ہمارے حکمران یہ خطرناک کھیل کس ایجنڈے کی تکمیل کے لئے کھیل رہے ہیں ؟

گزشتہ شب مجھے اپنے برادر صحافی ضیاءشاہد کو ایک ٹی وی پروگرام میں سننے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ کے پی کے کے بارے میں حکومتی وزرائے نے جو زبان استعمال کی ہے وہ نہایت افسوسناک ہے۔ اس زبان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ حکومت سمجھتی ہے کہ کے پی کے باقی پاکستان کا حصہ نہیں۔
میں یہاں وفاقی وزراءکی استعمال کردہ زبان کا ایک نمونہ پیش کروں گا۔ رانا ثناءاللہ سے لے کر خواجہ آصف تک ہر حکومتی وزیر نے ” جتھے“ کا لفظ استعمال کیا۔ یہ لفظ تقسیم ہند کے وقت سکھوں کے حوالے سے استعمال ہوتا تھا۔ آپ کی یادداشت میں بھی” سکھوں کے مسلح جتھوں“ کی ترکیب موجود ہوگی۔
31اکتوبر کی رات کو پوری دنیا نے دیکھا ہوگا کہ تحریک انصاف کے کارکن ” پٹھانوں کے مسلح جتھے“ نہیں تھے بلکہ پاکستان سے محبت کرنے والے پرُامن شہری تھے جو اپنے لیڈر کی آواز کو لبیک کہتے ہوئے اسلام آباد آرہے تھے۔۔۔
اگر پرویز خٹک کی قیادت میں مسلح جتھے آرہے ہوتے تو پنجاب پولیس نے جس وحشیانہ انداز میں ان پر شیلنگ کی تھی اُس کا جواب ضرور دیا جاتا۔ حکومت تاثر یہ دینا چاہتی تھی کہ پنجاب اور اسلام آباد پر کے پی کے سے حملہ ہورہا ہے۔ مگر دنیا بھر کو تاثر یہ ملا کہ یہاں میاں نوازشریف کے پی کے کے وزیراعلیٰ اور شہریوں کا داخلہ پنجاب اور اسلام آباد میں بند کرکے بھٹو کے ادا کرد ہ ” اُدھر تم اِدھر ہم “ جیسے الفاظ کی یاد تازہ کررہے ہیں۔
اگر میاں نوازشریف کی ”حکمت عملی “کامیا ب ہوجاتی اور کے پی کے کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک پنجاب پولیس کے حملے کا جواب طاقت سے دیتے۔۔۔ اور دونوں صوبوں کے درمیان تصادم کی صورتحال پیدا ہوجاتی تو کتنا بڑا المیہ سامنے آسکتا تھا۔
مجھے یقین ہے کہ پانامالیکس کے حوالے سے عمران خان کی تحریک کو ہر قیمت پر کچلنے کے سلسلے میں حکومت نے کے پی پی کے کو ایک الگ ” اکائی “ کا درجہ دینے کی جو حکمت عملی اختیار کررکھی ہے اس کے خطرناک ممکنہ نتائج ہمارے فوجی سربراہ اور ہمارے عدالتی سربراہ کی نظروں سے اوجھل نہیں ہوںگے۔۔۔

Scroll To Top