مراد سعید کی کسی بھی بات کا جواب اپوزیشن لیڈروں کے پاس نہیں ہوگا۔۔۔ سوائے اس کے کہ ” سلیکٹڈ وزیراعظم نے آزادیوں پر پہرے بٹھا دیئے ہیں۔۔۔“

مراد سعید نے اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ وہ سلوک کیا ہے جو شہرہ آفاق مرحوم باکسر محمد علی اپنے حریفوں کے ساتھ ” رِنگ“ میں کرتے تھے۔ ہر مقابلے کی ابتداء”حریف باکسر“ کے تابڑ توڑ حملوں سے ہوتی تھی۔ محمد علی ناچتے کودتے اور حملوں سے بچتے نظر آتے تھے۔ پھر اچانک جیسے بجلی کوندی ہو ¾ منظر نامہ تبدیل ہوجاتا تھا ۔ محمد علی اپنے مخالف پر ٹوٹ پڑتے تھے اور اسے رنگ کی رسیوں کی طرف دھکیل دیتے تھے تا آں کہ محمد علی کا ایک ا ٓ ہنی مکہ جگہ بنا کر حریف کے منہ یا سر پر لگتا تھا اور اسے ڈھیر کردیتا تھا۔
مراد سعید نے 24جون کی شام کو قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو کے طویل خطاب کے بعد جو تقریر کی کہ وہ عمران خان کے ہر حریف کو ڈھیر کردینے والی تھی۔
اپوزیشن لیڈروں کے خواب و خیال میں بھی نہیں ہوگا کہ مراد سعید اتنی تیاری کرکے آئیں گے۔ وہ اپنے ساتھ حوالے دینے کے لئے کچھ کتابیں بھی لائے تھے۔ ان کتابوں میں مادام کنڈولینرارائس کی خود نوشت بھی شامل تھی جس میں ” این آر او “ کے حصول کی جدوجہد میں زرداری صاحب کے ” خفیہ رابطوں“ کی داستان رقم تھی۔ سب سے اہم کتاب ران سکنڈکی تصنیف
The Way Of the World
تھی جس میں دسمبر2007ءمیں محترمہ بے نظیر بھٹو کے اچانک اور مختصر ” دورہ دوبئی “ کے ” سنسنی خیز “ مقصد کا ذکر تھا۔ محترمہ پاکستان سے دوبئی اپنے فرزند بلاول کو صرف یہ بتانے گئی تھیں کہ ” بیٹے میں تمہیں اپنے کاﺅنٹس کی جو تفصیلات دے رہی ہوں اس کا ذکر بھول کر بھی اپنے والد سے نہ کرنا ۔۔۔ تمام کوڈ اور نمبر احتیاط سے نوٹ کر لو۔۔۔ میری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔۔۔“
ہم سب جانتے ہیں کہ محترمہ 27دسمبر2007ءکو کسی ” نامعلوم “ قاتل کی منصوبہ بندی کا نشانہ بن گئیں۔۔۔ مگر یہ نہیں جانتے کہ بلاول نے اپنے باپ کو ان معلومات میں شریک کیا یا نہیں جو مرحومہ نے اِن سے ” شیئر“ کی تھیں۔۔۔
ایک بات تو طے ہے کہ بلاول بھی بے انداز دولت کے پہاڑ پر بیٹھے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ اُن کے والد بہت آگے ہوں گے مراد سعید نے ایک ایک کرکے وہ تمام ” گُر “ بیان کئے جو دونوں سابق ”حکمران خاندانوں “ نے دولت اپنے خفیہ خزانوں میں سمیٹنے کے لئے استعما ل کئے۔۔۔
مراد سعید کی کسی بھی بات کا جواب اپوزیشن لیڈروں کے پاس نہیں ہوگا۔۔۔
سوائے اس کے کہ ” سلیکٹڈ وزیراعظم“ نے آزادیوں پر پہرے بٹھا دیئے ہیں۔۔۔
اگر آزادیوں پر پہرے بیٹھے ہوتے تو تمام ٹی وی چینل تمام اپوزیشن لیڈروں کی لمبی لمبی تقاریر من وعن نشر نہ کرتے ۔۔۔!
ان سب کی صرف ایک آزادی خطرے میں ہے۔۔۔
قومی خزانے کو اپنا مال غنیمت سمجھنے کی آزادی۔۔۔!

Scroll To Top