استغفراللہ ! 06-05-2015

اگر آپ کو خواجہ سعد رفیق اور طلال چوہدری نامی فرزندانِ سیاست کی زبان اور طرزِ گفتگو سے ”لطف اندوز“ ہونے کا اتفاق ہوا ہے اور وہ بھی 4مئی 2015ءکے تاریخی دن اس فیصلے کے بعد جس کے اعلان نے لاہور کے حلقہ 125کا معاملہ نپٹا دیا۔۔۔تو آپ یقینا سوچ رہے ہوں گے کہ سیاست کے دروازے تمام دیگر بازاری لوگوں پر بھی کھول دیئے جانے چاہئیں۔
نون لیگ کو پروپیگنڈ ہ کرنے میں کمال حاصل ہے۔ یہ فن پہلے شیخ رشید نے ایجاد کیا تھا جب و ہ نون لیگ کے سنٹر فارورڈ تھے۔ تب پاکستان پیپلزپارٹی نون لیگ کے نشانے پر تھی۔ پھرجب عمران خا ن نے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا تو ایک پروپیگنڈہ سیل ان کی کردار کشی کے لئے بھی بنا دیا گیا۔
جنا ب پرویز رشید اسی پروپیگنڈہ سیل کا تسلسل ہیں۔ مگر وہ تلخ سے تلخ بات ¾ بڑ ی سے بڑی گالی بھی شائستہ زبان میں کہنے اور دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر آپ عمران خان کے حامی یا پرستار ہیں تو آپ کو پرویز رشید صاحب کی باتوں پر غصہ ضرور آئے گا لیکن آپ کا جی یہ نہیں چاہے گا کہ جو چیز ہاتھ میں ہاتھ آئے اُن کے منہ پر دے ماریں۔
یہ کمال خو اجہ سعد رفیق اور طلال چوہدری جیسے لوگوں کو حاصل ہے کہ اگروہ بازاری پن پر آئیں تو گندی نالیوں کے قریب پلنے والے آوارہ بدمعاش بھی ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔
دونوں گالیاں صرف عمران خان کو ہی نہیں اس بہادر جج کو بھی دیتے رہے جس نے ایک سچا فیصلہ سنانے کی ہمت پولرائزیشن کے ایسے ماحول میں کی۔ اگر دونوں حضرات کا بس چلتا تو وہ الطاف حسین کے بازاری پن کو بھی مات دینے کی کوشش کرتے ۔۔۔
میاں نوازشریف سے آپ کس قدر بھی اختلاف کریں۔۔۔ وہ بنیادی طور پر شائستہ مزاج رکھتے ہیں۔ مجھے حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ ایک طرف تو ان کے کیمپ میںچوہدری نثار علی خان جیسے مہذب اور پڑھے لکھے لوگ ہیں اور دوسری طرف یہ لوگ ! استغفراللہ !!

Scroll To Top