APC فلاپ،پیپلز پارٹی کا حکومت مخالف تحریک سے انکار، ن لیگ تقسیم

  • مولانا فضل الرحمان نے حکومت گرانے کیلئے اسلام آباد لاک ڈاون اور اسمبلیوں سے استعفوں کی تجویز پیش کی جسے پیپلز پارٹی نے مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ حکومت گرانے کیلئے کوئی غیر جمہوری اقدام نہیں اٹھایا جائے گا
  • ن لیگی قیادت کی تقسیم ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی،صدر ن لیگ شہباز شریف بلاول بھٹو زرداری کے موقف کے حامی جبکہ مریم نواز مولانا فضل الرحمن ، اے این پی و دیگر جماعتوںکی ہمنوا مگر مقصد کے حصول میں ناکام

اسلام آباد (الاخبار نیوز) مولانا فضل الرحمان کی آل پارٹیز کانفرنس ناکام ہوگئی، پیپلز پارٹی کا حکومت گرانے سے انکار، ن لیگ تقسیم ہوگئی، کانفرنس کے دوران تمام سیاسی جماعتوں کا چئیرمین سینیٹ کو ہٹانے پر اتفاق، ضرورت پڑنے پر ڈپٹی چئیرمین سلیم مانڈوی والہ بھی مستعفی ہو جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی آل پارٹیز کانفرنس ناکام ہوگئی ہے۔اجلاس کے مولانا فضل الرحمان نے حکومت گرانے کیلئے اسلام آباد لاک ڈاون اور اسمبلیوں سے استعفوں کی تجویز پیش کی۔ پیپلز پارٹی نے مولانا فضل الرحمان کی تجاویز قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت گرانے کیلئے کوئی غیر جمہوری اقدام نہیں اٹھایا جائے گا۔ جبکہ اس معاملے پر ن لیگ تقسیم نظر آئی اور کوئی واضح فیصلہ نہیں کر سکی۔تاہم کانفرنس کے دوران تمام اپوزیشن جماعتوں نے چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے پر اتفاق کیا۔جبکہ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ضرورت پڑنے پر ڈپٹی چئیرمین سلیم مانڈوی والہ بھی مستعفی ہو جائیں گے۔حکومت کیخلاف ا?ئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے بلائی گئی ا?ل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کا اجلاس اسلام ا?باد ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ 25 جولائی 2018ئ کو ہونے والے عام انتخابات میں بدترین دھاندلی ہوئی، اس دن کو ملک بھر میں یوم سیاہ کے طور پر منانا چاہیے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی کے قیام میں پیشرفت نہیں ہوئی۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم یک زبان ہو کر فیصلے کریں۔ انہوں نے تمام اپوزیشن جماعتوں کو اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی تجویز دی۔ اجلاس سے خطاب میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملکی تاریخ میں اس سے بدترین بجٹ نہیں دیکھا۔ہم اسمبلی کے اندر اور باہر کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ اسفندیار ولی نے چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ صادق سنجرانی کو تبدیل کیا جانا چاہیے، اپوزیشن نے یہ اقدام نہ اٹھایا تو عوام اعتماد نہیں کریگی۔ اے این پی نے حکومت کیخلاف احتجاجی تحریک کیلئے کمیٹی بنانے کی بھی تجویز دی۔میاں افتخار کا کہنا تھا کہ ہم تحریک سے متعلق پلان تیار کریںگے۔ ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کی اکثریت ہے، حکومت گرانے سے پہلے چیئرمین سینیٹ کو ہٹایا جائے، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اپوزیشن کے ہونے چاہیں۔ اجلاس کا پہلا مرحلہ ختم ہونے کے بعد میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اے پی سی میں ابھی مباحثہ ابتدائی سطح پر ہے، اجلاس میں مختلف رہنماو¿ں نے تقاریر میں اپنے خیالات کا اظہار کیا، تاہم ایجنڈے کے اہم نکات پر بات چیت ہونا باقی ہے۔مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ اے پی سی میں کیا فیصلے ہوئے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابھی بات چیت جاری ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت جاتی ہوئی نظر آ رہی ہے؟ تو مریم نواز نے انشا اللہ کہتے ہوئے کہا کہ آج ہم نے کچھ نہ کیا توعوام مایوس ہونگے، ہمیں حتمی فیصلہ کرنا ہوگا۔ ا?ل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان میں عوام کے نمائندہ حکمران موجود نہیں، نام نہاد حکمرانوں کا ٹولہ 25 جولائی 2018ئ کے انتخابات میں بدترین دھاندلی کے بعد مسلط ہوا، ان انتخابات کو ملک کی تمام سیاسی جماعتیں مسترد کر چکی ہیں۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حکومت کا ایجنڈا ملکی مفاد کے بجائے گھناو¿نی سازش کا حصہ ہے، بیرونی ادائیگیوں کا دباو¿ ملکی سلامتی کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ حکومت 11 ماہ میں کارکردگی کے اعتبار سے اپنی نااہلی پر مہر ثبت کر چکی ہے۔ اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ اس سے قبل کہ ملک کسی سانحہ کا شکار ہو، ہمیں متفقہ بیانیہ پر متحد ہونا ہوگا۔اے پی سی رہنماو¿ں نے ڈگمگاتی معیشت کو بچانے، ملکی سلامتی، سٹریٹجک اثاثے اور سی پیک جیسے منصوبوں کو دشمن قوتوں سے بچانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اعلامیے میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مذہبی معاملات کے حوالے سے اپنی غلطیوں پر قوم سے معافی مانگے۔ ذرائع کے مطابق اے پی سی کی اکثریتی جماعتوں نے چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے پر اتفاق کر لیا ہے تاہم اس کے طریقہ کار پر مشاورت جاری ہے، اس کے علاوہ حکومت کے خلاف تحریک چلانے پر بھی اکثریتی جماعتوں نے اتفاق کیا ہے تاہم بلاول بھٹو زرداری نے تحریک چلانے کی تاحال حمایت نہیں کی، دیگر جماعتوں کی بلاول کو قائل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے پہلے مرحلے میں قرارداد پیش کی جائے گی۔ نئے چیئرمین کے نام کے لیے کمیٹی کے قیام پر بھی اتفاق کر لیا گیا ہے۔ کمیٹی میں تمام اپوزیشن جماعتوں کے ارکان شامل ہونگے۔ اس کے علاوہ اے پی سی میں شامل جماعتوں نے 25 جولائی کو یوم سیاہ منانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ 25 جولائی کو یوم سیاہ منانے کی تجویز مولانا فضل الرحمان نے دی تھی۔

Scroll To Top