اے پی سی۔۔ نشستند، گفتند، برخاستند

  • دارالحکومت سارا دن گومگو سے دوچار کانفرنس ہو گی نہیں ہوگی!
  • ۔ایک غیر منتخب اور ریجکٹڈ، سیاسی بروکر کی صدارت میں ہونے والا اجتماع۔
  • جمہوریت کے نام نہاد دعویداروں کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ!
  • ۔ زرداری نواز سرشت۔ مار پڑنے کا خوف ہو تو سہرا کسی دوسرے کے سر باندھ دیا کرتے ہیں۔
  • ۔ درپیش حالات میں اے پی سی محض کمپنی کی ساکھ اور بھرم رکھنے اور حکومت کے
  • ساتھ بارگیننگ پوزیشن برقرار رکھنے کی غرض سے ہوگی
  • ۔ بڑے میاں اور راجکماری کے ملک سے ممکنہ ”فرار“ کی خبروں نے اپوزیشن کی
    صفوں میں کھلبلی اور بددلی پیدا کر دی ہے
  • ۔ نون لیگ، نئی مشکلات کا سامنا، اپنا وجود ہی بچالے تو غنیمت ہوگا

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرہ خوں نہ نکلا
یوں لگتا ہے کہ کچھ سال کم دو صدیاں پہلے غالب یہ شعر پاکستان کی انتشار زدہ”متحدہ“ اپوزیشن بابت اس نے ہر سو دوڑو پکڑو جانے نہ پائے کا ایک ہنگام اور کھلواڑ کھڑا کیا ہوا تھا۔ ایک باقاعدہ پٹ سیاپا بریگیڈ ان کی زنبیل کار میں پایا جاتا ہے، جس کا کام ہی فقط عمران خان کی نفی اور کردار کشی کا ناٹک کھیلنا ہے اور اس مقصد کے لئے وہ غیر معمولی حد تک نئے بجٹ کے حوالے سے عوام میں عمران حکومت کے خلاف بدگمانیاں پیدا کرنے میں جتنا ہوا ہے۔ آپ اگر اپنی یادداشت تازہ کیجئے تو آپ کے سامنے اپوزیشن قیادتوں کے بیانات دھوپ چھاﺅں کی طرح ادلتے بدلتے دکھائی دیں گے۔ زرداری، شہباز، احسن اقبال، شاہد خاقان اور بے بی بلاول کے ”فرمودات عالیہ“ جنہیں تڑیاں اور دھمکیاں کہنا زیادہ قرین حقیقت نظر آتا ہے۔ کس مفہوم کے ساتھ سامنے آئی تھی، صبح و شام کہا جاتا کہ عمران حکومت کو گھر بھیجے بغیر ملکی سلامتی کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ حکومت اور معیشت یا معیشت اور نیب ساتھ ساتھ نہیں چل سکتیں شام ہوتے ہی گل افشانی ہوتی کہ ہم عمران حکومت کو کیوں گرائیں وہ تو خود ہی اپنی نالائقیوں کے سبب سے گر جائے گی۔ یا یہ کہ ہم عمران کو وقت سے پہلے چلتا کرکے سیاسی شہید بننے دینا نہیں چاہتے وغیرہ وغیرہ۔
اپوزیشن کا یہ متلون رویہ اور طرز عمل جہاں اس کی سیاسی اعتبار سے عدم پختگی کا مظہر ہے وہاں بھان متی کے اس کنبے میں باہمدگر شدید اختلافات کا ثبوت بھی ملتا ہے۔
قارئین کو یاد ہوگا کہ رمضان کریم کے مہینے سے ہی اپوزیشن، بلند بانگ دعوے کئے جا رہی تھی کہ وہ عید کے بعد پی ٹی آئی حکت کا تختہ کرنے میں کوئی تاخیر نہیں ہونے دیں گے۔ اب مگر عید گزرے بھی تین ہفتے بیت چکے ہیں مگر اپوزیشن اپنے کسی دعوے کی تکمیل کے سلسلے میں رتی بھر پیش رفت نہ کر سکی الایہ کہ اخباری بیان بازی میں وہ ضرور خود کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتی رہی۔
اسی اثناءمیں اپوزیشن جماعتوں نے اپنے اپنے تئیں عوامی موڈ اور مزاج کی پیمائش شروع کردی۔ رائے عامہ کے تعین اور سروے کرنے والے تجارتی اداروں کے ذریعے عوامی رویے کی گن سن لی گئی تو جو نتائج سامنے آئے ان سے اپوزیشن کے سارے دعوﺅں اور خواہشوں پر اوس پڑ گئی۔
