ضرورت ہے ایک سو ایک چیف ایگزیکٹو زکی

مجھے اس امر میں اب کسی شک و شبہ کی گنجائش نظر نہیں آتی کہ موجودہ پارلیمانی نظام کی موجودگی میں پاکستان اور اس کے عوام کی تقدیر کبھی تبدیل نہیں ہوسکتی۔ میری دعا ہے کہ جو بھی سیاسی قوتیں وطنِ عزیز کو شاہراہ ترقی پر ڈالنے اور اس کے عوام پر خوشحالی کے دروازے کھولنے کا خواب دیکھ رہی ہیں وہ جلد ازجلد اس حقیقت کا ادراک کرلیں کہ یہ نظام ہماری تمام تر توانائیوں کو دیمک کی طرح چاٹتا چلا جارہا ہے۔ میں متذکرہ سیاسی قوتوں میں پاکستان مسلم لیگ (ن)اور پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادتوں کو اس لئے شامل نہیں کررہا کہ ان کی تو بقاءکا ہی انحصار اِس نظام کے تسلسل پر ہے اور وہ کبھی نہیں چاہیں گی کہ یہ نظام ان کے قدموں تلے سے کھسک جائے۔ جہاں تک ایم کیو ایم ` اے این پی اور جے یو آئی کا تعلق ہے ان کی قیادتیں بھی اس نظام کی ” برکات “ سے فیضیاب ہوتی رہی ہیں اور ہورہی ہیں۔
جو تین سیاسی قوتیں اس نظام کی ” برکات“ سے کوئی فیض نہیں پا سکیں اور نہ ہی پا سکتی ہیں ان میں سب سے اوپر میں عوام کو رکھوں گا۔ اس کے بعد ہماری فوجی قیادت آتی ہے۔ اور اس کے بعد عمران خان کی قیادت میں ابھرنے والی ” امنگِ انقلاب“۔
موجودہ نظام ایک طرف تو اقتدار دو چار خاندانوں میں مرتکز کرنے کا باعث بنا ہے اور دوسری طرف چند سو خاندان ملک کے وسائل پر قابض ہوچکے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ یہ چند سو خاندان حلقوں کی سیاست کے ذریعے ملک کو چند سو بادشاہتوں میں تبدیل کرچکے ہیں جو سب کی سب اوپر بیٹھے ہوئے شہنشاہ سے طاقت حاصل کرتی ہیں ۔
اب وقت آگیا ہے کہ تمام چیف ایگزیکٹوز کا انتخاب براہ راست عوام کے ووٹوں سے ہو اور ملک کو ایک سو کے لگ بھگ انتظامی یونٹوں میں تقسیم کردیا جائے جن میں سے ہر ایک کا اپنا منتخب چیف ایگزیکٹو ہو۔
کہاجاتا ہے کہ پارلیمانی نظام علاقائی احساسِ محرومی کو دور رکھنے کے لئے ضروری ہے۔ میری سمجھ میںنہیں آتا کہ اگر مقامی سطح پر منتخب اورمقتدر حکومتیں قائم ہوگئیں تو احساسِ محرومی کیسے جڑیں پکڑ سکے گا۔؟
مملکت کا اپنا چیف ایگزیکٹو اگر براہ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوگا تو وہ جوابدہ بھی عوام کے سامنے ہی ہوگا۔
(یہ کالم اس سے پہلے 16مئی 2015ءکو بھی شائع ہوا تھا)

Scroll To Top