میاں صاحب اگر کرائے کے لوگ ایک اچھی فوج بن سکتے تو آپ جیل میں نہ ہوتے !

میں میاں نوازشریف کا یہ قول کئی مرتبہ پہلے بھی اپنے کالموں میں درج کرچکا ہوں ` آج پھر درج کررہا ہوں۔

” اکبر صاحب میں نے زندگی میں کبھی ایسے شخص پر بھروسا نہیں کیا جسے میں نے خریدا نہ ہو۔۔۔“
یہ الفاظ جسم میں سنسنی دوڑا دینے والے ہیں۔ بات یہ 1984ءکے آخری ایام کی ہے۔ تب میاں صاحب کے ساتھ میرے تعلقات تحریک استقلال کی نیشنل ورکنگ کمیٹی کے ارکان رہنے کے حوالے سے بہت اچھے تھے۔ منطق یہ کہتی ہے کہ مجھے ان کے ساتھ راہیں جدا نہیں کرنی چاہئے تھیں اور ان کی ٹیم میں رہنا چاہئے تھا ۔ وہ چاہتے بھی یہی تھے ۔ 1990ءکے اواخر میں جب میں متحرمہ بے نظیر بھٹو کے لئے کام کرنے کی تیاریاں کررہا تھا تو ایک مشترک شناسا کے ذریعے میاں صاحب نے مجھے پیغام بھجوایا کہ ” بے نظیر ختم ہوچکی ۔ اس کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں۔ آپ میرے لئے کام کریں۔“
میرا جواب بڑا مختصر مگر ٹیڑھا تھا۔۔۔
” اپنی یہ درخواست لکھ کر بھیجیں۔“
میرے یہ الفاظ اُس عتاب کا باعث بنے جو بعد میں مجھ پر نازل ہوا۔ میں ذہنی طور پر اس عتاب کے لئے تیار تھا۔ اگر نہ ہوتا تو یہ الفاظ بولتا ہی کیوں۔۔۔؟
میرے لئے ایسے شخص کے ساتھ چلنا ناممکن تھاجواپنے تکبّر سے خائف نہ ہو اور جو دوسرے انسانوں کو ” جنس خرید“ سمجھتا ہو۔۔۔
کوئی شک نہیں کہ خریدار میاں نوازشریف بہت اچھے ہیں۔ منہ بولتاثبوت عطاءالحق قاسمی ` عرفان صدیقی اور متعدد دوسرے ” اصحاب قلم“ ہیں جو بظاہرصحافی تجزیہ کار اور دانشور ہیں مگر دراصل خریدے ہوئے کرائے کے لوگ ہیں۔ آپ اِن میں رانا ثناءاللہ اور مریم اورنگزیب کو تو شامل سمجھیں ہی۔۔۔شاہدخاقان عباسی ` احسن اقبال اور سعد رفیق وغیرہ بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔ تادمِ تحریر اِن سب نے حق ِ نمک ادا کیا ہے۔ شاید اِس لئے کہ نمک کی سپلائی رکی نہیں۔۔۔
میاں صاحب ۔۔۔ اگر کرائے کے لوگ ایک اچھی فوج بن سکتے تو آپ جیل میں نہ ہوتے۔۔۔!

Scroll To Top