عمران حکومت کے مخالفین نے اپنی تمام تر احتجاجی تحریک کی بنیاد حالیہ ایام میں ہونے والی مہنگائی پر رکھی تھی۔ اور اسے یقین تھا جونہی اس نے مہنگائی کے حوالے سے نعرہ مارا لوگ گھروں سے جوق در جوق باہر سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ مگر سرویز اور عوامی آرا کے گوشواروں سے پتہ چلا کہ لوگ تو کسی طور احتجاج کے موڈ میں ہی نہیں ہیں۔ ان سرویز سے جو تلخ مگر درست حیققت سامنے آئی اس کے حوالے سے لوگوں نے برملا کہا کہ اگر وہ پچھلے تیس سال تک زرداری اور نوازحکومتوں کی کرپشن برداشت کر سکتے ہیں تو کرپشن فری عمران حکومت کو اس کے آئینی اور قانونی حق سے محروم کرکے گھر کیوں بھیجیں دوسری بڑی حقیقت یہ سامنے آئی کہ عام لوگوں کا شعورپہلے سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔ زیادہ تر لوگوں کا کہنا تھا کہ آج جو مہنگائی ہے اس کی بنیادی وجہ تو زرداریوں اور نونیوں کی لوٹ کھسوٹ ہے یا پھر قرضوں میں جکڑی معیشت جس نے عمران خان کو بلدی دی بوتھی میں ڈال دیا ہے۔
اب اپوزیشن کیا کرتی؟
اس کے سامنے دو ہی راستے تھے۔ چپ سادھ کر سیاسی خود کشی کرلیتی یا پھر کمپنی کی ساکھ اور بھرم رکھنے کے لئے خالی خولی بڑھک بازی کا سلسلہ جاری رکھتی تاکہ حکومت کے ساتھ لین دین میں اس کے پاس کسی نہ کسی درجے کی بارگیننگ پوزیشن تو موجود ہو سو اس نے دوسرے راستے کا انتخاب کرلیا۔
اب اس کے سامنے رمضان کے ایام میں وام کے سامنے ماری گئی بڑھکیں تھیں جن کے مطابق اس نے عید کے فوراً بعد حکومت گرانے کے سلسلے میں پہلے مرحلے میں اے پی سی میں منعقد کرنا تھی ،مگر اس کے انعقاد میں بھی بوجوہ غیر معمولی تاخیر ہو گئی۔ اس کے بعد بجٹ سیشن کے دوران پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی کا پروگرام تھا اور آخر میں سڑکوں پر احتجاجی تحریک وغیرہ وغیرہ
حکومت مخالف شورا شوری میں پیپلزپارٹی اور نون لیگ دو بڑی جماعتیں ہیں جبکہ دیگر پریشر گروپس میں گماشتوں اور کارندوں کا کردارادا کرتے ہیں۔ پہلے پروگرام کے مطابق اے پی سی کو مشترکہ طور پر پی پی پی اور نون لیگ نے ہیڈ کرنا تھا مگر ناموافق حالات کے بو سونگھتے ہوئے اور سامنے کھڑی ناکامی کے پیش نظر انہوں نے ملا ڈیزل کو قربانی کا بکرا بناتے ہوئے اے پی سی کا سہرا اس کے سر باندھ دیا۔
اب ہوگا یہ کہ اے پی سی کی ”ٹی پارٹی“ آج ہونے کا امکان ہے مگر میں اس کے نتائج بابت پہلے ہی پیش گوئی کردیتا ہوں کہ یہ ”ٹی پارٹی“ محض ”نشستند، گفتند، برخاستند“ کا کھیل تماشا ثابت ہو گی اس کی ایک بڑی وجہ اپوزیشن میں بھان متی کے کنبے کی ہر کل ٹیڑھی ہونے کے ساتھ ساتھ یہ بنے گی کہ جاتی امرا کے ناشریف خانوادے میں زبردست پھوٹ پڑ چکی ہے۔ بڑے میاں صاحب بیس برس پہلے کی طرح ایک بارپھر ملک سے دھڑکی لگانے کے چکر میں ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ایک عرب ریاست کے توسط سے جرمانے کی معقول رقم کی ادائیگی کی شرط پر نواز شریف اور مریم صفدر ملک سے چلے جائیں گے۔ اب آپ ہی سوچیے کہ اس بھگوڑے خاندان کے لئے کون سڑکوں پر احتجاج کرے گا اور کیسی اے پی سی اور کیسی حکومت گراﺅ تحریک۔ ان حالات میں نون لیگ اپنا وجود بچالے تو غنیمت ہوگا۔

Scroll To Top