پہلی بار فوج اور حکومت ایجنڈے اور نظریے میں ساتھ ہےں: عمران خان

  • آئی ایم ایف نے ڈالر کی قدر بڑھانے کی کوئی شرط نہیں رکھی، پچھلی حکومت نے روپے کی قدر برقرار رکھنے کےلئے ایک سال میں 7 ارب ڈالر خرچ کیے، 3جولائی کوآئی ایم ایف سے میٹنگ ہے جلد ہی افراتفری ختم ہو جائیگی،معیشت درست سمت گامزن ہے
  • 5500 ارب روپے کا ٹیکس حاصل کر کے دکھائیں گے، ایف بی آر کی ریفارمز کر رہے ہیں، کوئی کمپرومائز نہیں ہو گا، سیاست دانوں کی بے نامی پراپرٹیز پر ایکشن شروع ہونے والا ہے
  • ملک کو کنگال چھوڑ کر جانے والے ہم سے حساب مانگ رہے ہیں،نواز شریف پیسہ دیں اور علاج کیلئے بیرون ملک چلے جائیں، آصف زردار مشکل میں ہیں تو پیسہ واپس کردیں،مشرف نے این آر او دے کر دونوں جماعتوں کو بچایا،

اسلام آباد(الاخبار نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کنگال چھوڑ کر جانے والے ہم سے حساب مانگ رہے ہیں، انہوں نے لوگوں کو دھوکا دیا ہے انہیں شرم آنی چاہئے، یہ لوگ پی آئی اے، بجلی، گیس، ریلوے میں ریکارڈ خسارہ چھوڑ کر گئے، مشکل حالات سے گزرے اب آپ ملک میں استحکام دیکھیں گے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ این آر او تو نہیں ہونا ہے، پلی بارگین ہوسکتی ہے، نواز شریف پیسہ دیں اور علاج کے لے بیرون ملک چلے جائیں، آصف زرداری مشکل میں ہیں تو پیسہ واپس کردیں، وزیراعظم فوج اور حکومت پہلی بار ایک ایجنڈے اور پوائنٹ پر ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہاو¿سنگ اسکیم تیار کرنے میں وقت لگا، اگلے ہفتے افتتاح کریں گے، ہاو¿سنگ اسکیم کے ذریعے 40 انڈسٹریاں چلتی ہیں، معاشرہ اٹھ جاتا ہے، گھبرانا اس لیے نہیں کہ ملک میں ایک کروڑ گھروں کی ڈیمانڈ ہے، ہاو¿سنگ سیکٹر پیچھے رہ گیا اس لیے پرائیویٹ سیکٹر کو لے کر آرہے ہیں، ہاو¿سنگ سیکٹر بہتر ہونے سے ملک اوپر کی طرف جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکس کی آدھی رقم قرضوں پر سود کی مد میں چلی گئی، امپورٹ پر زیادہ توجہ دینے سے ملک کبھی بھی گرسکتا ہے، درا?مدات بلبلے کی طرح ہے، معیشت کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتی، معیشت ٹھیک کرنے کے لیے اصلاحات کے راستے پر چلنا ہوگا، اصلاحات کے لیے تیاری مکمل ہے وقت کے ساتھ ا?گے بڑھیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ ایک فیصد پاکستانی 22 کروڑ پاکستانیوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے، اصلاحات میں پہلی چیز یہ ہے کہ تمام لوگ فائلر بنیں، ساڑھے پانچ ہزار ارب اکٹھا تب ہوگا جب ٹیکس بیس بڑھے گی، ٹیکس اکٹھا کرنے کے ساتھ ایف بی آر میں بھی اصلاحات کریں گے، اصلاحات نہ کیں تو صرف سہمیں گے نہیں زیادہ مشکل حالات ہوں گے۔عمران خان نے کہا کہ دس سال میں قرضہ 6 ہزار ارب سے 30 ہزار ارب تک پہنچادیا گیا، ہم پہلے ہی کم ٹیکس دے رہے ہیں ایسے میں ملک نہیں چل سکتا، دنیا کی معیشتیں ایکسپورٹ کی وجہ سے بڑھتی ہیں، انٹربینک پر جو دباو¿ ہے کلوزنگ کے بعد جولائی میں کم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ڈالر اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے آج سب سے بڑی میٹنگ کی ہے، بارڈر سیکیورٹی فورسز، ایجنسیز کے ساتھ مل کر انسداد اسمگلنگ پروگرام بنا رہے ہیں، بارڈر اور اوور انوائسنگ سے منی لانڈرنگ کے خلاف قانون سازی کریں گے، اسمگلنگ کے ذریعے ایان علی 5 