نظام اور ادارے ملک و قوم کے لئے ہوتے ہیں، ملک نظاموں اور اداروں کے لئے نہیں ہوتے۔۔۔

بات بڑی چھوٹی سی نظر آتی ہے مگر اس سے ایک مخصوص سوچ سامنے آتی ہے۔ جناب بلاول بھٹو نے مطالبہ کیا ہے کہ فاٹا کے انتخابات میں فوجی جوان پولنگ سٹیشنر کے اندر نہ جائیں کیوں کہ اب تو ملک دہشت گردی سے بڑی حد تک پاک ہوچکا ہے اور وزیرستان میں بھی حالات اتنے پرامن ضرور ہیں کہ وہاں انتخابات ہورہے ہیں۔
جناب بلاول کیوں چاہتے ہیں کہ فوجی جوان پولنگ سٹیشنر کے اندر موجود نہ ہوں ؟ صرف اس لئے کہ اگر وہاں ایسے عناصر موجود ہوں جنہیں ” پشتون قوم پرستوں“ نے غیر ملکی سرمائے سے خرید رکھا ہو تو انہیں اپنا کام کر گزرنے کی مکمل آزادی ہو۔ دوسرے معنوں میں جناب بلاول کی ہمدردیاں وفاقی سوچ رکھنے والوں کے ساتھ نہیں ان عناصر کے ساتھ ہیں جو کھلم کھلا ” پاکستانیت “ کی مخالفت کررہے ہیں اور فاٹا میں آباد ” پاکستانیوں “ کو بغاوت پر ابھارنے کی مذموم کوشش کررہے ہیں۔
اگر زیڈ اے بھٹو زندہ ہوتے ۔۔۔ یا پھر بے نظیر بھٹو اقتدار کی دوڑ سے باہر نہ کردی جاتیں تو بلاول بھٹو کے ذہن میں یہ خیال تک نہ آتا کہ ” وفاقی سوچ “ کے علاوہ بھی ” پاکستانیت“ کی کوئی پہچان ہے۔
جمہوریت بذات خود کوئی مقدس تصور نہیں۔ اگر جمہوریت پاکستان سے زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی تو 1947ءمیں لیاقت علی خان وزیراعظم کبھی نہ بنتے۔ لیاقت علی خان کی کوئی Constituency
نہیں تھی) حلقہ انتخاب(۔
ان کی واحد خوبی یہ تھی کہ وہ تحریک پاکستان کے ایک مقبول سپاہی تھے۔ قائداعظم ؒ کو پاکستان سے زیادہ جمہوریت کی فکر ہوتی تو وہ حسین شہید سہروردی کو وزیراعظم بناتے اور قیامِ پاکستان کے فوراًہی بعد ” صوبہ سرحد “ میں قائم ڈاکٹر خان کی منتخب حکومت کو ڈسمس نہ کرتے۔۔۔
نظام اور ادارے ملک و قوم کے لئے ہوتے ہیں ¾ ملک نظاموں اور اداروں کے لئے نہیں ہوتے۔۔۔

Scroll To Top