وزیر اعظم پاکستان کا عزم اپنی جگہ مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • وطن عزیز میں بااثر حضرات کا ٹیکس نہ دینے کا معاملہ سالوں نہیں دہائیوں سے التواءکا شکار ہے
  • پاکستان میں ایسے طاقتور افراد بھی ٹیکس دینے سے انکاری ہیں جو کئی اہم سرکاری عہدوں پر رہے
  • نجی شعبہ جتنا ٹیکس دے مگر آدھے سے زیادہ حکومتی خزانے میںجانے سے پہلے ہی خرد برد ہو جاتا ہے
  • معاملہ کا اہم پہلو یہ ہے کہ جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکس دیتا ہے بدلے میں اس کو ناکافی سہولیات میسر ہیں

وزیر اعظم پاکستان کا کرپشن کے بعد ٹیکس چوروں کے خلاف کاروائی کرنے کا اعلان خوش آئند مگر اس پالیسی پر عمل درآمد میںجو مشکلات حائل ہوسکتی ہیں وہ شائد باخبر حضرات کی نگاہ سے پوشیدہ نہیں۔ عمران خان نے قوم کے نام پیغام میں کہا ہے کہ عوام کے لیے ٹیکس ایمنسٹی سیکم اثاثے ظاہر کرنے کا سنہری موقعہ ہے ، وزیر اعظم کے بعقول ہم قرضوں کی وجہ سے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں، ہماری حالت کرپشن اور ٹیکس چوری کی وجہ سے ہے ، جب تک حکومت اور عوام مل کر یہ فیصلہ نہیں کریں گے کہ ہم نے قرضوں کے دلدل سے نکلنا ہے ہم کبھی نہیں نکل سکیں گے ، “
وطن عزیز میں ٹیکس نہ دینے کا معاملہ سالوں نہیں دہائیوں سے التواءکا شکار ہے ، حیرت و ملال کا مقام یہ ہے کہ اب تک فرد واحد کی حکومت ہو یا جمہوری کہلانے والی قیادت تاحال کوئی بھی اس محاز پر کامیاب نہیں ہوسکی ۔ یقینا بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر ہمارے ہاں ٹیکس دینے کا رواج کیونکہ فروغ نہیں پاسکا، بادی النظر میں کاروباری افراد کی بجائے عام آدمی پر ٹیکس کا بوجھ لادنے کا سبب اس کے سوا کچھ نہیںکہ حکومتیں مصلحت کا شکار رہیں، اندازے کے مطابق ہمارے ہاں نوے فیصد کاروباری افراد ٹیکس نہیں دیتے جس کی وجہ ہر حکومت میں شامل افراد سے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ان کے تعلقات ہوا کرتے ہیں، شرمندگی کا مقام یہ ہے مملکت خداداد پاکستان میں ایسے طاقتور افراد بھی ٹیکس دینے سے انکاری ہیں جو کئی اہم سرکاری عہدوں پر براجمان رہے ، درحقیقت عام آدمی یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ وہ پیڑول سے لے کر صابن ، سگریٹ، بسکٹ، کولڈ ڈرنک غرض درجنوں اشیاءپر ٹکیس دے رہا مگر پھر بھی سرکار کا شکوہ یہ ہے کہ ٹیکس کے معاملہ میں مطلوبہ حجم پورا نہیں ہورہا۔ ادھر سرکاری وغیر سرکاری ملازمین کسی طور پر ٹیکس سے نہیں بچ سکتے ، سچ یہ ہے کہ نجی شعبہ جیسا کیسا بھی ٹیکس دیتا ہے کہ آدھے سے زیادہ تو حکومتی خزانے میںپہنچنے سے پہلے ہی خرد برد کرلیا جاتا ہے۔ حیران کن طور پر حکومتیں یہ سمجھنے کو تیار نہیںکہ ٹیکس کولیکڑ جو چند ہزار روپے کا ملازم ہے وہ کیونکر سرکار کو لاکھوں میں روپے اکھٹے کرکے دے گا چنانچہ اکثر وبیشتر ٹیکس اکھٹا کرنے والے خود باآسانی کرپشن کا مرتکب ہوگیا۔ دوسری جانب ٹکیس جمع کرنے کے دیگر عہدیدار بھی عمومی طور پر اپنے فرائض منصبی سے غفلت برتنے کے مرتکب دکھائی دئیے
معاملہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکس دیتا ہے بدلے میں اس کو ناکافی سہولیات میسر ہیں، مثلا وہ جب اپنے بچوں کو کسی سرکاری سکول میںداخل دینے کے لیے لے جاتا ہے تو ناکافی سہولیات اسے بیزار کرنے کے لیے کافی ہوتی ہیں، علاج معالجے کے لیے بھی سرکاری ہسپتالوںمیں اس کا جو حال ہوتا ہے وہ ہرگز اسے ٹیکس دینے پر آمادہ نہیں کرتا چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ معاملہ ہرگز اس قدر آسان نہیں جتنا کہ اسے بعض حلقے بنا کر پیش کررہے ہیں۔ یقینا دنیا بھر میں ٹیکس کی وصولی کو عملا ریاست کی رٹ کی سمجھا جاتا ہے ، عصر حاضر کی کسی بھی مہذب ریاست کے باسی یہ تصور نہیں کرسکتے کہ وہ اپنے زمے واجب الادا ٹیکس نہ دے کر باآسانی رہ لیں گے ۔
عمران خان کو بہرکیف اس کا کریڈٹ دینا چاہے کہ وہ مشکل، پچیدہ اور پرانے قومی مسلہ کو حل کرنے کے لیے میدان عمل میں آئے ہیں، ایک سیاسی حکومت کے لیے ہرگز آساں نہیں کہ وہ عام شہریوں کے ساتھ ساتھ بااثر افراد سے بھی ٹکراو کی پالیسی اختیار کرلے ۔ بلاشبہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بدستور مسائل کا شکار ہے ایک طرف اس پر عالمی مالیاتی اداروں کا دباو ہے تو دوسری جانب 2018 کے الیکشن میں شکست سے دوچار ہونے والی جماعتیں بھی مختلف حلیے بہانوں سے اس کے لیے مسائل پیدا کررہیں۔ آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے میں مسلم لیگ ن بدستور یہ تاثر دینے کے لیے کوشاں ہے کہ پی ٹی آئی پانچ دریاوں کی سرزمین پر حکومت کرنے کا جواز نہیں رکھتی، آسان الفاظ میں یوں کہ پاکستان تحریک انصاف کی پنجاب میں حکومت دھاندلی کی پیدوار ہے ، پی ایم ایل این کا دکھ یہ ہے کہ شریف فیملی کئی 35سال سے زائد عرصہ سے پنجاب کی سیاست میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی رہی۔ پنجاب ہی بدولت میاں نوازشریف تین مرتبہ وزیراعظم اور ان کے بھائی شہبازشریف وزرات اعلی کا منصب حاصل کرتے رہے ، پانامہ لیکس میں شریف فیملی کا نام آنے کے بعد یہ راز کھل گیا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت نے سیاست کو اپنے کاوربار چمکانے اور بڑھانے کے لیے استمال کیا یعنی شریف خاندان نے اقتدار میں رہ کر اپنے اثاثے کئی براعظموں تک پھیلا دئیے۔ کون نہیں جانتا کہ نوازشریف ہر بار وزیر اعظم ہونے کے باوجود عید لندن میںمناتے رہے۔ مبصرین کا کہنا غلط نہیںکہ نوازشریف چونکہ خود کاروباری شخصیت ہیں چنانچہ انھوں نے ممکن حد تک تاجر برداری کے مفاد کو مقدم جانا۔ کہا جاسکتا ہے کہ اگر نوازشریف ٹیکس کے معاملہ میں ملک کی برنس کمیونٹی کو کوئی رعایت نہ دیتے تو شائد آج صورت حال مختلف ہوتی ۔ وزیر اعظم عمران خان کی نیک پر شک نہیں کیا جاسکتا ہے مگر حکومت جس طرح مسقبل قریب میںٹیکس اکٹھا کرنے کے دعوے کررہی اس ہدف کی تکمیل کسی طور پر آساں نہیں۔

Scroll To Top