لاکھ ڈالر باہر لے کر جارہی تھی، جیسے ایان علی سے 5 لاکھ ڈالر ملے ایسے واقعات روکنے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم انڈسٹریز کی ذہنیت کو بدلنے کی کوشش کررہے ہیں، کاروبار نہیں ہوگا تو دولت نہیں، دولت نہیں تو قرضے واپس نہیں ہوں گے، ماضی کے حکمران سب منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں، حسن نواز لندن کے 43 ملین ڈالر کے گھر میں رہتے ہیں، حدیبیہ پیپر مل منی لانڈرنگ کا کیس ہے جو پی پی پی حکومت نے کیا تھا، سرے محل کا کیس ن لیگ کی جانب سے کیا گیا، مشرف نے این ا?ر او دے کر دونوں جماعتوں کو بچایا، دونوں جماعتوں کو بچایا گیا پھر انہوں نے دس سال ملک کو برباد کیا۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں ایکسپورٹ انڈسٹری 30 فیصد بڑھی ہے، امپورٹ 5 ہزار ارب ڈالر تک کم کردی ہے، غیرملکی سرمایہ کاری سے ملک ترقی کی جانب گامزن ہوگا، روس اور سینٹرل ایشین ری پبلکس پاکستان کی طر دیکھ رہی ہیں، یہ گوادر پورٹ کی طرف دیکھ رہے ہیں جو ان کو سب سے سستا پڑے گا۔ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ایکسچینج ریٹ کی اصل ویلیو طے نہیں کی جاسکتی کیونکہ یہ مارکیٹ کرتی ہے، اب ا?ئی ایم ایف پروگرام ہوگا تو معیشت مزید مستحکم ہوگی، ڈالر کی اصل قیمت کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا اس کا تعین مارکیٹ کرتی ہے، ڈالر کی قیمت پر غلط باتیں کرنے والے ملک دشمنی کررہے ہیں، ہم نے صرف سرمایہ کاری میں رکاوٹیں دور اور آسانیاں پیدا کرنی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی این ا?ر او کے لیے کوئی سفارش نہیں چلے گی، سفارش کے لے شریف خاندان کے دو بیٹوں نے دو ممالک کو مسیج بھجوائے، شریف خاندان کے بیٹوں نے میسج پہنچایا کہ کسی طرح سے باہر بھجوادیں، شریف خاندان نے جن سے سفارش کی انہوں نے کہا کہ آپ سفارش قبول نہیں کریں گے، دونوں ممالک مجھے اچھی طرح جانتے ہیں، وہ ذرا بھی دباو¿ نہیں ڈالیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ سیاست دانوں کی بے نامی پراپرٹیز پر ایکشن شروع ہونے والا ہے، سیاست دانوں کی بے نامی پراپرٹیز کل سے ضبط ہونا شروع ہوں گی، جولائی کے بعد لوگوں کی بے نامی جائیداد ضبط ہونا شروع ہوں گی، جس کی بے نامی جائیدادیں ہیں ان کی فہرست ہمارے پاس آچکی ہے، جس کی بھی بے نامی چیزیں ہیں ضبط ہوں گی، لوگوں نے نوکروں کے نام پر بے نامی پراپرٹیز لے رکھی ہیں، ماضی میں جس طرح پاکستان چلایا گیا اب ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی، گیس مہنگی ہوئی کیونکہ یہ تاریخ کا سب سے بڑا سرکلر ڈیٹ چھوڑ گئے، بجلی کی قیمت نہیں بڑھاتے تو قرضے ہاتھ سے نکل جاتے، نچلے طبقے کے لیے حکومت نے 217 ارب کی سبسڈی دی ہے، 300 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کی قیمتیں نہیں بڑھائیں، ملکی تاریخ میں پہلی بار گیس سیکٹر کو 154 ارب روپے خسارے کا سامنا ہے، گیس کمپنیوں نے اپنی رپورٹس میں نقصان نہیں دکھایا، 154 ارب روپے کی سبسڈی تو حکومت نے دینی ہے، 2 ارب روپے کی اوور چارجنگ کی گئی پتا چلا وہ بھی منافع میں ڈالا گیا۔وزیراعظم کے مطابق ہماری اور دنیا کی بھلائی اسی میں ہے کہ کوئی جنگ جوئی نہ ہو، امریکا 17 سال بعد اس نتیجے پر پہنچا افغان مسئلے کا حل ملٹری نہیں ہے، پاکستان کی بھرپور کوشش ہے کہ افغان مسئلے کا پرامن حل ہو۔

Scroll To Top