تمہےں قوم سلام کرتی ہے محمد علی! 02-04-2015

اسلام آباد کے سابق اےس اےس پی محمد علی نےکوکارا کی برطرفی کا حکمنامہ جاری کردےا گےا ہے مجھے حےرت ہے کہ اس پورے کےس کو مےڈےا مےں زےادہ اہمےت کےوں نہےں ملی جب کہ مےری رائے مےں پولےس کے اِس افسر کو ہر لحاظ سے ضمےر کا قےدی شمار کےا جانا چاہےے۔
مےں کےس کی تفصےلات نہےں جانتا مگر اتنا جانتا ہوں کہ اس پولےس افسر نے دھرنے کے دوران اےک اےسا حکم ماننے سے انکار کردےا تھا جو اےک لحاظ سے جلےاں والا باغ کے بدنامِ زمانہ جنرل ڈائر کے حکم سے ملتا جلتا تھا۔
اگر وطن عزےز مےں اصولوں اور اخلاقےات کا راج ہوتا ےا راج مےں اصولوں اور اخلاقےات کو تھوڑا بہت عمل دخل بھی ہوتا تو محمد علی نےکوکارا کو کم از کم تحسےن کی سند ضرور ملتی۔ مگر ےہاں قانون کی حکمرانی نہےں چلتی، حکمرانوں کا قانون چلتا ہے۔
مجھے ائےر مارشل اصغر خان کا وہ واقعہ ےاد آرہا ہے جس مےں انہوں نے ©”رائل اےئر فورس“ کے اےک جونےئر افسر کی حےثےت سے حروں کے اےک قافلے پر بمباری کرنے سے انکار کر دےا تھا۔ ےہ قےام پاکستان سے پہلے کی بات ہے ۔ متذکرہ انکار پر اصغر خان صاحب کا کورٹ مارشل ہوا۔ اصغر خان صاحب نے ےہ موقف اختےار کےا کہ مجھے مسلح لوگوں پر حملہ کرنے کا حکم ملا تھا مگر قافلے مےں زےادہ تر عورتےں تھےں بچے تھے اور بوڑھے تھے مےرے ضمےر نے مجھے بمباری کرنے سے روک دےا۔
کورٹ مارشل کا فےصلہ ےہ ہوا کہ اےک غےر قانونی اور غےر انسانی حکم کو مسترد کرنا اصغر خان صاحب کا پےدائشی حق تھا۔
”برطانوی حکومت ابھی اتنی کمزور نہےں ہوئی کہ اپنی بقا کے لئے بچوں بوڑھوں اور عورتوں کو نشانہ بنائے ۔“ جج نے اپنے فےصلے مےں لکھا۔
مگر محمد علی نےکوکارا نہےں جانتے تھے کہ ےہ حکومت ہی کھوکھلی نہےں ، پورا نظام کھوکھلا ہوچکا ہے اور اپنی بقا کی جنگ مےں انسانی اقدار کا جنازہ نکالنے سے بھی گرےز نہےں کرے گا۔
Hats off to you
Mohammad Ali!

Scroll To Top