معدوم ہوتے سفید گینڈے کا پہلا ٹیسٹ ٹیوب ‘ایمبریو’ تیار

سفید گینڈے کی دنیا بھر میں صرف 2 مادہ باقی بچی ہیں۔ فوٹو : اے ایف پی

پولینڈ: 

سائنس دان معدومی کے شکار سفید گینڈے کی نسل کی بقا کے لیے پہلا ٹیسٹ ٹیوب ‘ایمبریو’ تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق یورپی سائنس دانوں نے پولینڈ میں سفید گینڈے کے پہلے ٹیسٹ ٹیوب “ایمبریو” کا کامیاب تجربہ کرلیا ہے جسے بار آور کرانے کے بعد مادہ گینڈے کی کوکھ میں منتقل بھی کردیا گیا ہے۔

سفید گینڈے کی دنیا بھر میں صرف 2 مادائیں بچی ہیں ایک ماں ’ناجن‘ اور ’بیٹی فاٹو‘ جب کہ دنیا بھر میں اکیلا بچ جانے والا خاندان کا  واحد نر گزشتہ برس مارچ میں ہی طبی موت مر گیا تھا تاہم سائنس دانوں نے نر سفید گینڈے کے اسپرم کو سائنسی طور محفوظ کر لیا تھا۔

سائنس دانوں کے پاس دیگر سفید نر گینڈوں کے محفوظ شدہ اسپرم بھی موجود تھے جن کا مادہ گینڈے کے انڈے سے اختلاط کرایا گیا اور خوش قسمتی سے میلاپ ہوگیا۔ جرمنی کی حکومت نے اس تجربے کے لیے 4.6 ملین ڈالر کی خطیر رقم مختص کی تھی۔

سائنس دان جدید طبی تکنیک IVF  کے ذریعے سفید گینڈوں کی نسل کو بچانے کے لیے کافی پُر امید نظر آتے ہیں جس کے لیے پہلے ٹیسٹ ٹیوب ایمبریو کی تیاری کامیابی کی پہلی سیڑھی اور انوکھا ترین تجربہ بھی ہے۔

Scroll To Top