ویسے بات جب بھی دھاندلی کی ہوتی ہے نون لیگی حکومت چھلانگ مار کر چین پہنچ جاتی ہے 08-05-2015

احسن اقبال نے اپنے آپ کو یقین دلالیا ہے کہ پاکستان اور چین کے تعلقات کبھی اس قدر مضبوط نہ ہوتے اگر میاں نوازشریف اور ان کی موجودہ کابینہ کو پاکستان کے سیاسی افق پر ظہور پذیر ہونے کا موقع نہ ملتا۔
حالانکہ پاک چین دوستی کی داستان کئی دہائیاں پرانی ہے۔ پاک چین تعلقات اس وقت بھی مثالی اور ناقابلِ شکست تھے جب جناب احسن اقبال گھی کارپوریشن آف پاکستان میں ڈپٹی منیجر مارکیٹنگ کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ چونکہ ان کی فیملی جنرل ضیاءالحق کی منظور نظر تھی اس لئے ان کے لئے جنرل ضیاءالحق کے ہی منظور نظر میاں نوازشریف کا منظور نظر بننا زیادہ مشکل کام ثابت نہ ہوا۔
احسن اقبال اندھوں میں کانے راجہ ہیں۔ ایک خوش گفتار شخص کے لئے میاں نوازشریف کو متاثر کرناکسی بھی لحاظ سے مشکل کام نہیں۔ اس ضمن میں بہت سارے کانے راجوں کی مثالیں دی جاسکتی ہیں جو اپنی صلاحیتوں کے بروقت استعمال سے میاں صاحب کی آنکھوں میں ستارے بن کر سج گئے۔
میاں صاحب کو احسن اقبال کا وژن بہت پسند ہے۔ خود احسن اقبال بھی اب اپنے آپ کو سچ مچ ” ویژنری“ سمجھنے لگے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ اُن کا ہی ویژن تھا کہ چینی صدر عمران خان کی تمام تر ”سازشوں“ اور ان کی پیدا کردہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود پاکستان کا دورہ کرنے پر مجبور ہوگئے۔
احسن اقبال کا ایک اور ویژن بھی سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر بھری دیگ میں چند قطرے پیشاب کے بھی ڈال دیئے جائیں تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ہوسکتا ہے کہ انہیں کوئی فرق نہ پڑتا ہو لیکن یہ قوم حلال و حرام اور مکروہ و غیر مکروہ کے بارے میں بڑی حساس ہے۔ یہ کہنا کہ چند تھیلوں سے اگر ردی برآمد ہوگئی تو اس سے سارا الیکشن مشکوک نہیں ہوتا بالکل اسی انداز کا استدلال ہے۔
ویسے بات جب بھی دھاندلی کی ہوتی ہے نون لیگی حکومت چھلانگ مار کر چین پہنچ جاتی ہے۔۔۔

Scroll To Top