ہمارا قانون کہتا ہے کہ جرم کرنے کے لئے مجرم کا وجود ضروری نہیں 07-05-2015

ہمارا نظامِ عدل وقانون بھی عجیب ہے۔ یہ تو مانتا ہے کہ جرائم ہوتے ہیں مگر یہ نہیں مانتا جرائم کرنے والے بھی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں آج تک کرپشن کے بے تاج بادشاہوں کا کوئی بھی کارنامہ قانون کی زد میں نہیں آیا۔نیب ضرور بنی ہوئی ہے وہاں کرپشن کے ریفرنسوں کے انبار بھی لگے ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ کرپشن درحقیقت ہوئی ہوگی ورنہ ریفرنس کیوں بنتے۔؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ جن بڑے بڑے ناموں کے خلاف یہ ریفرنس ہیں وہ نہ صرف یہ کہ عیش و آرام کی زندگی بسر کررہے ہیں بلکہ یہ بھی کہ آنے والے برسوں میں بھی ویسے ہی کارنامے انجام دینے کے منصوبے بنا رہے ہیں جیسے کارناموں کی وجہ سے ان کے خلاف ریفرنسوں کے انبارنیب کے دفاتر میں منوں مٹی کے تلے دبے ہوئے ہیں۔
میری آگہی میں کوئی ایسا ” حکمران نام “ نہیں آرہا جس کے خلاف خوفناک قسم کی کرپشن کا الزام فائلوں میں چھپا نہ ہوا ہو۔
قانون ثبوت مانگتا ہے۔ اور عدل و انصاف کی تمنا کرنے والوں کو ممکنہ مجرموں سے درخواست کرنی پڑے گی کہ آئندہ جب بھی وہ کسی جرم کا ارتکاب کریں۔ کسی بڑی کرپشن کی واردات کریں تو ساتھ کیمرہ مین بھی رکھیں اور کرپشن کرتے وقت تصویریں بھی کھنچوائیں۔
ہمارا نظامِ قانون و عدل اسی بات کا متقاضی ہے۔ حال ہی میں این اے 125کا جو فیصلہ آیا ہے اس میں بھی اس بات کو تو واضح طور پر تسلیم کرلیا گیا ہے کہ زبردست قسم کی بے ضابطگیاں تو ہوئی ہیں ’ دھاندلی واضح طور پر ہوئی ہے لیکن بے ضابطگیاں کرنے والوں کا کوئی وجود نہیں’ کسی کو بھی ان کی سزا نہیں دی جاسکتی ۔
اگر یہی نظام سیاست چلتا رہا اور نظامِ عدل ایسے ہی قوانین کے تابع رہا تو پھر ہمیں شب و روز اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جھک جھک کر دعائیں مانگنی ہوں گی کہ تُو ہی اِس ملک اور اِس قوم کو تباہی سے بچانے کی کوئی صورت پیدا کر۔۔۔۔!

Scroll To Top