام کے خدوخال عوام کی نظروں کے سامنے آئے ہوتے تو شاید وہ بھی اس کی دلکشی سے مسحور ہو کر اسے بچانے کی ” جدوجہد“ میں اپنے ملک کے سیاستدانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوجاتے۔ عوام کی نظروں کے سامنے جو کچھ اب تک آیا ہے اس کی ” بدصورتی“ کو بیان کرنے کے لئے الفاظ کا جو ذخیرہ چاہئے وہ میرے پاس نہیں۔
یہ بدصورتی کہاں سے آئی ہے اور کیوں آئی ہے یہ میں نہیں جانتا۔ شاید اس کا علم صدر مملکت آصف علی زرداری کو ہو۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو ہو ۔ سمندر پار چھٹیاں گزارنے والے میاں نوازشریف کو ہو ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج صاحبان کو ہو۔ یا پھر دہشت گردوں کے خلاف محاذ آرا فوج کی قیادت کوہو۔ مگر جس نظام کو بچانے کا عزم وارادہ ہر کیمپ سے واشگاف الفاظ میں سامنے آتا ہے ` اس کی بڑھتی ہوئی بدصورتی اور کریدالنظری ملک و قوم کے مستقبل کے لئے ایک سوالیہ نشان بنتی جارہی ہے۔
اس نظام کو بچانے کے ہر دعویدار کے پاس اپنی کوئی ” معقول “ وجہ ضرور ہوگی مگر جس نظام کی کوکھ وطن عزیز کے کروڑوں عوام کو بھوک افلاس بے بسی بدامنی `قتل و غارت ` لاقانونیت ` بدعنوانی ` بے غیرتی ` اخلاقی گراوٹ ` جھوٹ ` منافقت اور لوٹ مار کے علاوہ اور کچھ نہیں دے رہی ` اسے بچانے کے لئے خلق خدا دعائیں کیوں مانگے گی۔ اور خدا کیوں رضا مند ہوگا؟
جو لوگ اس ” نظام“ کو جمہوری قرار دے کر اسے تقدس کے لباس میں لپیٹتے ہیں میں ان سے صرف ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔جس نظام میں 99فیصد قومی دولت پر 001%لوگ قابض ہوجائیں ` جس نظام کے 90فیصد عوام کے لئے ” زندگی سے رشتہ قائم کئے رکھنا “ ایک معاشی اور معاشرتی چیلنج بن جائے ` جس نظام میں کروڑوں ` اربوں ڈالر بینکوں میں پڑے سڑ جائیں اور انہیں استعمال کرنے کا اختیار رکھنے والے صرف اس ” احساس “ سے لطف اندوز ہوتے رہے ہیں کہ وہ بے پایاں خزانوں کے مالک ہیں۔اور جس نظام میں غریب اور امیر کے درمیان اتنا فاصلہ قائم ہوجائے جتنا فاصلہ کرہ ارض اور مریخ کے درمیان ہے۔ وہ نظام مقدس کیسے ہوسکتا ہے۔
میں یہاں آنحضرت کا ایک فرمان زریں قلمبند کروںگا۔
” سرمائے کو معاشرے کے وجود میں اسی طرح گردش کرنا چاہئے جس طرح انسان کے جسم میں خون گردش کرتا ہے۔ اگر خون کہیں بھی منجمد ہوجائے تو جسم کی موت واقع ہوجاتی ہے ۔ اور اگر سرمایہ بھی معاشرے میں کسی جگہ مرتکز ہوجائے یا انجماد کا شکار ہوجائے تو موت کو ٹالا نہیں جاسکتا۔جو لوگ سونے چاندی کی اینٹیں جمع کرکے رکھتے ہیں انہیں جہنم میں ان ہی اینٹوں سے داغا جائے گا۔“
ہمیں ایسے ہی نظام کی تلاش ہے جس میں کبھی کسی کو کسی بھی قسم کے ” این آر او “ کی ضرورت نہ پڑے۔

Scroll To Top