شاہد خاقان عباسی، مراد علی شاہ اور یوسف بیگ مرزا نیب کے ریڈار پر ، گرفتاریاں جلد متوقع

  • سابق وزیر اعظم شاہدخاقان عباسی کو ایل این جی کیس ،وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کوشوگر ملز کو اربوں روپے کی سبسڈی دینے بار ے اور یوسف بیگ مرزا کو تین مرتبہ ایم ڈی پی ٹی وی تعیناتی بارے تحقیقات کا سامنا ہے
  • یاد رہے کہ ن لیگی رہنما احسن اقبال کو بھی نارووال میں سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر میں گھپلوں بارے تحقیقات اور گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کے نتیجے میں پہلے سے ہی مشکلات کا شکار ن لیگ کو مزید دھچکا لگ سکتا ہے

اسلام آباد ( الاخبار نیوز ) : قومی احتساب بیورو (نیب) نے جولائی کے مہینے میں حکومت اور اپوزیشن کی اہم شخصیات کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جولائی میں جعلی اکاو¿نٹس، ایل این جی اور مالم جبہ کیس میں اہم پیشرفت کا امکان ہے ، جس کے تحت نیب نے جولائی میں حکومتی اور اپوزیشن کی اہم شخصیات کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کرلیا۔سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی پر ایل این جی کا کیس نیب میں ہے جبکہ سابق ایم ڈی پی ٹی وی یوسف بیگ مرزا کے خلاف تحقیقات تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے یوسف بیگ کے خلاف وزارت اطلاعات و نشریات سے بھی ریکارڈ منگوا لیا جس کی روشنی میں یوسف بیگ مرزا کو جلد تحقیقات کے لئے طلب کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے۔یوسف بیگ مرزا کی بطور ایم ڈی پی ٹی وی تعیناتی کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ یوسف بیگ مرزا 1998ئ ، 2003ئ اور 2010ئ میں کس طریقہ کار کے تحت ایم ڈی پی ٹی وی تعینات ہوئے۔ جولائی کے مہینے میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی بھی گرفتاری کا امکان ہے جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی گرفتاری کا بھی قوی امکان ہے۔مراد علی شاہ سے متعلق ایک اطلاع یہ بھی موصول ہوئی تھی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی گرفتاری کی صورت میں ناصر حسین شاہ کو نیا وزیر اعلیٰ سندھ بنانے کی تیاری شروع کر دی ہے جبکہ اس حوالے سے پارٹی میں مشاورت کا عمل بھی جاری ہے۔ناصر حسین شاہ کو پیپلز پارٹی خواتین ونگ کی سربراہ فریال تالپور کا قریبی شخص سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ممکنہ گرفتاری سے بچنے کے لیے اپنے تمام ذرائع استعمال کر رہے ہیں۔ سید مراد علی شاہ پر الزام عائد ہے کہ انہوں نے تصدیق کیے بغیر سیاسی دباو¿ میں آ کر سندھ حکومت کے خزانے سے اربوں روپے کی رقم شوگر ملز کو سبسڈی میں دی اور ان شوگر ملز کو بھی سبسڈی دی جن کی کوئی مشینری ہی نہیں تھی۔یہی نہیں ان پر ایک اور الزام یہ بھی عائد ہے کہ انہوں نے محکمہ خزانہ سے دیگر محکموں کو جاری کی جانے والی رقوم سے ملنے والی کمیشن کی رقم کہاں خرچ کی اس کا بھی کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے کہ آخر کار متعلقہ رقم کہاں خرچ کی گئی۔ ذرائع کے مطابق مراد علی شاہ پر ضلع ملیر میں زمین ضیاء الدین اسپتال کے نام کرنے کا بھی الزام ہے جس کی نیب تحقیقات کر رہی ہے اور تحقیقات کے دوران نیب میں پیش بھی ہو چکے ہیں۔یاد رہے کہ ن لیگی رہنما احسن اقبال کو بھی نارووال میں سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر میں گھپلوں بارے تحقیقات اور گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کے نتیجے میں پہلے سے ہی مشکلات کا شکار ن لیگ کو مزید دھچکا لگ سکتا ہے

Scroll To Top